🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

325. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَمَرِ - انْشِقَاقُ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ بِمَكَّةَ
سورۂ القمر کی تفسیر: مکہ میں چاند کا دو مرتبہ شق ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3798
أخبرنا أبو منصور محمد بن عُبيد الله الفارسي، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا محمد بن سابق (2) ، حَدَّثَنَا إسرائيل، حَدَّثَنَا سِمَاك بن حَرْب، عن إبراهيم النَّخَعي، عن الأسود بن يزيد، عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿وَانشَقَ الْقَمَرُ﴾، قال: رأيت القمرَ وقد انشقَّ، فأَبصرتُ الجبل من بين فَرْجَيِ القمرِ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3756 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَانشَقَ الْقَمَرُ﴾ اور چاند پھٹ گیا [سورة القمر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے چاند کو دیکھا کہ وہ شق ہو چکا تھا اور میں نے پہاڑ کو چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان (گھنی خلا میں) دیکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب. عبد الله: هو ابن مسعود. وأخرجه أحمد 7/ (3924) عن مؤمَّل بن إسماعيل، عن إسرائيل، بهذا الإسناد. وقال فيه: من بين فُرجتَي القمر.» [ترقيم الرساله 3798] [ترقيم الشركة 3777] [ترقيم العلميه 3756]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3799
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيينة ومحمد بن مُسلِم، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن أبي مَعمَر، عن عبد الله بن مسعود قال: رأيت القمرَ منشقًا بشِقَّتين مرتين بمكة قبل مَخرَج النَّبِيِّ ﷺ، شِقّةٌ على أبي قُبَيس، وشِقّةٌ على السُّوَيداء، فقالوا: سَحَرَ القمر، فنزلت ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾، يقول: كما رأيتم القمرَ مُنشقًّا، فإنَّ الذي أخبرتُكم عن اقتراب الساعة حقٌّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث أبي مَعمَر عن عبد الله مختصرًا. و
هذا حديث لا نَستَغني فيه عن متابعة الصحابة بعضِهم لبعض لمُغايَظة أهل الإلحاد، فإنه أولُ آياتِ الشريعة، فنظرتُ فإذا في الباب مما لم يُخرجاه عن عبد الله بن عبّاس وعبد الله بن عَمرو وجُبَير بن مُطعِم ولم يُخرجا منها إلا حديثَ أنس (1) . فأما حديث ابن عبَّاس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3757 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے چاند کو دو مرتبہ دو ٹکڑے ہوتے دیکھا، ایک ٹکڑا جبلِ ابوقبیس پر تھا اور دوسرا سویداء پر، تو لوگوں نے کہا کہ چاند پر جادو کر دیا گیا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا [سورة القمر: 1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس طرح تم نے چاند کو پھٹتے ہوئے دیکھا، اسی طرح قیامت کے قریب ہونے کی جو خبر میں نے تمہیں دی ہے وہ بھی برحق ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ابومعمر کی عبداللہ سے مختصر روایت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ایسی حدیث ہے جس میں ہمیں ملحدین کی تردید کے لیے صحابہ کرام کے ایک دوسرے کی تائید و متابعت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شریعت کے عظیم معجزات میں سے ہے، پس میں نے تحقیق کی تو اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کی مرویات پائیں جنہیں شیخین نے نقل نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح من جهة سفيان بن عيينة، وأما محمد بن مسلم - وهو الطائفي - فإنه ليس بذاك القوي وكان يخطئ ويَهِم، وقد أخطأ هنا بذكر المرتين في الانشقاق، فإنَّ الظاهر أنَّ هذا اللفظ له، بدليل أنَّ كلَّ من روى الحديث عن سفيان بن عيينة لم يذكره فيه وليس هو ...» [ترقيم الرساله 3799] [ترقيم الشركة 3778] [ترقيم العلميه 3757]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح من جهة سفيان بن عيينة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں