المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
199. مَنْ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ لِلْحَقِّ فَقَتَلَهُ فَهُوَ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ
جو شخص ظالم حکمران کے سامنے حق کے لیے کھڑا ہو اور اسی میں قتل کر دیا جائے وہ سید الشہداء ہے
حدیث نمبر: 4944
أخبرنا أبو العباس المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى أخبرنا أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر، قال: رجعَ رسولُ الله ﷺ يوم أُحُد، فسمع نساءَ بني عبد الأشْهَل يَبكِين على هَلْكاهُنَّ، فقال:"لكنَّ حمزةَ لا بَواكيَ له"، فجئن نِساءُ الأنصار فبَكَين على حمزة عنده، ورَقَد فاستيقَظ وهنَّ يَبكِين، فقال:"يا وَيلَهنَّ، إنهن لَهاهُنا حتى الآن؟! مُروهُنَّ فليرجِعْن، ولا يَبكِين على هالكٍ بعدَ اليوم (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد کے دن واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد الاشہل کی عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والی نہیں ہے“، چنانچہ انصار کی عورتیں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حمزہ پر رونے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو وہ اب بھی رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ان پر، کیا یہ اب تک یہیں ہیں؟! انہیں کہو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر (اس طرح) نہ روئیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4944]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4944]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو اللَّيثي.» [ترقيم الرساله 4944] [ترقيم الشركة 4911]
الحكم على الحديث: إسناده حسن