🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. رَفْعُ نَعْشِ هَارُونَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نُزُولُهُ بِدُعَاءِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت ہارون علیہ السلام کے جنازے کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس کا واپس آنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4154
حدثنا محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، في خبر ذَكَره عن أبي مالك، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، وعن ناسٍ من أصحاب النبي ﷺ: أن الله أوحَى إلى موسى بن عِمران أني مُتَوفٍّ هارون فائتِ به جَبَلَ كذا وكذا، فانطلَقَ موسى وهارون نحو ذلك الجبل، فإذا هم فيه بشجرةٍ لم يُرَ شجرةٌ مثلُها، وإذا هم ببيتٍ مَبنيٍّ، وإذا هم فيه بسَريرٍ عليه فَرْشٌ، وإذا فيه رِيحٌ طَيِّبٌ، فلما نظر هارون إلى ذلك الجبل والبيتِ وما فيه أعجَبَه، قال: يا موسى، إنِّي لأحِبُّ أن أنامَ على هذا السَّرير، قال له موسى: فنَمْ عليه، قال: إني أخافُ أن يأتيَ ربُّ هذا البيتِ فيغضبَ علَيَّ، قال له موسى: لا تَرْهَب، أنا أكفيكَ ربَّ هذا البيت فنَمْ، فقال: يا موسى، بل نَمْ معي، فإن جاء ربُّ هذا البيت غَضِبَ علَيَّ وعليك جميعًا، فلما ناما أَخَذَ هارونَ الموتُ، فلما وَجَدَ حِسَّه، قال: يا موسى، خَدَعْتَني، فلما قُبِضَ رُفِع ذلك البيتُ، وذهبتْ تلك الشَجرةُ، ورُفِعَ السريرُ إلى السماء، فلما رَجَعَ موسى إلى بني إسرائيل وليس معه هارون، قالوا: إنَّ موسى قتل هارون وحَسَده حُبَّ بني إسرائيل له، وكان هارون أكفَّ عنهم وألْينَ لهم من موسى، كان في موسى بعضُ الغِلَظِ عليهم، فلما بلغه ذلك قال لهم: وَيحَكُم إنه كان أخي، أفترَوني أقتُلُه؟ فلما أكثَروا عليه قام فصلَّى ركعتَين، ثم دعا الله فنزَل بالسريرِ، حتى نَظَروا إليه بين السماء والأرض، فصدَّقُوه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4109 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں ہارون علیہ السلام کو وفات دینے والا ہوں، اس لئے اس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے آؤ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سیدنا ہارون علیہ السلام کو ہمراہ لے کر اس پہاڑ پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ایک درخت دیکھا جو ایک مکان کی طرح تھا۔ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو ایک چارپائی پر موجود پایا جس کے اوپر بستر بچھا ہوا تھا اور اس سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی تھی۔ جب سیدنا ہارون علیہ السلام نے وہ پہاڑ اور مکان اور جو کچھ اس میں تھا اس کو دیکھا تو یہ سب ان کو بہت اچھا لگا اور بولے: اے موسیٰ علیہ السلام میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اس چارپائی پر سو جاؤں، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: سو جائیے۔ سیدنا ہارون علیہ السلام نے کہا: لیکن مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر اس گھر کا مالک آ گیا تو وہ مجھ پر ناراض ہو گا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کی آپ فکر نہ کریں، اس سے میں خود نمٹ لوں گا۔ آپ سو جائیے۔ وہ بولے! آپ بھی میرے ساتھ لیٹیں تاکہ اگر اس گھر کا مالک آئے تو ہم دونوں پر ناراض ہو۔ جب وہ دونوں سو گئے تو سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ جب انہوں نے اپنی موت کو محسوس کر لیا تو بولے: اے موسیٰ علیہ السلام! تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ جب ان کی روح قبض ہو گئی تو وہ مکان اوپر اٹھا لیا گیا اور وہ درخت بھی چلا گیا اور وہ چارپائی آسمانوں کی طرف اٹھا لی گئی۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام واپس بنی اسرائیل کی طرف آئے اور ان کے ہمراہ سیدنا ہارون علیہ السلام نہ تھے تو وہ ولے: بنی اسرائیل کی ہارون علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے حسد میں آ کر موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ بنی اسرائیل، ہارون علیہ السلام سے بہت الفت رکھتے تھے اور ویسے بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت آپ نرم مزاج تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت میں کچھ سختی تھی۔ جب آپ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا: وہ تو میرے بھائی تھے، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے؟ جب ان لوگوں کی طرف سے یہ الزام زور پکڑ گیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے وہ چارپائی اتار دی اور ان لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے زمین اور آسمان کے درمیان دیکھا۔ تب انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بات کا اعتبار کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4154]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4155
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوْهَري، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عَبَّاد بن العَوّام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن عليٍّ في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا﴾ [الأحزاب: 61] ، قال: صَعِد موسى وهارون الجبلَ، فمات هارونُ، فقالت بنو إسرائيل لموسى: أنت قَتلْتَه، كان أشدَّ حُبًّا لنا منك وألْيَنَ لنا منك، فآذَوه في ذلك، فأمر الله الملائكةَ فحمَلَتْه فَمَرُّوا به على مَجالس بني إسرائيل، حتى عَلِمُوا بموته، فدفنُوه، ولم يَعرِفْ قَبرُه إلَّا الرَّخَمُ، وإنَّ الله جعلَه أصَمَّ أبْكَمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة موسى بن عِمران صلوات الله عليه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4110 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ ٰاذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْٓا) (الاحزاب: 69) اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے سیدنا موسیٰ کو تکلیف دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے الزامات سے ان کو بری کر دیا کے متعلق فرماتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام پہاڑ پر چڑھے تو سیدنا ہارون علیہ السلام کا وہاں انتقال ہو گیا، تو بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ محبت تم سے زیادہ تھی اور وہ ہم پر آپ سے زیادہ نرم بھی تھے۔ تو اس سلسلہ میں الزام لگا کر انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس سے گزرے۔ تب ان کو سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات کا یقین ہوا پھر انہوں نے ان کو دفن کیا اور آپ کی قبر کو سوائے ایک رضم نامی آدمی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا اور اس رضم کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4155]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں