🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

201. آنِيَةُ حَوْضِ الْكَوْثَرِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ
حوضِ کوثر کے برتن ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4946
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدثنا إبراهيم بن عبد الرحيم بن دَنُوقا، حدثنا مُعلَّى بن عبد الرحمن الواسطي، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا محمد بن كعب القُرَظي، عن ابن عبّاس، قال: قُتل حمزةُ بن عبد المطلب عَمُّ رسولِ الله ﷺ جُنُبًا، فقال رسول الله ﷺ:"غَسَّلَتْه المَلائكةُ" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4885 - معلى بن عبد الرحمن هالك
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (غزوہِ احد میں) اس حال میں شہید ہوئے کہ وہ جنبی تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4946]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف من أجل مُعلّى بن عبد الرحمن الواسطي، فهو هالكٌ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، بل قد اتهمه بعضهم بوضع الحديث. وأخرج الطبراني في "الكبير" (12094)، والبيهقي في "معرفة السنن والآثار" (7460) من طريق شريك النخعي، عن الحجاج بن أرطاة، والبيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 15 من طريق أبي ...» [ترقيم الرساله 4946] [ترقيم الشركة 4913] [ترقيم العلميه 4885]

الحكم على الحديث: إسناده تالف من أجل مُعلّى بن عبد الرحمن الواسطي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4947
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك، حدثنا بن حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أحمد بن عبد الله اللَّهَبي (1) ، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن حَرَام بن عثمان، عن عبد الرحمن الأغرّ، عن أبي سلمةَ، عن أسامة بن زيد قال خرجَ رسولُ الله ﷺ يريد بيتَ حمزةَ، فتبعتُه حتى وقف على الباب، فقال:"السلامُ عليكُم، أتَمَّ أبو عُمارة؟، قال: فقالت: لا والله، بأبي أنت وأمي، خرج عامدًا نحوك، فأظنُّه أخطأك في بعض أزِقّة بني النجّار، أفلا تدخلُ بأبي أنت وأمي يا رسولَ الله؟ قال:"فهل عندكِ شيءٌ؟" قالت: نعم، فدخل فقرَّبتْ إليه قَعْبًا (1) فيه حَيْسٌ (2) ، فقالت: كُلْ بأبي أنتَ وأمي يا رسول الله، هنيئًا لك ومَريئًا، فقد جئتَ وأنا أريدُ أن آتيَكَ وأُهنِّئَك وأُمْرِئَك: أخبرَني أبو عمارة أنك أُعطِيتَ نهرًا في الجنة يُدعَى الكَوثرَ، فقال رسول الله ﷺ:"وآنيتُه أكثر من عددِ نُجوم السماءِ، وأحبُّ وارِدِه عليَّ قَومُك" (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ کے گھر جانے کے ارادے سے نکلے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر رک گئے اور فرمایا: السلام علیکم، کیا ابو عمارہ گھر پر ہیں؟ راوی کہتے ہیں: تو ان کی زوجہ نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، وہ آپ ہی کی طرف نکلے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ بنو نجار کی کسی گلی میں آپ کو نہ مل سکے، اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ اندر تشریف نہیں لائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «قَعْب» لکڑی کا پیالہ پیش کیا جس میں «حَيْس» کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ تھا، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، اسے کھائیے، یہ آپ کے لیے خوشگوار اور ہضم ہونے والا ہو، آپ تشریف لائے ہیں جبکہ میں خود آپ کے پاس آ کر مبارکباد دینا چاہتی تھی، کیونکہ مجھے ابو عمارہ نے بتایا ہے کہ آپ کو جنت میں ایک نہر عطا کی گئی ہے جسے الکوثر کہا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اس کے (پینے کے) برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہے، اور وہاں میرے پاس پہنچنے والوں میں سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم کے لوگ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4947]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل حرام بن عثمان، فهو متروك الحديث، ولهذا عقَّب الذهبي في "تلخيصه" على تصحيح المصنف للحديث، فقال: أين الصحة وحرام فيه؟!» [ترقيم الرساله 4947] [ترقيم الشركة 4914]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4948
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أسامة بن زيد عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرّ بحمزةَ يوم أُحُدٍ وقد جُدِعَ ومُثِّل به، وقال:"لولا أن صفية تَجِدُ لَتَركْتُه حتى يَحشُرَه اللهُ من بُطون الطَّير والسِّباع"، فكفَّنه في نَمِرةٍ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4887 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد کے دن سیدنا حمزہ کے پاس سے گزرے جبکہ ان کے ناک کان کاٹے جا چکے تھے اور ان کے جسم کا مثلہ کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ (سیدنا حمزہ کی بہن) کے رنج و ملال کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں (اسی میدان میں) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے جمع فرماتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک «نَمِرة» دھاری دار چادر میں کفن دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4948]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد - وهو الليثي - إذ جعله عن الزُّهْري عن أنس، وإنما هو عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، كما تقدّم بيانه برقم (1367) و (2590)، حيث تقدَّم هناك من طرق عن أسامة بن زيد الليثي.» [ترقيم الرساله 4948] [ترقيم الشركة 4915] [ترقيم العلميه 4887]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4949
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن صالح البخاري، حدثنا يعقوب بن حُميد بن كاسب، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله قال: وُلِدَ لرجلٍ منا غُلامٌ، فقالوا: ما نُسمّيه؟ فقال النبي ﷺ:"بأحب الأسماءِ إليَّ: حمزةَ بن عبد المُطّلب" (1) . صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4888 - يعقوب بن كاسب ضعيف
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، تو لوگوں نے پوچھا: ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا نام وہ رکھو جو مجھے تمام ناموں میں سب سے زیادہ محبوب ہے: حمزہ بن عبدالمطلب۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4949]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف موصولًا، قد تفرَّد يعقوب بن حُميد بن كاسب بوصله بذكر جابر بن عبد الله، فيما نبَّه عليه الدارقطني في "الغرائب والأفراد" كما في "أطرافه" لأبي الفضل بن طاهر المقدسي (1592)، ونبَّه عليه الدارقطني في "العلل" (3250). ويعقوب بن حميد بن كاسب يحسَّن حديثه إلّا عند التفرد أو المخالفة، ...» [ترقيم الرساله 4949] [ترقيم الشركة 4916] [ترقيم العلميه 4888]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف موصولًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4950
حدّثَناه عبد الله بن إسحاق ابن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا يوسف بن سَلْمان المازني، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، سمع رجلًا بالمدينة يقول: جاء جَدّي بأبي إلى رسولِ الله ﷺ، فقال: هذا ولدي، فما أُسمِّيه؟ قال:"سَمِّه بأحبِّ الناسِ إليَّ حمزةَ بن عبد المُطَّلب" (1) . قد قَصّر هذا الراوي المَجهُول برواية الحديث عن ابن عُيينة، والقولُ فيه قول يعقوبَ بن حُميد، وقد كان أبو أحمد الحافظ يُناظِرُني أنَّ البخاريَّ قد روى عنه في"الجامع الصحيح"، وكنت آبَى عليه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4889 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
مدینہ منورہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میرے دادا میرے والد کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کا کیا نام رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا نام اس شخصیت کے نام پر رکھو جو مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے: حمزہ بن عبدالمطلب۔
اس مجہول راوی نے ابن عیینہ سے روایت کرنے میں کمی کی ہے، اور اس معاملے میں صحیح قول یعقوب بن حمید کا ہے، اور ابواحمد الحافظ مجھ سے اس بات پر مناظرہ کرتے تھے کہ بخاری نے اپنی جامع صحیح میں ان سے روایت لی ہے جبکہ میں اس کا انکار کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4950]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، وأخطأ المصنِّف إذ جهَّل يوسفَ بن سلْمان المازني، فهو» [ترقيم الرساله 4950] [ترقيم الشركة 4917] [ترقيم العلميه 4889]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4951
أخبرني أحمد بن كامل القاضي، حدثنا الهيثم بن خَلَفَ الدُّورِي، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثني عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا ربيعة بن كُلْثوم، عن سَلَمة بن وَهْرام، عن عِكْرمة عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"دخلتُ الجنةَ البارحةَ، فنظرتُ فيها، فإذا جعفرٌ يَطيرُ مع الملائكةِ، وإذا حمزةُ مُتّكئ على سَريرٍ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وحسبُنا الله ونعم الوكيل، وصلَّى الله على محمد وآله وسلَّم. هذه أحاديثُ تركتُها (1) في الإملاء
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4890 - سلمة بن وهرام ضعفه أبو داود
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا، وہاں میں نے دیکھا کہ جعفر (طیار) فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے ہیں اور حمزہ ایک تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد وقع في إسناد المصنف هنا خطأ في تسمية الراوي عن سلمة بن وهرام بأنه ربيعة بن كلثوم، فلم تقع تسميته بذلك في غير هذه الطريق، وجميع من خرَّج هذا الخبر رواه من طريق عُبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، عن زمعة بن صالح عن سلمة بن وهرام، ...» [ترقيم الرساله 4951] [ترقيم الشركة 4918] [ترقيم العلميه 4890]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں