🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

111. نِكَاحُ عُمَرَ بِأُمِّ كُلْثُومٍ وَسَبَبُهُ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح اور اس کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4734
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يحيى (1) الغازي، حدثنا المسيَّب بن زُهير الضَّبِّي (2) ، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا المسعُودي، عن عمرو بن مُرّة، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله بن مسعودٍ، قال قال رسول الله ﷺ:"النظَرُ إلى وجهِ عليٍّ عِبادةٌ" (1) .
عمرو بن مرہ نے ابراہیم کے ذریعے علقمہ کے واسطے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علی (رضی اللہ عنہ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4734]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4735
حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة المُعدَّلانِ، قالا: حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا مُعلَّى بن أَسد، حدثنا وُهَيب بن خالد، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن علي بن الحسين: أنَّ عمر بن الخطّاب خَطَبَ إلى عليٍّ أُمَّ كُلثوم، فقال: أَنكِحْنيها، فقال عليٌّ: إني أُرصِدُها لابن أخي عبد الله بن جعفر، فقال عمر: أَنْكِحْنيها، فوالله ما من الناسِ أحدٌ يُرصِدُ من أمرِها ما أُرصِدُه، فأنكَحَه عليٌّ، فأتى عمرُ المهاجرين، فقال: ألا تُهَنُّوني؟ فقالوا: بمن يا أمير المؤمنين؟ فقال: بأمِّ كُلثومٍ بنت عليّ وابنة فاطمةَ بنتِ رسولِ الله ﷺ، إني سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"كلُّ نَسَبٍ وسَبَبٍ يَنقطعُ يومَ القيامة، إلَّا ما كان مِن سَبَبي ونَسَبي"، فأحببتُ أن يكون بيني وبين رسولِ الله ﷺ نَسَبٌ وسَبَبٌ (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4684 - منقطع
سیدنا علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدہ ام کلثوم کا رشتہ مانگا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو اس کو اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفر کے نکاح میں دینے کے انتظار میں ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیجئے، خدا کی قسم، اس کے نکاح کا جس قدر میں منتظر ہوں اور کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے: کیا تم مجھے مبارک باد نہیں دو گے؟ مہاجرین نے کہا: اے امیرالمومنین! کس چیز کی مبارک؟ آپ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن رکھا ہے کہ قیامت کے دن میرے نسب اور سبب کے سوا تمام نسب اور سبب ختم ہو جائیں گے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سبب اور نسب قائم ہو، (اس لئے میں نے یہ نکاح کیا ہے۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4735]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4736
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا الهيثم بن خلف الدُّوريّ، حدثني محمد بن عمر بن هَيّاج، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن الأَرْحَبي، حدثنا يونس بن أبي يَعفُور، عن أبيه، قال: حدثني حَيّان الأسدي قال: سمعتُ علي بن أبي طالب يقول: قال لي رسول الله ﷺ:"عهدٌ معهودٌ: إِنَّ الأمّة ستَغدِرُ بك بعدي، وأنتَ تعيشُ على مِلَّتي، وتُقتل على سُنَّتي، من أحبّك أحبَّني، ومن أبغضَك أبغضَني، وإِنَّ هذه ستُخضَبُ من هذا"؛ يعني لحيتَه من رأسِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حیان اسدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا تھا: بیشک امت میرے بعد تمہارے ساتھ بے وفائی کرے گی، جبکہ تم میرے دین پر زندگی بسر کرو گے اور میری سنت پر (ثابت قدم رہتے ہوئے) شہید کیے جاؤ گے۔ جس نے تم سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے تم سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ اور بیشک یہ (داڑھی) اس (سر کے خون) سے رنگ دی جائے گی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند صحیح ہے، مگر شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4736]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4737
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سلمة ومحمد بن شاذان، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن رافع، قالا حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا النعمان بن أبي شَيْبة، عن سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن حذيفة، قال: قال رسول الله ﷺ:"إن وَلَّيتُموها أبا بكر فزاهدٌ في الدنيا، راغِبٌ في الآخرة، وفي جِسمِه ضَعْف، وإن وَلَّيتُموها عُمَر فقويٌّ أمينٌ لا يَخافُ في الله لَومةَ لائمٍ، وإن وَلَّيتُموها عليًّا فهادٍ مُهتَدٍ يُقِيمُكم على صراطٍ مستقيمٍ" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مَقتَل أميرِ المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁ بأصحّ الأسانيد على سبيل الاختصار
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4685 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ابوبکر صدیق کو خلیفہ نامزد کرو گے تو (ٹھیک ہے کیونکہ) وہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والے ہیں جبکہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں۔ اور اگر تم عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناؤ گے (یہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ) یہ طاقتور امانت دار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ اور اگر تم علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناؤ گے تو (تب بھی ٹھیک ہے کیونکہ) علی رضی اللہ عنہ خود بھی ہدایت یافتہ ہے اور ہدایت دینے والا بھی ہے یہ تمہیں صراط مستقیم پر قائم رکھیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4737]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں