🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

224. فَضْلُ جَعْفَرٍ لِقَرَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرابت کی بنا پر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5001
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّورِي، حَدَّثَنَا الحسن بن بِشر، حَدَّثَنَا سَعْدانُ بن الوليد بَيّاعُ السابَرِي، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: بينما رسولُ الله ﷺ جالسٌ وأسماءُ بنتُ عُمَيسٍ قريبةٌ إذ رَدَّ السلامَ، ثم قال:"يا أسماءُ، هذا جعفرُ بن أبي طالبٍ مع جِبريلَ ومِيكائيلَ وإسرافيلَ، سلّموا علينا، فرُدِّي عليهمُ السلامَ، وقد أخبرني أنه لقيَ المشركين يومَ كذا وكذا - قبل مَمَرِّه على رسول الله ﷺ بثلاثٍ أو أربعٍ - فقال: لقيتُ المشركين، فأُصِبتُ في جَسدي مِن مَقَادِيمي ثلاثًا وسبعين بين رَمْيةٍ وطَعْنةٍ وضَرْبةٍ، ثم أخذتُ اللواءَ بيدي اليُمنى فقُطعِت، ثم أخذتُ باليد اليُسرى فقُطِعت، فعوّضَني اللهُ من يَديَّ جَناحَين أطير بهما مع جبريل وميكائيل، أَنزِلُ من الجنة حيثُ شئتُ، وآكلُ من ثِمارها ما شئتُ"، فقالت أسماءُ: هنيئًا لجعفرٍ ما رَزَقَهُ الله من الخيرِ، ولكن أخافُ أن لا يُصدِّقَ الناسُ، فاصعَدِ المِنبرَ فَأَخبِرْ به، فصَعِدَ المِنبَر فحمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال:"يا أيُّها الناسُ، إنَّ جعفرًا مع جبريلَ وميكائيلَ له جَناحان عَوَّضَه اللهُ من يدَيه، سَلَّم عليَّ"، ثم أخبرهم كيف كان أمرُه حيثُ لقيَ المشركين، فاستبانَ للناسِ بعد اليومِ الذي أخبَرَ رسولُ الله ﷺ أن جعفرًا لَقِيَهم؛ فلذلك سُمّي الطّيَّارَ في الجنة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4937 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا آپ کے قریب ہی تھیں کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: اے اسماء! یہ جعفر بن ابی طالب ہیں جو جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے ساتھ ہیں، انہوں نے ہمیں سلام کیا ہے، تم بھی انہیں سلام کا جواب دو، اور انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ ان کا فلاں فلاں دن مشرکین سے مقابلہ ہوا تھا - یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ان کے گزرنے سے تین یا چار دن پہلے کا ہے - جعفر نے بتایا: میں مشرکین سے لڑا، میرے جسم کے اگلے حصے پر نیزوں، تیروں اور تلواروں کے تہتر زخم لگے، پھر میں نے جھنڈا اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا تو وہ کاٹ دیا گیا، پھر میں نے بائیں ہاتھ سے پکڑا تو وہ بھی کاٹ دیا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے دونوں ہاتھوں کے بدلے دو پر عطا فرما دیے جن کے ذریعے میں جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ اڑتا ہوں، میں جنت میں جہاں چاہتا ہوں اترتا ہوں اور وہاں کے جو پھل چاہتا ہوں کھاتا ہوں، اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جعفر کو اللہ نے جو خیر عطا فرمائی وہ انہیں مبارک ہو، لیکن مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس کی تصدیق نہ کریں، اس لیے آپ منبر پر تشریف لے جا کر لوگوں کو اس کی خبر دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک جعفر، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ ہیں، ان کے دو پر ہیں جو اللہ نے انہیں ان کے ہاتھوں کے بدلے عطا کیے ہیں، انہوں نے مجھے سلام کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس واقعے کی خبر دی جب ان کا مشرکین سے مقابلہ ہوا تھا، پس لوگوں پر اس دن کے بعد یہ واضح ہو گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خبر دی تھی کہ جعفر کا ان سے مقابلہ ہوا؛ اسی لیے انہیں جنت میں «الطَّيَّار» اڑنے والا کہا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5001]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة سعدان بن الوليد، فلم نقف له على ترجمة.» [ترقيم الرساله 5001] [ترقيم الشركة 4967] [ترقيم العلميه 4937]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة سعدان بن الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں