المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
68. ذِكْرُ بَعْضِ فَضَائِلِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 4626
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القَزّاز، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي. وأخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبو بكر الحَنَفي، حَدَّثَنَا بُكير بن مِسمار قال: سمعت عامر بن سعد يقول: قال معاوية لسعد بن أبي وقّاص: ما يَمنعُك أن تَسُبَّ ابن أبي طالب؟ قال: فقال: لا أسبُّه ما ذكرتُ ثلاثًا قالهن له رسولُ الله ﷺ، لأن تكونَ لى واحدةٌ منهن أحبُّ إليَّ من حُمْر النَّعَم، قال له معاوية: ما هُنّ يا أبا إسحاق، قال: لا أسبُّه ما ذكرتُ حين نزل عليه الوحيُ فأخذ عليًّا وابنَيه وفاطمةَ فأدخلَهم تحت ثوبِه، ثم قال:"ربِّ إِنَّ هؤلاء أهلُ بيتي"، ولا أسبُّه حين خَلَّفه في غزوة تَبوك، غزاها رسولُ الله ﷺ، فقال له عليٌّ: خَلَّفْتَني مع الصبيان والنساء، قال:"ألا تَرضَى أن تكون مني بمَنزلةِ هارونَ من موسى، إلَّا أنه لا نُبوّةَ بعدي"، ولا أسبُّه ما ذكرتُ يومَ خيبر، قال رسول الله ﷺ:"لأُعطِيَنَّ هذه الرايةَ رجلًا يحبُّ الله ورسولَه، ويفتحُ الله على يديه"، فتطاوَلْنا لرسولِ الله ﷺ، فقال:"أين عليٌّ؟" فقالوا: هو أرمَدُ، فقال:"ادعُوه" فدعَوه، فَبَصَقَ في عَينيه (1) ، ثم أعطاه الرايةَ، ففتحَ الله عليه. قال: فلا واللهِ ما ذَكَره معاويةُ بحرفٍ حتَّى خرجَ من المدينة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديثِ المؤاخاة (1) ، وحديث الراية (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4575 - على شرط مسلم فقط
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديثِ المؤاخاة (1) ، وحديث الراية (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4575 - على شرط مسلم فقط
عامر بن سعد سے مروی ہے کہ سیدنا معاويہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کو اس بات سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابن ابی طالب (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) پر سب و شتم کریں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں فرمائی تھیں، میں ان پر ہرگز سب و شتم نہیں کروں گا، ان (فضائل) میں سے کوئی ایک بھی میرے لیے سرخ اونٹوں کی دولت سے زیادہ محبوب ہے۔“ سیدنا معاويہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے ابواسحاق! وہ کیا باتیں ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں انہیں برا نہیں کہوں گا جب تک مجھے وہ وقت یاد ہے جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، ان کے دونوں صاحبزادوں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم کو اپنی چادر کے نیچے ڈھانپ لیا اور پھر دعا فرمائی: «رَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» ”اے میرے رب! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“ اسی طرح میں انہیں تب تک برا نہیں کہوں گا جب تک مجھے غزوہ تبوک کا وہ موقع یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مدینہ میں) پیچھے چھوڑا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) کیا آپ نے مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔“ اور میں انہیں برا نہیں کہوں گا جب تک مجھے خیبر کا وہ دن یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا۔“ چنانچہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ پانے کی امید کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں (آشوبِ چشم ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ۔“ جب انہیں بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا، پھر اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔“ راوی کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! سیدنا معاويہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے روانہ ہونے تک ایک لفظ بھی ان کے بارے میں نہ کہا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق (الفاظ کی ترتیب) کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، جبکہ شیخین نے حدیثِ مواخات اور حدیثِ رایت (جھنڈے والی حدیث) کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4626]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق (الفاظ کی ترتیب) کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، جبکہ شیخین نے حدیثِ مواخات اور حدیثِ رایت (جھنڈے والی حدیث) کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4626]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، من جهة أبي بكر الحنفي - واسمه عبد الكبير بن عبد المجيد، وهو أخو عبيد الله - وذلك من أجل بُكير بن مسمار فهو صدوق لا بأس به. ومحمد بن سنان القَزَّاز في الإسناد الآخَر - وإن تُكلِّم فيه - متابع. وقد رُوي نحوه من ...» [ترقيم الرساله 4626] [ترقيم الشركة 4602] [ترقيم العلميه 4575]
الحكم على الحديث: حديث صحيح