المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
271. احْتِمَالُ الْمَشَقَّةِ فِي طَلَبِ الْحَدِيثِ
حدیث حاصل کرنے میں مشقت برداشت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3679
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همّام بن يحيى، عن القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: بَلَغَني حديثٌ عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ سَمِعَه من رسول الله ﷺ في القِصَاص لم أسمَعْه، فابتعتُ بعيرًا فشَدَدتُ عليه رَحْلي ثم سِرتُ إليه شهرًا حتَّى قَدِمتُ مصرَ، فأتيتُ عبدَ الله بنَ أُنيس فقلتُ للبوَّاب: قل له: جابرٌ على الباب، فقال: ابنُ عبد الله؟ فقلت: نعم، فأتاه فأخبره، فقام يَطَأُ ثوبَه حتَّى خرج إليَّ فاعتنقَني واعتنقتُه، فقلت له: حديثٌ بَلَغَني عنك سمعتَه من رسول الله ﷺ ولم أسمَعْه في القِصَاص، فخَشِيتُ أن أموتَ أو تموتَ قبل أن أسمعَه، فقال عبد الله: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يَحشُرُ الله العبادَ - أو قال: الناسَ - عُراةً غُرْلًا بُهْمًا" قال: قلنا: ما بُهْمًا؟ قال:"ليس معهم شيءٌ، ثم يُناديهم بصوتٍ يسمعُه مَن بَعُدَ كما يسمعُه مَن قَرُبَ: أنا المَلِك، أنا الدَّيّان، لا ينبغي لأحدٍ من أهل الجنة أن يَدخُلَ الجنةَ، ولا ينبغي لأحدٍ من أهل النار أن يَدخُلَ النارَ، وعنده مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، حتَّى اللَّطْمةَ" قال: قلنا: كيف، وإنما نأتي اللهَ غُرْلًا بُهْمًا؟ قال:"بالحسَناتِ والسيِّئات". قال: وتَلَا رسولُ الله ﷺ: ﴿الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ﴾ [غافر: 17] (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3638 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3638 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کے متعلق پتہ چلا کہ اس نے قصاص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سن رکھی ہے لیکن وہ حدیث میں نے نہیں سنی تھی۔ تو میں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ باندھا پھر پورا ایک مہینہ سفر کیا اور مصر میں پہنچا۔ میں عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے گھر گیا۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہیں کہ دروازے پر جابر ہے۔ اس نے پوچھا: ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ دربان ان کے پاس گیا اور ان کو بتایا وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے کپڑے سمیٹ کر میری طرف باہر نکل آئے، ہم ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے، پھر میں نے ان سے کہا: مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ قصاص کے متعلق آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سن رکھی ہے جبکہ میں نے وہ ابھی تک نہیں سنی۔ مجھے یہ خدشہ ہوا کہ کہیں وہ حدیث سننے سے پہلے میری یا تمہاری موت واقع نہ ہو جائے۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ننگے، غیر ختنہ شدہ ” بھما “ اٹھائے گا۔ (عبداللہ) فرماتے ہیں: میں نے پوچھا:” بھم “ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی۔ پھر ان کو ایسی آواز میں ندا دی جائے گی جو قریب و بعید سے ایک جیسی سنی جائے گی (کہنے والا کہے گا) میں بادشاہ ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں، کوئی جنتی جنت میں اور کوئی دوزخی دوزخ میں نہیں جائے گا، جب تک کہ میں ان کو تھپڑ تک کا قصاص نہ دلوا دوں (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: ہم نے کہا: یہ (قصاص) کیسے ہو گا؟ کیونکہ ہم غیر مختون اور خالی ہاتھ ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ (المومن: 17) ” آج ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے گی آج کسی پر زیادتی نہیں۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3679]