سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، وَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا، زَادَ وَهْبٌ: ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے فرمایا: ”لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں (گھوڑوں اور اونٹوں کو) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع (مزدلفہ) آئے، (وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے): پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا: ”لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے (دوڑتے) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1920]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو بڑے آرام اور سکون سے چلے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو! آرام سے چلو، نیکی گھوڑے اور اونٹ دوڑانے میں نہیں۔“ سو میں نے دیکھا کہ (کوئی بھی سواری) اپنے دونوں (اگلے) پاؤں اٹھا کر نہ دوڑ رہی تھی حتیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہب نے مزید کہا: پھر آپ نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: ”لوگو! نیکی گھوڑے اور اونٹ دوڑانے میں نہیں، سکون سے چلو۔“ اور میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی سواری اپنے دونوں پاؤں اٹھا کر چل رہی ہو۔ حتیٰ کہ آپ منیٰ میں آ گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6470)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 22 (1544)، صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 204 (3022)، مسند احمد (1/235، 251، 269، 277، 326، 353، 371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش والحكم بن عتيبة مدلسان وعنعنا
وحديث البخاري (1678) ومسلم (1293) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
إسناده ضعيف
الأعمش والحكم بن عتيبة مدلسان وعنعنا
وحديث البخاري (1678) ومسلم (1293) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ، وَمَا قَالَ زُهَيْرٌ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، قَالَ: رَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ وَصَلَّى، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ". زَادَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا؟ وہ بولے: ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی، پھر پیشاب کیا، (زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز، (پڑھی جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے چل کر (پڑھیں گے)“۔ اسامہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے، (محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں) پھر میں نے پوچھا: صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1921]
جناب کریب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”مجھے یہ بتائیں کہ اس شام جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ لوگوں نے کیسے کیا؟“ انہوں نے بتایا کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جس میں لوگ اپنی سواریاں بٹھاتے ہیں۔ وہ جگہ معرس کہلاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھائی، پھر پیشاب کیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے «أَهْرَاقَ الْمَاءَ» کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ (یعنی ”پانی بہایا“ نہیں کہا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا اور وضو فرمایا جس میں کوئی مبالغہ نہ تھا۔ (یعنی ہلکا وضو کیا، اعضاء کو ایک دو بار دھویا) میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے۔“ (آگے چل کر پڑھیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں نے سواریوں کو اپنے اپنے پڑاؤ پر بٹھایا مگر ان کے (پالان اور کجاوے) نہیں کھولے حتیٰ کہ عشاء کی اقامت کہلوائی اور نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں نے (اپنی سواریوں کو) کھولا۔ محمد بن کثیر نے اپنی روایت میں مزید کہا: میں نے پوچھا: ”جب تم لوگوں نے صبح کی، تو کیسے کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”فضل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کے ان افراد کے ساتھ پیدل چلا گیا جو دیگر لوگوں سے پہلے روانہ ہوئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الحج 207 (3033)، سنن ابن ماجہ/المناسک 59 (3019)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (139)، والحج 95 (1666)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن الترمذی/الحج 54 (885)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، مسند احمد (5/200، 202، 208،210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1280)
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: ”لوگو! اطمینان سے چلو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1922]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر درمیانی چال «الْعَنَقُ» (عنق) سے روانہ ہوئے اور لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو پیٹ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور فرما رہے تھے: ”لوگو! سکون کے ساتھ!“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوئے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 554 (885)، (تحفة الأشراف: 10229)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/72، 75، 76، 81) (حسن)» (مگر «لا یلتفت» کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ «یلتفت» ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله لا يلتفت والمحفوظ يلتفت وصححه الترمذي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (885) وانظر الحديث الآتي (1935)
سفيان الثوري مدلس وعنعن
وحديث أحمد (1/ 76) سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
إسناده ضعيف
ترمذي (885) وانظر الحديث الآتي (1935)
سفيان الثوري مدلس وعنعن
وحديث أحمد (1/ 76) سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
حدیث نمبر: 1923
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ:" كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ"، قَالَ هِشَامٌ: النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: «نص»، «عنق» سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1923]
جناب عروہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، اور میں (اس مجلس میں) بیٹھا تھا، کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں جب عرفہ سے روانہ ہوئے تھے تو کس رفتار سے چلے تھے؟“ انہوں نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی رفتار «الْعَنَقُ» (عنق) سے چلے تھے۔ جب کوئی فراخی پاتے تو قدرے تیز ہو جاتے۔“ ہشام نے کہا کہ ” «النَّصُّ» (نص) والی رفتار «الْعَنَقُ» (عنق) سے قدرے تیز تر ہوتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، والجہاد 136 (2999)، والمغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1286)، سنن النسائی/الحج 205 (3026)، 214 (3054)، سنن ابن ماجہ/المناسک 58 (3017)، (تحفة الأشراف: 104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 57(176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1666) صحيح مسلم (1286)
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ:" كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا جب سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1924]
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، جب سورج غروب ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے (یعنی عرفات سے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 117) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1925
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ:" دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ فَتَوَضَّأَ، وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، قُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةُ، فَقَالَ:الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کی روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز (کا وقت ہو گیا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے چل کر پڑھیں گے“، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1925]
کریب مولیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب گھاٹی میں پہنچے تو اترے، پیشاب کیا، پھر وضو کیا مگر اس میں مبالغہ نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا: ”نماز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے۔“ (یعنی آگے پڑھیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ جب مزدلفہ پہنچے، تو اترے وضو کیا اور کامل وضو کیا۔ پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ہر شخص نے اپنے اپنے اونٹ کو اپنے اپنے پڑاؤ میں بٹھایا، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان کے مابین کچھ نہیں پڑھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 35 (139)، والحج 95 (1666)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن النسائی/ الحج 206 (3027، 3028)، سنن الترمذی/الحج 54 (885)، (تحفة الأشراف: 115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/199، 208، 210) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن، صحيح بخاري (1672) صحيح مسلم (1280 بعد ح 1285)
مشكوة المصابيح (2616)
1925 ب: إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2616)
1925 ب: إسناده حسن
جناب شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عرفات سے) روانہ ہوا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں نے زمین کو نہیں چھوا حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1925M]
قال الشيخ زبير على زئي: