🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. نَقْلُ عِظَامِ يُوسُفَ مِنْ مِصْرَ فِي عَهْدِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیوں کو مصر سے منتقل کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4132
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن عِمران الأخنسي، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى: أن رسول الله ﷺ نَزَل بأعرابيٍّ فأكرمَه، فقال له:"يا أعرابيُّ، سَلْ حاجتَك"، قال: يا رسول الله، ناقةٌ برَحْلِها، وأعنُزٌ يَحلُبها أهلي، قالها مرتين، فقال له رسول الله ﷺ:"أعجَزْتَ أن تكون مثلَ عجُوزِ بني إسرائيل؟"، فقال له أصحابه: يا رسول الله، وما عَجوزُ بني إسرائيل؟ قال:"إنَّ موسى أراد أن يَسيرَ ببني إسرائيل، فأضَلَّ عن الطريق، فقال له عُلماءُ بني إسرائيل: نحن نُحدِّثك: إنَّ يوسف أخذ علينا مَواثيقَ اللهِ أن لا نَخرُج من مصرَ حتى نَنقُلَ عِظامَه معنا، قال: وأيكم يدري أين قبرُ يوسف؟ قالوا: ما ندري أين قبرُ يوسفَ إلّا عجوزُ بني إسرائيل، فأرسل إليها، فقال لها: دُلِّيني على قبر يوسف، قالت: لا والله لا أفعَلُ حتى أكونَ معك في الجنة، قال: وكَرِه رسولُ الله ما قالت، فقيل له: أعطِها حُكمَها، فأعطاها حُكمَها، فأتت بُحَيرةً، فقالت: أَنضِبُوا هذا الماءَ، فلما نَضَّبُوه، قالت: احفِرُوا هاهنا، فلما حَفَروا إذا عظامُ يُوسفَ، فلما أقلُّوها من الأرض فإذا الطريقُ مثلُ ضَوْء النهارِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی (دیہاتی) کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تکریم کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے اعرابی! اپنی کوئی ضرورت مانگو۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک اونٹنی مع کجاوہ کے اور کچھ بکریاں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ سکیں۔ اس نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت کی طرح بننے سے بھی عاجز ہو گئے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کا کیا واقعہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لے کر (مصر سے) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ راستہ بھول گئے۔ بنی اسرائیل کے علماء نے ان سے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں، دراصل حضرت یوسف علیہ السلام نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم جب بھی مصر سے نکلیں تو ان کی ہڈیاں (یعنی جسد خاکی) اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کے سوا ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس سے فرمایا: مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر کا راستہ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ نہ ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اس کا یہ مطالبہ گراں گزرا، تو آپ کو (اللہ کی طرف سے) کہا گیا: اس کا مطالبہ مان لیجیے۔ چنانچہ آپ نے اس کا مطالبہ پورا کر دیا۔ پھر وہ ایک چھوٹی جھیل کے پاس آئی اور کہنے لگی: اس کا پانی نکال دو۔ جب انہوں نے پانی نکال دیا تو اس نے کہا: یہاں کھدائی کرو۔ جب انہوں نے کھودا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کا جسد خاکی موجود تھا۔ جب انہوں نے اسے زمین سے نکالا تو راستہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4132]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وأحمد بن عمران الأخنسي متابع كما تقدم برقم (3565).»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4133
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني الحسين بن علي السُّلَمي، حدثني محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: كان عِلمُ الله وحِكمتُه في وَرَثة إبراهيم، فعند ذلك أتى اللهُ يوسفَ بنَ يعقوب مُلكَ الأرض المقدّسة، فمَلَكَ اثنتين وسبعين سنة، وذلك قوله فيما أنزل من كتابه: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ الآية [يوسف: 101] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4089 - لم يصح
محمد بن جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ کا علم اور اس کی حکمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء میں تھی۔ چنانچہ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارضِ مقدس کی بادشاہت عطا فرمائی، اور انہوں نے بہتر (72) سال تک حکمرانی کی۔ اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے جو اس نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ اے میرے رب! بلاشبہ تو نے مجھے حکومت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے باتوں (خوابوں) کی تعبیر کا علم سکھایا۔ [سورة يوسف: 101] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4133]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّةٍ، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4055)، ولهذا قال الذهبي عن هذا الخبر في "تلخيصه": لم يصح.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّةٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں