🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. وَصِيَّةُ النَّبِيِّ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَعِتْرَةِ رَسُولِهِ .
کتابُ اللہ اور رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عترت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4627
حَدَّثَنَا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم الحَنْظَلي ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، حَدَّثَنَا يحيى بن حمّاد. وحدثني أبو بكر محمد بن بالَوَيهِ وأبو بكر أحمد بن جعفر البزّار، قالا: حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا يحيى بن حمّاد. وحدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حَدَّثَنَا صالح بن محمد الحافظ البغدادي، حَدَّثَنَا خَلَف بن سالم المُخرِّمي، حَدَّثَنَا يحيى بن حماد، حَدَّثَنَا أبو عَوَانة، عن سُليمان الأعمَش، قال: حَدَّثَنَا حبيب بن أبي ثابت، عن أبي الطُّفَيل، عن زيد بن أرقَمَ قال: لما رجعَ رسولُ الله ﷺ من حجّة الوَداع، ونزل غَديرَ خُمٍّ، أَمَرَ بدَوحاتٍ فَقُمِمْنَ، قال:"كأني قد دُعِيتُ فأجبتُ، إني قد تركتُ فيكم الثَّقَلين، أحدُهما أكبرُ من الآخَر: كتابَ الله تعالى، وعِتْرَتي، فانظُروا كيف تَخلُفوني فيهما، فإنهما لن يتفرّقا حتَّى يَرِدا عليَّ الحوضَ". ثم قال:"إنَّ الله ﷿ مولاي، وأنا وليُّ كلّ مُؤمِن"، ثم أخذ بيد عليٍّ فقال:"مَن كنتُ وليَّه فهذا وَليُّه، اللهمَّ والِ [من والاهُ، وعادِ مَن عادَاه] (1) " وذكر الحديث بطُوله (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بطُوله. شاهدُه حديث سلمة بن كُهيل عن أبي الطُّفيل أيضًا صحيح على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4576 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے اور غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند گھنے درختوں کے متعلق حکم دیا اور ان کے نیچے کی جگہ صاف کر دی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ عنقریب (اپنے رب کی طرف سے) بلاوا آنے والا ہے اور میں اسے قبول کر لوں گا، میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں «الثقلين» چھوڑ کر جا رہا ہوں جن میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے: اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میری عترت (اہلِ بیت)، پس تم یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو، کیونکہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس کا میں ولی (دوست و سرپرست) ہوں، پس یہ (علی) اس کا ولی ہے، «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» اے اللہ! تو اس سے محبت و دوستی رکھ جو اس سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔ اور اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طوالت کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ سلمہ بن کہیل کی ابو طفیل سے مروی روایت بھی ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے جو اس حدیث کی شاہد (تائید کرنے والی) ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4627]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وصحَّحه الذهبي كما في "البداية والنهاية" لابن كثير 4/ 416. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري، وأبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.» [ترقيم الرساله 4627] [ترقيم الشركة 4603] [ترقيم العلميه 4576]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں