المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
378. مَدْحُ كَلَامِ اللَّهِ مِنْ لِسَانِ الْكَافِرِ
کافر کی زبان سے بھی اللہ کے کلام کی تعریف
حدیث نمبر: 3914
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ الوليد بن المُغيرة جاء إلى النبي ﷺ فقرأ عليه القرآن، فكأنه رَقَّ له، فبَلَغَ ذلك أبا جهل، فأتاه فقال: يا عمِّ، إِنَّ قومَك يَرَونَ أَن يَجمَعوا لك مالًا، قال: لِمَ؟ قال: ليُعطوكَه، فإنك أتيتَ محمدًا لتَعرَّضَ لِمَا قِبَلَه، قال: قد عَلِمَت قريشٌ أني من أكثرها مالًا، قال: فقُلْ فيه قولًا يبَلُغ قومَك أنك منكِرٌ له، أو أنك كارهٌ له، قال: وماذا أقول؟ فواللهِ ما فيكم رجلٌ أعلمَ بالأشعار مني، ولا أعلمَ برَجَزِه ولا بقَصيدِه (2) مني، ولا بأشعار الجنِّ، واللهِ ما يُشبِهُ الذي يقول شيئًا من هذا، ووالله إنَّ لقولِه الذي يقول حلاوةً، وإنَّ عليه لطَلاوةً، وإنه لمثمِرٌ أعلاه، مُغدِقٌ أسفلُه (3) ، وإنه لَيَعلُو وما يُعلَى، وإنه ليَحطِمُ ما تحتَه (4) ، قال: لا يرضى عنك قومُك حتى تقولَ فيه، قال: فدَعْني حتى أفكِّر، فلما فَكَّرَ قال: هذا سِحْرٌ يُؤثَر، يَأْثُره عن غيره، فنزلت: ﴿ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا﴾ [المدثر: 11] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3872 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3872 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی، (جسے سن کر) اس کا دل کچھ نرم پڑ گیا، جب یہ خبر ابوجہل کو پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے چچا! آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنے کا ارادہ کر رہی ہے، اس نے پوچھا: کیوں؟ ابوجہل نے کہا: تاکہ وہ آپ کو دیں، کیونکہ آپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ان سے کچھ حاصل کرنے کی غرض سے گئے تھے، ولید نے کہا: قریش جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں، ابوجہل نے کہا: پھر آپ ان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں ایسی بات کہیں جس سے آپ کی قوم کو معلوم ہو جائے کہ آپ ان کا انکار کرتے ہیں یا انہیں ناپسند کرتے ہیں، اس نے کہا: میں کیا کہوں؟ اللہ کی قسم! تم میں کوئی بھی مجھ سے بڑھ کر اشعار کو جاننے والا نہیں ہے، اور نہ ہی مجھ سے زیادہ کوئی ان کے رجز، قصیدے یا جنوں کے اشعار کا علم رکھتا ہے، اللہ کی قسم! جو وہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتے ہیں وہ ان میں سے کسی چیز کے مشابہ نہیں ہے، اور اللہ کی قسم! ان کے اس کلام میں ایک مٹھاس ہے، اس پر ایک رونق اور خوبصورتی ہے، اس کا اوپر والا حصہ پھل دار اور نچلا حصہ فیض رساں ہے، یہ کلام سب پر غالب رہتا ہے اور اس پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتی، اور یہ اپنے سے نیچے کی تمام چیزوں کو روند ڈالتا ہے، ابوجہل نے کہا: آپ کی قوم آپ سے تب تک راضی نہیں ہوگی جب تک آپ ان کے بارے میں (کوئی منفی) بات نہ کہیں، ولید نے کہا: مجھے مہلت دو تاکہ میں سوچ لوں، پس جب اس نے غور کیا تو کہنے لگا: یہ تو جادو ہے جو (پچھلوں سے) نقل کیا گیا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا﴾ [سورة المدثر: 11] ”آپ مجھے اور اسے چھوڑ دیجیے جسے میں نے تنہا پیدا کیا ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3914]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3914] [ترقيم الشركة 3893] [ترقيم العلميه 3872]