🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

353. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ - شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ
تفسیرِ سورۃ المنافقین — سورۂ منافقین کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3854
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبي سعيد الأَزْدي، حدثنا زيد بن أرقَمَ قال: غَزَوْنا مع رسول الله ﷺ، وكان معنا ناسٌ من الأعراب، فكنا نَبتدِرُ الماءَ، وكان الأعرابُ يَسبِقونا، فيَسبِقُ الأعرابيُّ أصحابَه فيملأُ الحوضَ، ويجعل حولَه حجارةً ويجعل النِّطعَ عليه حتى يجيءَ أصحابُه، فأتى رجلٌ من الأنصار الأعرابيَّ فأَرخَى زِمامَ ناقته لتشربَ، فأَبى أن يَدَعَه، فانتَزَع حَجَرًا ففاضَ، فرفع الأعرابيٌّ خشبةً فضرب بها رأسَ الأنصاري فشَجَّه، فأتى عبدَ الله بنَ أُبيٍّ رأسَ المنافقين فأخبره، وكان من أصحابه، فغَضِبَ عبدُ الله بن أُبي، ثم قال: لا تُنفِقوا على مَن عندَ رسول الله حتى ينفضُّوا من حوله؛ يعني: الأعرابَ، وكانوا يُحدِّثون رسولَ الله ﷺ عند الطعام، فقال عبد الله لأصحابه: إذا انفضُّوا من عندِ محمد، فأْتُوا محمدًا بالطعام (1) فليأكُلْ هو ومَن عندَه، ثم قال لأصحابه: إذا رجعتُم إلى المدينة، فليُخرِجِ (2) الأعزُّ منها الأذلَّ. قال زيد: وأنا رِدْفُ عمِّي، فسمعتُ عبدَ الله وكنَّا أخوالَه (3) ، فأخبرتُ عمِّي، فانطلق فأَخبر رسولَ الله ﷺ، فأرسل إليه رسولُ الله ﷺ، فحَلَفَ وجَحَدَ، فَصَدَّقه رسولُ الله ﷺ وكذَّبني، فجاء إليَّ عمِّى فقال: ما أردتَ أنْ مَقَتَك رسولُ الله ﷺ وكذَّبَك (4) المسلمون، فوَقَعَ عليَّ من الغمِّ ما لم يَقَعْ على أحدٍ قطُّ. فبَيْنا أنا أسِيرُ مع رسول الله ﷺ في سفرٍ وقد خَفَقَتْ برأسي من الهمِّ، فأتاني رسول الله ﷺ فَعَرَكَ أُذُني وضحك في وجهي، فما كان يَسرُّني أَنَّ لي بها الخُلْدَ أو الدنيا، ثم إنَّ أبا بكر لَحِقَني، فقال: ما قال لك رسولُ الله ﷺ؟ قلت: ما قال لي رسول الله ﷺ شيئًا غيرَ أنْ عَرَكَ أُذني وضحك في وجهي، فقال: أَبشِرْ، ثم لَحِقَني عمر، فقلت له مثلَ قولي لأبي بكر. فلمّا أصبَحْنا قرأَ رسول الله ﷺ سورةَ المنافقين: ﴿قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ﴾ حتى بَلَغَ ﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا﴾ حتى بَلَغَ ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ (1) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج أحرفٍ يسيرة من هذا الحديث من حديث أبي إسحاق السَّبِيعي عن زيد بن أرقمَ، وأخرج البخاري متابِعًا لأبي إسحاق من حديث شُعْبة عن الحَكَم عن محمد بن كعب القُرَظي عن زيد بن أرقمَ، ولم يُخرجاه بطوله، والإسناد صحيح. [64 - ومن تفسير سورة التغابن]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3812 - صحيح وأخرجا منه
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک تھے اور ہمارے ساتھ کچھ اعرابی (دیہاتی) لوگ بھی تھے، ہم پانی حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، اعرابی ہم سے پہلے پہنچ کر اپنے ساتھیوں کے لیے حوض بھر لیتے اور اس کے گرد پتھر رکھ کر اوپر چمڑے کا دسترخوان (نطع) بچھا دیتے تاکہ ان کے دیگر ساتھی آ جائیں۔ اسی دوران ایک انصاری شخص ایک اعرابی کے پاس آیا اور اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی سکے، مگر اعرابی نے اسے روک دیا۔ انصاری نے ایک پتھر ہٹایا تو پانی بہہ نکلا، جس پر اعرابی نے لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری اور اسے زخمی کر دیا۔ وہ انصاری شخص منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا اور اسے سارا واقعہ سنایا۔ عبداللہ بن ابی غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے ہٹ جائیں۔ یعنی ان اعرابیوں پر، اور وہ لوگ کھانا کھاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے تھے، تو عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب یہ لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے ہٹ جائیں، تو تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس کھانا لانا تاکہ وہ اور ان کے ساتھ والے کھا سکیں۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر ہم مدینہ واپس لوٹے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ زید کہتے ہیں: میں اس وقت اپنے چچا کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ کی یہ باتیں سن لیں اور میں اس کا بھانجا تھا، چنانچہ میں نے اپنے چچا کو بتا دیا اور انہوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو بلا بھیجا مگر اس نے قسمیں کھائیں اور انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سچ مان لی اور مجھے جھوٹا قرار دیا، تو میرے چچا نے مجھ سے کہا: تم نے تو یہی چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے ناراض ہو جائیں اور مسلمان تمہیں جھوٹا سمجھنے لگیں۔ یہ سن کر مجھے اتنا غم ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اسی دوران میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا اور میرا سر غم کی وجہ سے جھکا ہوا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان (محبت سے) ملا اور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے، مجھے اس مسکراہٹ کے بدلے اگر دائمی زندگی یا پوری دنیا مل جاتی تب بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا بس میرا کان ملا اور مسکرائے، انہوں نے کہا: خوشخبری ہو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ ملے تو میں نے انہیں بھی ویسا ہی بتایا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ منافقون کی تلاوت فرمائی: ﴿قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ﴾ سے لے کر ﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا﴾ اور پھر ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] تک۔
شیخین نے اس حدیث کے کچھ مختصر جملے ابواسحاق سبیعی عن زید بن ارقم کی سند سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور امام بخاری نے شعبہ کی سند سے محمد بن کعب قرظی کی متابعت بھی بیان کی ہے، مگر انہوں نے اسے اس طوالت کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ یہ اسناد صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث: «غريب بهذا السياق، انفرد به السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - عن أبي سعيد الأزدي، والسدي صدوق حسن الحديث، إلّا أنَّ له أوهامًا تقع في بعض حديثه، وأبو سعيد - ويقال: أبو سعد - الأزدي ليس بذاك المشهور، روى عنه غير واحد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقد خولف في لفظه.» [ترقيم الرساله 3854] [ترقيم الشركة 3833] [ترقيم العلميه 3812]

الحكم على الحديث: غريب بهذا السياق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں