المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ فِي أَمْرِ الْخِلَافَةِ ثُمَّ الْإِجْمَاعُ عَلَى خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
خلافت کے معاملے میں ابتدائی اختلاف اور پھر حضرت ابو بکرؓ پر اجماع کا بیان
حدیث نمبر: 4506
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا وُهَيب، حدثنا داود بن أبي هند، حدثنا أبو نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: لما تُوفّي رسول الله ﷺ قام خُطباءُ الأنصارِ، فجعلَ الرجلُ منهم يقول: يا مَعشرَ المهاجرين، إنَّ رسول الله ﷺ كان إذا استعملَ رجلًا منكُم فَرَنَ معه رجلًا منّا، فنَرى أن يَلِيَ هذا الأمرَ رجلان، أحدُهما منكم والآخرُ منّا، قال: فتتابعتُ خطباءُ الأنصارِ على ذلك، فقام زيدُ بن ثابتٍ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ كان من المهاجرين، وإنَّ الإمامَ يكونُ من المهاجرين، ونحن أنصارُه كما كنا أنصارَ رسولِ الله ﷺ، فقام أبو بكر فقال: جزاكُم الله خيرًا يا معشرَ الأنصار، وثَبّت قائلَكم، ثم قال: أمَا لو فَعلتُم غيَر ذلك لما صالَحناكُم، ثم أخذَ زيدُ بن ثابتٍ بيدِ أبي بكر، فقال: هذا صاحبُكم فبايِعُوه. ثم انطلَقوا. فلما قعدَ أبو بكر على المِنبَر نَظَر في وُجوهِ القوم، فلم يَرَ عليًّا، فسألَ عنه، فقام ناسٌ من الأنصار فأتَوْا به، فقال أبو بكر: ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ وخَتَنُه، أردتَ أن تَشُقّ عصا المسلمين؟! فقال: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَه، ثم لم يَرَ الزُّبيرَ بنَ العوّام، فسأل عنه حتى جاؤوا به، فقال: ابن عَمّة رسولِ الله ﷺ وحَوارِيُّه، أردتَ أن تَشُقَّ عصا المسلمين؟! فقال مثل قولِه: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَاه (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو انصار کے خطباء کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک یہ کہہ رہا تھا: اے مہاجرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تم میں سے کسی کو کسی کام پر مقرر فرماتے تھے تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہمارا بھی شامل کرتے تھے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ (خلافت) میں بھی ایک آدمی ہمارا ہو اور ایک تمہارا۔ انصار کے تمام خطباء اسی موقف کو دہراتے رہے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین میں سے ہو گا اور ہم سب اس کے مددگار اور معاونین ہوں گے جیسا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاونین ہوا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے گروہ انصار! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور تمہارے خطباء کو قائم رکھے۔ پھر فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ (کچھ) کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر کہا: یہ تمہارا ساتھی ہے تم اس کی بیعت کر لو، تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو تمام لوگوں پر نظر دوڑائی، آپ کو ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے، آپ نے ان کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو کچھ انصاری سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس لے آئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد (بھائی) اور ان کے داماد! کیا تم نے مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑنے کا ارادہ کیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ پھر آپ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بھی مفقود پایا تو ان کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا تو لوگوں نے ان کو بھی آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد (بھائی) اور ان کے مددگار! کیا تم مسلمانوں کی جمعیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے؟ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرح جواب دیتے ہوئے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چنانچہ دونوں نے ہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4506]
حدیث نمبر: 4507
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لما أُسري بالنبيّ ﷺ إلى المسجد الأقصى أصبحَ يتحدّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممّن كانوا آمَنُوا به وصدَّقوه، وسَعَى رجالٌ من المشركين إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعُم أنه أُسري به الليلةَ إلى بيتِ المَقدِس! قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتُصدِّقه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المَقدِس وجاء قبل أن يُصبح؟! فقال: نعم، إني لأصدِّقُه بما هو أبعدُ من ذلك؛ أُصدِّقه في خَبرِ السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحة؛ فلذلك سُمِّي أبا بكر الصِّدِّيق (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصی کی جانب سیر کرائی گئی تو صبح کے وقت لوگوں میں اس کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ اور کئی ایسے لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی تصدیق کر چکے تھے، مرتد ہو گئے۔ اور کئی مشرک لوگ دوڑ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا تم اپنے ساتھی پر اعتبار کرتے ہو؟ وہ یہ سمجھتا ہے کہ رات کو اسے بیت المقدس کی سیر کرائی گئی؟ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا انہوں نے نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ راتوں رات بیت المقدس تک گیا اور صبح ہونے سے پہلے لوٹ کے بھی آ گیا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں تو اس سے بھی بڑھ کر ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ صبح و شام ان کے پاس جو آسمانی خبریں آتی ہیں، میں ان کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔ اسی بناء پر ان کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ محمد بن کثیر الصنعانی صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4507]