المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
363. شَهَادَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ مَعَ وَلَدِهَا، وَتَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ
فرعون کی بیٹی کی ماشطہ اور اس کے بچوں کی شہادت، اور چار بچوں کا بولنا
حدیث نمبر: 3877
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا أُسرِيَ بي مرَّت بي رائحةٌ طيِّبةٌ، فقلت: ما هذه الرائحةُ؟ قالوا: هذه رائحةُ ماشطةِ ابنةِ فرعونَ وأولادِها، كانت تَمشُطُها فوقع المُشْطُ من يدها، فقالت: باسم الله، فقالت ابنته: أَبي؟ فقالت: لا، بل ربِّي وربُّكِ وربُّ أبيك، فقالت: أُخبِرُ بذلك أَبي، قالت: نعم، فأخبرته، فدَعَا بها وبولدِها، فقالت: لي إليكَ حاجةٌ، فقال: ما هي؟ قالت: تَجمَعُ عِظامي وعِظامَ ولدي فتَدفِنُه جميعًا، فقال: ذلكِ لكِ علينا من الحقِّ، فأَتى بأولادها، فأَلقى واحدًا واحدًا حتى إذا كان آخرُ ولدها وكان صبيًّا مُرضَعًا، فقال: اصبِري يا أَمَّاهُ، فَإِنَّكِ على الحق، ثم أُلقِيَت مع ولدِها"؛ قال رسول الله ﷺ:"تَكلَّم أربعةٌ وهم صِغَار: هذا، وشاهدُ يوسفَ، وصاحبُ جُرَيج، وعيسى ابن مريمَ ﵇" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3835 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3835 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات مجھ پر ایک عمدہ ہوا گزری، میں نے پوچھا: یہ ہوا کیسی ہے؟ (ملائکہ علیہم السلام نے) کہا: یہ ہوا فرعون کی بیٹی اور اس بیٹی کی اولاد کی کنگھی کیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی اس نے کہا: بسم اللہ۔ (اللہ کے نام سے) فرعون کی بیٹی نے کہا: (تو نے جو اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہے اس سے مراد) میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ میرا رب اور تیرا رب اور تیرے باپ کا رب (مراد ہے) اس نے کہا: میں یہ بات اپنے باپ کو بتاؤں؟ اس نے کہا: بتا دو۔ اس نے فرعون کو یہ بات بتا دی، فرعون نے اس کو اس کے بچوں سمیت بلوا لیا۔ اس نے فرعون سے کہا: مجھے تجھ سے ایک ضروری کام ہے۔ اس نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا (جب تو ہمیں مار چکے تو) میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں جمع کر کے اکٹھی ایک جگہ پر دفن کر دینا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تیرا ہم پر حق ہے۔ اس نے اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے مار دیا۔ جب آخری بچے کو مارنے لگا، یہ شیرخوار بچہ تھا تو اس نے اپنی ماں سے کہا: اے میری امی! تو صبر کرنا کیونکہ تو حق پر ہے۔ پھر اس بچے کو اور اس کی ماں کو قتل کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچپن میں چار بچوں نے کلام کیا: (1) یہ بچہ۔ (2) وہ بچہ جس نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے حق میں گواہی دی تھی۔ (3) جریج کے متعلق گواہی دینے والا بچہ۔ اور (4) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3877]