المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
182. ذكر سلام الله على خديجة
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزيٰ رضی اللہ عنہا ہیں — سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر اللہ تعالیٰ کے سلام کا ذکر
حدیث نمبر: 4910
أخبرني أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عامر بن صالح بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبير أبو الحارث، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أن النبي ﷺ قال:"أُمرت أن أُبَشِّرَ خديجةَ ببيتٍ في الجنة من قَصَبٍ" (1) . قال أبو عبد الرحمن (2) : فقلت لأبي: إنَّ يحيى بن مَعِين يَطُعن علي عامر بن صالح هذا، قال: يقول ماذا؟ قلت: رآه سمعَ من الحجّاج، قال: قد رأيتُ أنا حجاجًا يسمع من هُشيم، وهذا عيبٌ أن يسمعَ الرجلُ ممَّن هو أصغرُ منه أو أكبر؟!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4850 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4850 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موتیوں کے ایک ایسے محل کی خوشخبری دوں جس میں کسی قسم کا شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ ٭٭ ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: یحیی بن معین تو اس عامر بن صالح پر طعن کرتے ہیں۔ میرے والد نے کہا: اس سلسلے میں تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس نے حجاج سے حدیث کا سماع کیا ہے۔ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ حجاج نے ہشیم سے سماع کیا ہے اور یہ عیب ہے کہ ایک آدمی اپنے سے چھوٹے یا اپنے سے بڑے سے (جس سے سماع ممکن ہی نہ ہو) سماع کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4910]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4910 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل عامر بن صالح الزبيري، لكنه متابع كما سيأتي عند المصنف برقم (4914).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، مگر یہ سند عامر بن صالح الزبیری کی وجہ سے "ضعیف" ہے، لیکن وہ "متابع" ہیں جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (4914) پر آئے گا۔
وهو في "مسند أحمد" 43 / (26381).
📖 حوالہ: یہ "مسند احمد" (43/ 26381) میں موجود ہے۔
(2) أبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن أحمد بن حنبل. وخبره هذا في "فضائل الصحابة" لأبيه (1587)، و "الكفاية" للخطيب البغدادي ص 110، و "تاريخ بغداد" له 14/ 152.
🔍 تعیینِ راوی: ابوعبدالرحمن سے مراد "عبداللہ بن احمد بن حنبل" ہیں۔ ان کی یہ خبر ان کے والد کی کتاب "فضائل الصحابہ" (1587)، خطیب کی "الکفایۃ" (ص 110) اور "تاریخ بغداد" (14/ 152) میں موجود ہے۔