🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعلي أنت تبين لأمتي ما اختلفوا فيه من بعدي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمانا: تم میرے بعد میری امت کے اختلافات کو واضح کرو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4670
حدثنا عَبْدان بن يزيد بن يعقوب الدَّقّاق من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيْزِيل، حدثنا أبو نُعيم ضِرار بن صُرْد، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ أبي يَذكُر عن الحسن، عن أنس بن مالك: أنَّ النبي ﷺ قال لِعليٍّ:"أنتَ تُبيّن لأمتي ما اختلَفُوا فيه بَعدِي" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4620 - بل هو فيما اعتقده من وضع ضرار
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے بعد میری امت میں جب اختلاف ہو گا، اس وقت تم (ان کے سامنے حق کو) واضح کرو گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4670]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4671
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا أبو غسان، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا الأعمش، عن إسماعيل بن رجاء، عن أبيه، عن أبي سعيد. قال ابن أبي غَرَزة: وحدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا فِطْر بن خَليفة، عن إسماعيل بن رجاء، عن أبيه، عن أبي سعيد، قال: كنا مع رسول الله ﷺ، فانقطعتْ نعلُه، فتخلّف عليٌّ يُصلِحها، فمشى قليلًا ثم قال:"إنَّ منكم مَن يُقاتِل على تأويلِ القرآن كما قاتَلتُ على تَنزيلِه"، فاستشرفَ لها القومُ، وفيهم أبو بكر وعمر، قال أبو بكر: أنا هو؟ قال:"لا" قال عمر: أنا هو؟ قال:"لا، ولكن خاصِفُ النعْلِ - يعني عليًّا -" فأتيناهُ فبشّرناه، فلم يَرفَع به رأسَه، كأنه قد كان سمعَه من رسولِ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4621 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا مبارک ٹوٹ گیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کو پیوند لگانے لگے، اس لئے وہ ذرا پیچھے رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا چلے، پھر فرمایا: تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل پر اس طرح لڑے گا جیسے میں نے اس کے نزول پر قتال کیا تھا۔ تو لوگ اپنے اپنے سر اونچے کرنے لگے۔ ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: کیا وہ آدمی میں ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ میں ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ وہ جوتوں کو پیوند لگانے والا ہے (یعنی علی ہے) ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنائی لیکن انہوں نے اس بات پر سر نہ اٹھایا یا یوں لگتا تھا جیسے وہ یہ بات پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکے ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4671]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں