المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
208. قِصَّةُ شَهَادَةِ الْيَمَانِ بْنِ جَابِرٍ، وَثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ
سیدنا یمان بن جابر، والدِ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا یمان بن جابر اور ثابت بن وقش رضی اللہ عنہما کی شہادت کا واقعہ
حدیث نمبر: 4969
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الصفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، حَدَّثَنَا الوليد بن عبد الله بن جُمَيع، عن عامر بن واثلة، عن حُذيفة قال: ما مَنَعَنا أن نشهدَ بدرًا إلَّا أتي وأبي أقبلْنا نُرِيدُ رسولَ الله ﷺ فأخذتْنا كفارُ قُريش، فقالوا: إنكم تُريدون محمدًا، فقلنا: ما نُريدُ، إنما نُريدُ المدينة، فأخذوا علينا عهدَ اللهِ ومِيثَاقَهُ لَتَصيرونَ إِلى المدينة، ولا تُقاتِلوا مع محمدٍ، فلما جاوَزْناهم أتَينا رسولَ الله ﷺ، فَذَكَرْنا له ما قالوا وما قُلنا لهم، فما تَرَى؟ قال:"نَستعينُ الله عليهم، ونَفِي بعَهْدِهم"، فانطلقنا إلى المدينة، فذاك الذي مَنَعَنا أن نشهدَ بدرًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4908 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4908 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں غزوہ بدر میں شریک ہونے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں اور میرے والد آ رہے تھے تو ہمیں قریش کے کافروں نے پکڑ لیا، انہوں نے پوچھا: ”تمہارا ارادہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جانے کا ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں، ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں، ہم تو صرف مدینہ جانا چاہتے ہیں“، پس انہوں نے ہم سے اللہ کا پختہ عہد و میثاق لیا کہ تم مدینہ ہی جاؤ گے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ مل کر (ہمارے خلاف) قتال نہیں کرو گے، پس جب ہم ان سے بچ کر نکل آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سب بتایا جو انہوں نے کہا تھا اور جو ہم نے جواب دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ان کے معاملے میں اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور ان کا عہد پورا کریں گے“، چنانچہ ہم مدینہ چلے گئے اور یہی وہ وجہ تھی جس نے ہمیں بدر میں شرکت سے روکا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4969]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4969]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مِهْران الأصبهاني، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 4969] [ترقيم الشركة 4936] [ترقيم العلميه 4908]
الحكم على الحديث: حديث صحيح