المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
240. شَهَادَةُ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ فِي سِتَّةِ نَفَرٍ
سیدنا مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کی شہادت چھ افراد کے ساتھ
حدیث نمبر: 5046
أخبرني أبو جعفر البغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حدثني أبو الأسود، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: كان مع رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ فَرَسان، أحدُهما لِمَرثدِ بن أبي مَرثد، والآخرُ للزُّبير (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یومِ بدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (پورے لشکر میں) صرف دو گھوڑے تھے، جن میں سے ایک سیدنا مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا تھا اور دوسرا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم كما تقدم بيانه برقم (4378) غير أنه مرسلٌ، وقد وافق عروةَ بنَ الزبير عليه يزيدُ بنُ رُومان عند ابن سعد في "طبقاته الكبرى" 2/ 21، وزاد في رواية: وفرس عليه المقداد بن عمرو.» [ترقيم الرساله 5046] [ترقيم الشركة 5009] [ترقيم العلميه 4978]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم كما تقدم بيانه برقم (4378) غير أنه مرسلٌ
حدیث نمبر: 5047
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، أنَّ ناسًا من عَضَلٍ والقَارَةِ - وهما حيّان من جَدِيلة - أتَوا النَّبِيَّ ﷺ بعد أُحدٍ، فقالوا: إِنَّ بأرضنا إسلامًا، فابعث معنا نفَرًا من أصحابك يُقرئون القرآن ويفقِّهونا في الإسلام، فبعثَ رسولُ الله ﷺ معهم سنةَ نَفَرٍ، منهم مَرثَد بن أبي مَرثَد حليفُ حمزةَ بن عبد المُطّلب، وهو أميرُهم، وخالد بن البُكَير اللَّيثي حليفُ بني عَدِيٍّ، وعبد الله بن طارق الظَّفَري، وزيد بن الدَّثِنَة، وخُبيب بن عَدِيٍّ، وعاصم بن ثابت ابن الأَقْلَح، فخرجُوا وأميرُهم مَرثَدُ بن أبي مَرثَد، حتَّى إذا كانوا بالرَّجِيع أتتهم هُذَيلٌ، فلم يَرُعِ القومَ في رحالِهم إلَّا الرجالُ في أيديهم السيوفُ قد غَشُوهم بها، فأخذ القومُ أسيافَهم ليُقاتِلُوهم، فقالوا: اللهم ما نريد قَتْلَكم، ولكنا نريد أن نُصيبَ من أهل مكة، فلكم عهدُ الله ومِيثاقُه، فأما عاصمٌ ومَرَثَدٌ وخالدٌ فقاتَلُوا حتَّى قُتِلوا، وقالوا: والله ما نَقبَلُ من مُشركٍ عهدًا ولا عَقْدًا أبدًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4979 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4979 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ جنگِ احد کے بعد عضل اور قارہ قبائل (جو جدیلہ کی دو شاخیں ہیں) کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”ہمارے علاقے میں اسلام (پھیل رہا) ہے، لہذا اپنے صحابہ میں سے چند افراد ہمارے ساتھ بھیجیں جو ہمیں قرآن پڑھائیں اور ہمیں دینِ اسلام کی سمجھ بوجھ (فقہ) عطا کریں۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ چھ افراد روانہ فرمائے جن میں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف سیدنا مرثد بن ابی مرثد بھی شامل تھے اور وہی ان کے امیر تھے، نیز خالد بن بکیر لیثی جو بنو عدی کے حلیف تھے، عبداللہ بن طارق ظفری، زید بن دثنہ، خبیب بن عدی اور عاصم بن ثابت بن اقلح بھی اس وفد میں شامل تھے۔ پس یہ قافلہ اپنے امیر مرثد بن ابی مرثد کی قیادت میں روانہ ہوا یہاں تک کہ جب وہ مقامِ رجیع پر پہنچے تو قبیلہ ہذیل نے ان پر حملہ کر دیا۔ وہ لوگ ابھی اپنے کجاووں میں آرام ہی کر رہے تھے کہ اچانک تلواریں لیے مردوں نے انہیں گھیر لیا۔ صحابہ نے دفاع کے لیے اپنی تلواریں سنبھالیں تو ان (حملہ آوروں) نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارا ارادہ تمہیں قتل کرنے کا نہیں ہے بلکہ ہم اہل مکہ سے (تمہیں ان کے حوالے کر کے انعام) حاصل کرنا چاہتے ہیں، تمہارے لیے اللہ کا عہد اور اس کا میثاق ہے (کہ ہم تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے)۔ لیکن عاصم، مرثد اور خالد لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے اور انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم کسی مشرک کا عہد اور اس کا کوئی معاہدہ کبھی قبول نہیں کریں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5047]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، فإنَّ عاصم بن عمر بن قتادة تابعيّ، لكن روي نحو خبره هذا عند البخاري (4086) من حديث أبي هريرة، إلّا أنه جاء في حديث أبي هريرة أنَّ أميرهم كان عاصم بن ثابت. قال الحافظ في "الفتح" 12/ 213: ما في الصحيح أصَحُّ.» [ترقيم الرساله 5047] [ترقيم الشركة 5010] [ترقيم العلميه 4979]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره