🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. غَسِّلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ
نبی کریم ﷺ کو غسل دیا گیا جبکہ آپ کے کپڑے آپ پر ہی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني يحيى بن عَبَّاد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة، قالت: أردْنا غَسْلَ رسولِ الله ﷺ، فاختلفَ القومُ فيه، فقال بعضُهم: أنُجرِّدُ رسولَ الله ﷺ كما نُجرِّدُ موتانا أو نُغسِّله وعليه ثيابُه؟ فألقى اللهُ عليهم السَّنَةَ، حتى ما منهم رجلٌ إِلَّا نائم ذَقَنُهُ على صَدْره، فقال قائلٌ من ناحية البيت: أما تَدْرون أنَّ رسولَ الله ﷺ يُغَسَّل وعليه ثيابُه؟ فغسَّلوه وعليه قميصُه، يَصُبُّون الماء عليه ويَدلُكُونه من فَوقِه، قالت عائشة: وايمُ اللهِ لو استقبلتُ من أمري ما استدبرتُ، ما غسَّل رسول الله ﷺ إلا نِساؤُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4398 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو لوگوں میں طریقہ کار پر اختلاف ہوا، بعض نے کہا: کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اسی طرح اتاریں گے جیسے ہم اپنے مردوں کے اتارتے ہیں یا انہیں لباس سمیت غسل دیں گے؟ اسی دوران اللہ نے ان پر ایسی غنودگی طاری کر دی کہ ان میں سے ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے پر لٹک گئی (یعنی سب سو گئے)، پھر گھر کے ایک کونے سے کسی غیبی پکارنے والے نے پکار کر کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے لباس سمیت غسل دیا جانا چاہیے؟ چنانچہ صحابہ نے آپ کو قمیص سمیت غسل دیا، وہ آپ پر پانی ڈالتے تھے اور قمیص کے اوپر سے ہی جسم مبارک کو ملتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اگر مجھے پہلے وہ بات معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی (یعنی غسل کا یہ طریقہ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ازواج کے سوا اور کوئی غسل نہ دیتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 4446] [ترقيم الشركة 4423] [ترقيم العلميه 4398]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں