المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
411. تَفْسِيرُ سُورَةِ (أَلَمْ نَشْرَحْ)- وَاقِعَةُ شَقِّ صَدْرِ النَّبِيِّ
تفسیر سورہ الم نشرح - نبی کریم ﷺ کے سینہ مبارک کے چاک کیے جانے (واقعۂ شقِ صدر) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 3993
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا أبو مُسلِم ومحمد بن يحيى القزَّاز قالا: حدَّثنا حَجَّاج بن المِنهال، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابتٌ البُنَاني، عن أنس بن مالك: أن رسول الله ﷺ أتاه جبريلُ وهو يلعبُ مع الصِّبيان، فأَخَذَه فصَرَعَه فشَقَّ عن قلبِه، فاستَخرَج منه عَلَقةً، فقال: هذا حظُّ الشيطان منك، قال: فغَسَلَه في طَسْتٍ من ذهب بماءِ زمزمَ ثم لأَمَه ثم أعاده في مكانه، قال: وجاء الغِلمانُ يَسعَونَ إلى أُمَّه - يعني ظِئْرَه - فقالوا: إنَّ محمدًا قد قُتِل (1) ، فأقبَلَت ظئره تريده، فاستقبلها راجعًا وهو مُنتقِعُ اللون. قال أنس: وقد كنَّا نَرى أثرَ المِخْيَطِ في صدرِه (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! وقد صحَّت الروايةُ عن عمر بن الخطَّاب وعلي بن أبي طالب: لن يَغلِبَ عُسرٌ يُسرَينِ (3) . وقد رُوِيَ بإسنادٍ مُرسَلٍ عن النبي ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3949 - صحيح على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3949 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ بچوں کے ہمراہ کھیل رہے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے آپ کو پکڑ کر لٹا لیا اور آپ کا سینہ چاک کیا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکالا اور بولے: یہ تمہارے اندر شیطان کا حصہ ہے۔ پھر انہوں نے سونے کے ایک تھال میں رکھ کر آب زم زم کے ساتھ اسے دھویا پھر اس کو سمیٹ کر دوبارہ اپنے مقام پر رکھ دیا۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: بچے دوڑتے ہوئے آپ کی رصاعی والدہ کے پاس آئے اور بولے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے تو آپ کی رضاعی والدہ ان کی تلاش میں نکل پڑیں، اس وقت آپ واپس گھر آ رہے تھے، اس وقت گھبراہٹ کے ساتھ آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے خود آپ کے سینہ اقدس پر سلائی کے نشانات دیکھے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صحیح سند کے ہمراہ منقول ہے کہ ایک مشقت کبھی بھی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی اور ایک مرسل سند کے ہمراہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3993]
حدیث نمبر: 3994
أخبرَناه محمد بن علي الصَّنعاني، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الصَّنعاني، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمَر، عن أيوب، عن الحسن في قول الله ﷿: ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ قال: خرج النبيُّ ﷺ يومًا مسرورًا فَرِحًا وهو يضحكُ، وهو يقول:"لن يَغلِبَ عسرٌ يُسرَينِ ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾" (1) . 95 - تفسير سورة (والتِّين) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3950 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3950 - مرسل
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ” بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہشاش بشاش اور خوش خوش مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور آپ فرما رہے تھے: ”لَنْ یَّغْلِبَ عُسْرٌ یُّسْرَیْن“ ” ایک مشقت کبھی بھی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔“ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ” بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے، بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3994]