🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. اسْتِئْذَانُ عُمَرَ مِنْ عَائِشَةَ لِدَفْنِهِ فِي حُجْرَتِهَا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے حجرے میں دفن کی اجازت طلب کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4569
حَدَّثَنَا أبو سعيد الثقفي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي المَعْمَري، حَدَّثَنَا الوليد بن شُجاع، حَدَّثَنَا محمد بن بشر، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو، قال: حدَّثَ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب وأشياخُنا: أنَّ عمر بن الخطاب لمَّا طُعن قال لعبد الله: اذهبْ إلى عائشة فاقرَأ عليها مني السلامَ، وقل: إِنَّ عُمر يقول لكِ: إن كان لا يَضُرُّكِ ولا يُضيِّقُ عليكِ، فإني أحِبُّ أن أُدفَن مع صاحبيَّ، وإن كان ذلك يَضُرّكِ أو يُضيِّقُ عليك، فَلَعَمْري لقد دُفن في هذا البَقيع من أصحاب رسول الله ﷺ وأمهات المؤمنين من هو خَيرٌ من عُمر، فجاءها الرسول، فقالت: إِنَّ ذلك لا يَضُرُّني ولا يُضيَّق عليّ، قال: فادفِنُوني معهما (1) .
سیدنا ابوسلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب وغیرہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو انہوں نے اپنے صاحبزادے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور انہیں میرا سلام کہو، اور کہو کہ عمر کہتا ہے کہ اگر آپ کو اس سے کوئی تکلیف نہ ہو اور جگہ کی تنگی محسوس نہ ہو تو میری خواہش ہے کہ مجھے میرے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق) کے پہلو میں دفن کیا جائے، اور اگر اس سے آپ کو تکلیف ہو یا تنگی محسوس ہو تو میری زندگی کی قسم! اس بقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اصحاب اور امہات المؤمنین دفن ہیں جو عمر سے بہتر ہیں، پس جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا: بے شک اس سے مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ ہی کوئی تنگی ہوگی، تب آپ نے فرمایا: پھر مجھے ان دونوں کے ساتھ ہی دفن کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4569]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكنه مرسل، فإنَّ أبا سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب لم يُدركا هذه القصة.» [ترقيم الرساله 4569] [ترقيم الشركة 4545]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبو القاسم بن أبي الزنِّاد، أخبرني هشام بن سعد، عن عمرو بن عثمان بن هانئ، عن القاسم بن محمد، قال: اطَّلعتُ في القبور: قبرِ رسول الله ﷺ وأبي بكر وعمر، من حُجرةِ عائشةَ، فرأيتُ عليها حَصْباءَ حَمْراءَ (2) .
سیدنا قاسم بن محمد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ میں موجود قبروں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کو دیکھا تو میں نے پایا کہ ان پر سرخ کنکریاں «حَصْبَاءَ حَمْرَاءَ» پڑی ہوئی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4570]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عمرو بن عثمان بن هانئ، وهشام بن سعد قد توبع فيما تقدم برقم (1384).» [ترقيم الرساله 4570] [ترقيم الشركة 4546]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عمرو بن عثمان بن هانئ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4571
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا بِشر بن الوليد القاضي، حَدَّثَنَا أبو يوسف القاضي، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن أنس قال: قُبض عمر وهو ابن ثلاثٍ وستين سنة (3) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ان کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بشر بن الوليد القاضي، فهو صدوق لا بأس به، وقد روي هذا الخبر عن أنس من غير هذا الوجه. فقد أخرجه مسلم (2348)، وابن حبان (6389) من طريق الزبير بن عدي، عن أنس.» [ترقيم الرساله 4571] [ترقيم الشركة 4547]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4572
أخبرنا أحمد بن محمد بن بالَوَيهِ العَفْصِي، حَدَّثَنَا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الله بن يونس، حَدَّثَنَا زهير، عن يزيد بن أبي زياد، عن أبي جُحَيفة، عن عبد الله بن مسعود، قال: إن كان عمرُ حِصْنًا حَصِينًا يَدخُل الإسلامُ فيه ولا يَخرجُ منه، فلما أُصيبَ عُمر انثلَمَ الحِصنُ، فالإسلامُ يَخرُج منه ولا يَدخُل فيه، إذا ذكر الصالحون فحيَّهَلا بعُمرَ (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بے شک عمر رضی اللہ عنہ ایک مضبوط قلعہ تھے جس میں اسلام داخل تو ہوتا تھا مگر وہاں سے نکلتا نہیں تھا، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ قلعہ ٹوٹ گیا، اب اسلام اس سے نکلتا ہے اور اس میں داخل نہیں ہوتا، جب بھی نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے تو «فحيَّهَلا» خوش آمدید و مرحبا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے (کہا کرو)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد» [ترقيم الرساله 4572] [ترقيم الشركة 4548]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4573
حَدَّثَنَا أبو محمد المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عمر بن أبان، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيَينة، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله: أنَّ عليًا دخل على عُمر وهو مُسجًّى، فقال: صلى الله عليك، ثم قال: ما مِن الناسِ أحدٌ أحبَّ إليَّ أن ألقى الله بما في صَحيفتِه من هذا المُسجَّى (1) . قال الحاكم: أخبار الشُّورى ما يصحُّ منها مَخْرجُه بعد وفاةِ أبي بكر الصِّدِّيق ﵁ موصولةٌ بأخبارِ سَقِيفة بني ساعِدةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ «مُسجًّى» کپڑے میں ڈھانپے ہوئے (میت) تھے، پس علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، پھر فرمایا: لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کے اعمال نامے کے ساتھ اللہ سے ملنا مجھے اس ڈھانپے ہوئے شخص (عمر رضی اللہ عنہ) کے اعمال نامے کے ساتھ ملنے سے زیادہ پسند ہو۔
امام حاکم فرماتے ہیں: شوریٰ کی وہ خبریں جو صحت کے ساتھ مروی ہیں، ان کا مخرج ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ کی خبروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد اختُلف في وصله وإرساله عن جعفر بن محمد - وهو الصادق ابن علي الباقر - فوصله سفيان بن عُيينة، وخالفه غيره من أصحاب جعفر، فرووه عن جعفر عن أبيه مرسلًا، لم يذكروا فيه جابرًا، وكذلك رواه جماعة عن محمد بن علي الباقر مرسلًا، ولكن سفيان بن عيينة ...» [ترقيم الرساله 4573] [ترقيم الشركة 4549]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں