🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

128. زُهْدُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - .
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زہد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4777
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد العَدْل ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أبي العوّام الرَّياحي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العَوّام بن حَوشَب، عن عمرو بن مُرّة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن علي بن أبي طالب قال: أتانا رسولُ الله ﷺ فَوَضَعَ رِجلَه بيني وبين فاطمةَ، فعلمنا ما نقول إذا أَخَذْنَا مَضاجِعَنا، فقال:"يا فاطمةُ، إذا كنتما بمنزلَتِكما هذه، فسبِّحا الله ثلاثًا وثلاثين، واحمَدا ثلاثًا وثلاثين، وكبِّرا أربعًا وثلاثين". قال عليٌّ: واللهِ ما تركتُها (1) بعدُ، فقال له رجلٌ كان في نفسِه عليه شيءٌ: ولا ليلةَ صِفِّينَ؟ قال عليٌّ: ولا ليلةَ صِفّينَ (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4724 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور اپنا قدم مبارک میرے اور فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے درمیان رکھ دیا، پھر ہمیں وہ کلمات سکھائے جو ہمیں بستر پر لیٹتے وقت کہنے چاہئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! جب تم دونوں اپنے بستر پر آ جاؤ تو 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد کبھی ان کلمات کو نہیں چھوڑا، تو ایک شخص نے جن کے دل میں سیدنا علی کے خلاف کچھ انقباض تھا سوال کیا: کیا صفین کی رات بھی آپ نے یہ کلمات نہیں چھوڑے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، صفین کی رات بھی میں نے یہ تسبیحات ترک نہیں کیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي بكر محمد بن أبي العَوّام الرِّيَاحي» [ترقيم الرساله 4777] [ترقيم الشركة 4751] [ترقيم العلميه 4724]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں