المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. يَتَجَلَّى اللَّهُ لِعِبَادِهِ فِي الْآخِرَةِ عَامَّةً، لِأَبِي بَكْرٍ خَاصَّةً .
اللہ تعالیٰ قیامت میں عام بندوں کے لیے جلوہ فرمائے گا اور حضرت ابو بکرؓ کے لیے خاص طور پر
حدیث نمبر: 4513
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا يوسف بن محمد دُبَيس الخيّاط، حدثنا محمد بن خالد الخُتَّلي، حدثنا كثير بن هشام الكِلابي، حدثنا جعفر بن بُرْقان، عن محمد بن سوقة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا عند النبي ﷺ إذ جاءه وفدُ عبدِ القَيس فتكلَّم بعضُهم بكلام لَغَا في الكلام، فالْتَفَتَ النبيُّ ﷺ إلى أبي بكر، وقال:"يا أبا بكر، سمعتَ ما قالوا؟ قال: نعم يا رسولَ الله وفَهِمُته، قال:"فأجِبْهم"، قال: فأجابَهم أبو بكر بجوابٍ وأجادَ الجَوابَ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أبا بكر، أعطاكَ الله الرِّضوانَ الأكبرَ" فقال له بعضُ القوم: وما الرضوانُ الأكبرُ يا رسول الله؟ قال:"يَتجلّى الله لعباده في الآخرةِ عامةً، ويَتجلّى لأبي بكر خاصّةً" (1)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدِ عبد القیس آیا، ان میں سے بعض نے ایسی باتیں کیں جو لغو اور بے مقصد تھیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوبکر! کیا تم نے سنا جو انہوں نے کہا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! اور میں نے اسے سمجھ بھی لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم انہیں جواب دو“، راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر نے انہیں جواب دیا اور بہت ہی عمدہ جواب دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اللہ نے تمہیں «الرضوان الأكبر» (سب سے بڑی خوشنودی) عطا فرمائی ہے“، تو قوم میں سے کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ رضوان اکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آخرت میں تمام بندوں پر عمومی تجلی فرمائے گا، لیکن ابوبکر کے لیے خصوصی تجلی فرمائے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، محمد بن خالد الخُتَّلي قال فيه ابن منده صاحب مناكير وقال ابن الجوزي بعد أن أورد حديثه هذا في "الموضوعات" 2/ 45: كذَّبوه، وتابعه على ذلك واعتمد قوله فيه الذهبيُّ، حيث قال في "تلخيص المستدرك": أحسب محمدًا وضعه. وبالغ أبو نُعيم الأصبهاني حيث أورد حديثه هذا في "حلية ...» [ترقيم الرساله 4513] [ترقيم الشركة 4489]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
حدیث نمبر: 4514
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع عن أبي العُمَيس، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة، قالت: لو كان رسولُ الله ﷺ مُستخِلفًا لاستخلَفَ أبا بكرٍ وعمرَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4464 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4464 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو خلیفہ نامزد فرمانے والے ہوتے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو خلیفہ نامزد کرتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4514]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى بن يحيى هو النيسابوري، وأبو العُميس: هو عُتبة بن عبد بن عُتبة المسعودي، وابن أبي مليكة: هو عَبد الله بن عُبيد الله.» [ترقيم الرساله 4514] [ترقيم الشركة 4490] [ترقيم العلميه 4464]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4515
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدثني أبي وأحمد بن مَنيعٍ، قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، حدثنا عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: ما رأى المسلمون حَسنًا فهو عند الله حَسنٌ، وما رأوه سيئًا فهو عند الله سيِّئٌ، وقد رأى أصحابُه جميعًا أن نَستخلِفَ أبا بكرٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ أصحُّ منه إلَّا أنَّ فيه إرسالًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4465 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ أصحُّ منه إلَّا أنَّ فيه إرسالًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4465 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جسے وہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کی یہ متفقہ رائے تھی کہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4515]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4515]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجود - وقد اختُلف فيه عن عاصم اختلافًا لا يضرُّ مثلُه، وهو أنَّ أبا بكر بن عيّاش قد رواه عن عاصم عن زِرٍّ - وهو ابن حبيش - عن عبد الله - وهو ابن مسعود - كما رواه المصنِّف وغيره، وتابع ...» [ترقيم الرساله 4515] [ترقيم الشركة 4491] [ترقيم العلميه 4465]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4516
أخبرَناه أبو العبّاس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن ابن مسعود، قال: لما قُبضَ النبيُّ - لى الله عليه وسلم - اجتمعَ المهاجرون والأنصار إلى سَقِيفة بني ساعِدةَ في بَيعة أبي بكرٍ، فأتيتُ أمَّ سلمةَ فقلتُ لها: بايَعَ الناسُ أبا بكرٍ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4466 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4466 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مہاجرین اور انصار ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے، پس میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4516]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات لكنه مرسل كما قال المصنِّف.» [ترقيم الرساله 4516] [ترقيم الشركة 4492] [ترقيم العلميه 4466]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 4517
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد المُزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوّار، حدثنا شعيب بن ميمون، عن حُصين بن عبد الرحمن، عن الشَّعْبي، عن أبي وائل، قال: قيل لعلي بن أبي طالب: ألا تَستخلِفُ علينا؟ قال: ما استخلفَ رسولُ الله ﷺ فأستخلِفَ، ولكن إن يُرِدِ اللهُ بالناس خيرًا، فسيَجمَعُهم بعدي على خَيرِهم، كما جَمعَهم بعد نبيِّهم ﷺ على خَيرِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر الروايات الصحيحة عن الصحابة ﵃ في خلافة أبي بكر الصِّدِّيق بإجماعهم في مخاطبتهم إياه: يا خليفةَ رسول الله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4467 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر الروايات الصحيحة عن الصحابة ﵃ في خلافة أبي بكر الصِّدِّيق بإجماعهم في مخاطبتهم إياه: يا خليفةَ رسول الله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4467 - صحيح
سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا آپ اپنا کوئی جانشین (خلیفہ) نامزد نہیں کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کوئی جانشین نامزد نہیں فرمایا تھا کہ میں بھی کروں، البتہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا تو وہ میرے بعد انہیں ان میں سے سب سے بہتر شخص پر متحد کر دے گا، جیسا کہ اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہیں ان میں سے سب سے بہتر شخص پر متحد کر دیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ان صحیح روایات کا ذکر جن میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ان کے اجماع اور انہیں «يا خليفه رسول الله» کہہ کر مخاطب کرنے کا بیان ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4517]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ان صحیح روایات کا ذکر جن میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ان کے اجماع اور انہیں «يا خليفه رسول الله» کہہ کر مخاطب کرنے کا بیان ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف شعيب بن ميمون، وقد اضطرب في رواية هذا الخبر، فمرة يروى عنه عن حُصين بن عبد الرحمن، ومرة يُروى عنه عن أبي جَنَاب الكلبي يحيى بن أبي حية بدل حصين - وهو ضعيف - ويُروى عنه أحيانًا عن أبي جناب عن أبي وائل مباشرة دون ذكر الشَّعْبي، ...» [ترقيم الرساله 4517] [ترقيم الشركة 4493] [ترقيم العلميه 4467]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف شعيب بن ميمون