🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

185. أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْجُمُعَةَ بِالْمَدِينَةِ
سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں سب سے پہلے جمعہ قائم کرنے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4917
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني عبد الرحمن بن أبي الرِّجال، قال: مات أسعدُ بن زُرَارةً في شوّال على رأس تسعة أشهر (1) من الهجرة، ومسجدُ رسولِ الله ﷺ يُبنى يومئذ، وذلك قبل بدر، فجاءت بنو النجار إلى رسول الله - صلى الله صليه وسلم -، فقالوا: قد ماتَ نَقِيبُنا فنَقِّب علينا، فقال رسول الله ﷺ:"أنا نقيبكم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4857 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبدالرحمن بن ابی الرجال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے نویں مہینے شوال میں وصال فرمایا۔ ان دونوں مسجد نبوی شریف کی تعمیر ہو رہی تھی۔ اور یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ بنی نجار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا نقیب انتقال کر گیا ہے، آپ کسی اور کو ہمارا نقیب مقرر فرما دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا نقیب میں ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4917]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4918
قال ابن عُمر: وحدثنا عبد الجبار بن عُمارة، عن عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزْم، قال: أولُ من دُفن بالبقيع أسعدُ بن زُرارةَ (3) .
٭ابن عمر رضی اللہ عنہما عبدالجبار بن عمارہ کے حوالے سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جنت البقیع میں سب سے پہلے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4918]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4919
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني محمد بن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه أبي أُمامة، أنَّ عبد الرحمن بن كعب بن مالك أخبره قال: كنتُ قائدَ أَبي بعدما ذهبَ بصرُه، فكان لا يسمعُ الأذانَ بالجُمعة إلَّا قال: رحمةُ الله على أسعدَ بن زُرارةَ، فقلتُ بعد حينٍ: لو سألتُ أبي: ما شأنُه إذا سمع الأذانَ قال: رحمةُ الله على أسعدَ بن زُرارةَ؟ فقلت: يا أبتِ إنه لتُعجِبُني صلاتُك على أبي أُمامة كلما سمعتَ الأذانَ بالجمعة، قال: أيْ بُنيّ، كان أولَ من جَمَّع لنا الجمعةَ بالمدينةِ في هَزْمٍ من حَرّة بني بَيَاضةَ في نَقيعٍ (1) يقالُ له: الخَضِمات، قلت: وكم أنتم يومئذٍ؟ قال: أربعون رجلًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4858 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوامامہ سیدنا عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میرے والد صاحب بینائی سے محروم ہو گئے تو میں ان کو ساتھ لے کر چلا کرتا تھا۔ وہ جب بھی اذان جمعہ سنتے تو کہتے رحمۃ اللہ علی اسعد بن زرارہ۔ میں (کچھ عرصہ تو یہ سنتا رہا لیکن بالآخر میں) نے یہ پکا فیصلہ کر لیا کہ میں اپنے والد سے اس کی وجہ ضرور پوچھوں گا۔ چنانچہ ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا کہ ابا جی! آپ جب بھی اذان جمعہ سنتے ہیں تو ابوامامہ کے لئے دعا مانگتے ہیں مجھے اس سے بہت حیرانگی ہوتی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو میرے والد صاحب نے فرمایا: یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مدینہ میں قبیلہ بنی بیاضہ کے سنگستان کے نشیب میں (جس کو بقیع الخضمات بھی کہتے ہیں) ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تھی۔ میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کس قدر تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: ہم چالیس آدمی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4919]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ كَوَى أسعد بن زُرَارة من الشَّوكة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4859 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا کانٹا لگنے کی وجہ سے داغا تھا۔ (جب کسی کے کوئی زخم وغیرہ ہو جاتا تو لوہے کو گرم کر کے اس مقام پر داغتے تھے اس طرح زخم کا زہر پھیلتا نہیں تھا اس عمل کو الکی کہتے ہیں) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4920]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں