🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
201. آنِيَةُ حَوْضِ الْكَوْثَرِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ
حوضِ کوثر کے برتن ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4948
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أسامة بن زيد عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرّ بحمزةَ يوم أُحُدٍ وقد جُدِعَ ومُثِّل به، وقال:"لولا أن صفية تَجِدُ لَتَركْتُه حتى يَحشُرَه اللهُ من بُطون الطَّير والسِّباع"، فكفَّنه في نَمِرةٍ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4887 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد کے دن سیدنا حمزہ کے پاس سے گزرے جبکہ ان کے ناک کان کاٹے جا چکے تھے اور ان کے جسم کا مثلہ کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صفیہ (سیدنا حمزہ کی بہن) کے رنج و ملال کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں (اسی میدان میں) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے جمع فرماتا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک «نَمِرة» ”دھاری دار چادر“ میں کفن دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4948]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد - وهو الليثي - إذ جعله عن الزُّهْري عن أنس، وإنما هو عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، كما تقدّم بيانه برقم (1367) و (2590)، حيث تقدَّم هناك من طرق عن أسامة بن زيد الليثي.» [ترقيم الرساله 4948] [ترقيم الشركة 4915] [ترقيم العلميه 4887]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4948 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد - وهو الليثي - إذ جعله عن الزُّهْري عن أنس، وإنما هو عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، كما تقدّم بيانه برقم (1367) و (2590)، حيث تقدَّم هناك من طرق عن أسامة بن زيد الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، یہ والی سند ایسی ہے جس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اسے "زہری عن انس" بنا دیا، حالانکہ درحقیقت یہ "زہری عن عبدالرحمن بن کعب بن مالک عن جابر بن عبداللہ" ہے، جیسا کہ نمبر (1367) اور (2590) میں اس کا بیان گزر چکا ہے، جہاں اسامہ بن زید اللیثی ہی کے کئی طرق بیان ہوئے تھے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4948 in Urdu