🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

182. ذِكْرُ سَلَامِ اللَّهِ عَلَى خَدِيجَةَ
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزيٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر اللہ تعالیٰ کے سلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4910
أخبرني أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عامر بن صالح بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبير أبو الحارث، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أن النبي ﷺ قال:"أُمرت أن أُبَشِّرَ خديجةَ ببيتٍ في الجنة من قَصَبٍ" (1) . قال أبو عبد الرحمن (2) : فقلت لأبي: إنَّ يحيى بن مَعِين يَطُعن علي عامر بن صالح هذا، قال: يقول ماذا؟ قلت: رآه سمعَ من الحجّاج، قال: قد رأيتُ أنا حجاجًا يسمع من هُشيم، وهذا عيبٌ أن يسمعَ الرجلُ ممَّن هو أصغرُ منه أو أكبر؟!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4850 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں خدیجہ کو جنت میں موتیوں کے ایک گھر کی خوشخبری سنا دوں۔ ابو عبد الرحمن (عبداللہ بن احمد) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) سے کہا: یحییٰ بن معین اس راوی عامر بن صالح پر جرح کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ اسے عیب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حجاج سے سنا ہے، تو امام احمد نے فرمایا: میں نے خود حجاج کو ہشیم سے سنتے دیکھا ہے، کیا یہ کوئی عیب ہے کہ کوئی شخص اپنے سے چھوٹے یا بڑے سے روایت سنے؟! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل عامر بن صالح الزبيري، لكنه متابع كما سيأتي عند المصنف برقم (4914).» [ترقيم الرساله 4910] [ترقيم الشركة 4878] [ترقيم العلميه 4850]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں