🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

304. لَا تُبَاعُ أُمُّ حُرٍّ فَإِنَّهَا قَطِيعَةٌ
آزاد ماں کو بیچا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ قطعِ رحمی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3750
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستَويهِ الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان الفارسي، حَدَّثَنَا يحيى بن يعلى بن الحارث، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بن جامع، عن إبراهيم بن حَرْب، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: كنت جالسًا عند عمر بن الخطَّاب إذ سمع صائحةً، فقال: يا يَرفَأُ، انظُرْ ما هذا الصوتُ، فانطلق فنَظَر، ثم جاء، فقال: جاريةٌ من قريش تُباعُ أمُها، قال: فقال عمر: ادعُ - أو قال: عليَّ بالمهاجرين والأنصار - قال: فلم يَمْكُثْ إِلَّا ساعةً حتَّى امتلأَت الدارُ والحُجْرة، قال: فحَمِدَ الله عمرُ وأثنى عليه، ثم قال: أما بعدُ، فهل تعلمونَه كان مما جاءَ به محمدٌ ﷺ القطيعةُ؟ قالوا: لا، قال: فإنها قد أصبَحَت فيكم فاشيةً، ثم قرأ: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطَّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ [محمد: 22] ، ثم قال: وأيُّ قطيعةٍ أقطعُ من أن تُباعَ أمُّ امرِئٍ فيكم، وقد أَوسَعَ اللهُ لكم؟! قالوا: فاصنَعْ ما بَدَا لك، قال: فكتب في الآفاق أن لا تُباعَ أمُّ حرٍّ، فإنها قطيعة، وإنه لا يَحِلُّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3708 - صحيح
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک چیخ و پکار کی آواز سنائی دی، آپ نے فرمایا: اے یرفا دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ وہ دیکھ کر آئے اور بولے: قریش کی ایک لڑکی ہے، اس کی ماں کو بیچا جا رہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فوراً میرے پاس انصار اور مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلا کر لے آؤ، تھوری ہی دیر میں آپ کا حجرہ اور پوری حویلی لوگوں سے بھر گئی، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا یہ عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں قطع رحمی ہے۔ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ تو تم لوگوں میں پھیل چکا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْآ اَرْحَامَکُمْ (محمد: 22) تو کیا تمہارے یہ لچھن (انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ پھر فرمایا: اس سے بڑھ کر قطع رحمی کیا ہو گی کہ تم میں ایک شخص کی ماں کو بیچا جا رہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وسعت دی ہے۔ لوگوں نے کہا: آپ جو مناسب سمجھتے ہیں وہ فیصلہ فرما دیں۔ آپ نے یہ قانون بنا دیا کہ کسی آزاد کی ماں کو بیچا نہیں جائے گا کیونکہ یہ قطع رحمی ہے اور یہ جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3750]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں