🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
240. شهادة مرثد بن أبى مرثد فى ستة نفر
سیدنا مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کی شہادت چھ افراد کے ساتھ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5047
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، أنَّ ناسًا من عَضَلٍ والقَارَةِ - وهما حيّان من جَدِيلة - أتَوا النَّبِيَّ ﷺ بعد أُحدٍ، فقالوا: إِنَّ بأرضنا إسلامًا، فابعث معنا نفَرًا من أصحابك يُقرئون القرآن ويفقِّهونا في الإسلام، فبعثَ رسولُ الله ﷺ معهم سنةَ نَفَرٍ، منهم مَرثَد بن أبي مَرثَد حليفُ حمزةَ بن عبد المُطّلب، وهو أميرُهم، وخالد بن البُكَير اللَّيثي حليفُ بني عَدِيٍّ، وعبد الله بن طارق الظَّفَري، وزيد بن الدَّثِنَة، وخُبيب بن عَدِيٍّ، وعاصم بن ثابت ابن الأَقْلَح، فخرجُوا وأميرُهم مَرثَدُ بن أبي مَرثَد، حتَّى إذا كانوا بالرَّجِيع أتتهم هُذَيلٌ، فلم يَرُعِ القومَ في رحالِهم إلَّا الرجالُ في أيديهم السيوفُ قد غَشُوهم بها، فأخذ القومُ أسيافَهم ليُقاتِلُوهم، فقالوا: اللهم ما نريد قَتْلَكم، ولكنا نريد أن نُصيبَ من أهل مكة، فلكم عهدُ الله ومِيثاقُه، فأما عاصمٌ ومَرَثَدٌ وخالدٌ فقاتَلُوا حتَّى قُتِلوا، وقالوا: والله ما نَقبَلُ من مُشركٍ عهدًا ولا عَقْدًا أبدًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4979 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ احد کے بعد جدیلہ کے دو قبیلوں عضل اور قارہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے علاقے میں بھی اسلام (پہنچ چکا) ہے، اس لئے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ وہ ہمیں قرآن سکھائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ 6 آدمی روانہ فرما دیئے، ان میں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف سیدنا مرثد ابن ابی مرثد رضی اللہ عنہ بھی تھے اور یہ ان کے امیر تھے۔ اور بنی عدی کے حلیف سیدنا خالد بن بکیر الیثی رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن طارق الظفری رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ، سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عاصم بن ثاب بن ابی الافلح رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ لوگ روانہ ہو گئے اور مرثد ابن ابی مرثد رضی اللہ عنہ ان کے امیر تھے۔ جب یہ لوگ مقام رجیع میں پہنچے تو ہذیل کے لوگ وہاں آ پہنچے، ان لوگوں نے اپنے خیموں میں سے دیکھا کہ یہ لوگ ہاتھوں میں تلواریں اٹھائے ہوئے ان کا گھیراو ٔکر رہے ہیں تو انہوں نے بھی اپنی تلواریں نیام سے نکال لیں، ہذیل کے لوگوں نے کہا: ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے بلکہ ہم تو (تمہیں زندہ اہل مکہ کے حوالے کر کے) اہل مکہ سے تمہارے عوض انعام و اکرام لینا چاہتے ہیں۔ اس لئے تم ہمارے ساتھ اللہ کے نام پر عہد کرو (کہ تم ہمارے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کرو گے)۔ سیدنا عاصم، سیدنا مرثد اور سیدنا خالد نے ان کا عہد قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ کہہ کر کہ ہم کسی مشرک کا عہد اور وعدہ کبھی بھی قبول نہیں کر سکتے، ان کے ساتھ لڑ پڑے حتی کہ تینوں شہید ہو گئے۔ (اور باقی تینوں نے ان کا عہد قبول کر لیا تھا، ہذیل ان تینوں کو لیکر مکہ روانہ ہو گئے، جب یہ لوگ مرالظھران مقام پر پہنچے تو سیدنا عبداللہ بن طارق ان سے لڑ پڑے، ان لوگوں نے پتھر مار مار کر ان کو وہیں شہید کر دیا، باقی دونوں کو مکہ لے جا کر بیچ ڈالا، سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حجیر ابن اہاب کی اولادوں نے خریدا اور حارث بن عامر کے بدلے میں ان کو شہید کر دیا، سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا اور اپنے باپ کے بدلے میں ان کو شہید کر دیا۔) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5047]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5047 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، فإنَّ عاصم بن عمر بن قتادة تابعيّ، لكن روي نحو خبره هذا عند البخاري (4086) من حديث أبي هريرة، إلّا أنه جاء في حديث أبي هريرة أنَّ أميرهم كان عاصم بن ثابت. قال الحافظ في "الفتح" 12/ 213: ما في الصحيح أصَحُّ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے، اگرچہ اس کی سند مرسل ہے (کیونکہ عاصم بن عمر تابعی ہیں) لیکن اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بخاری (4086) میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں اس جیسی خبر موجود ہے، مگر وہاں امیر کا نام "عاصم بن ثابت" مذکور ہے۔ حافظ ابن حجر "فتح الباری" (12/213) میں فرماتے ہیں کہ: "جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے"۔
وأخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 169، وابن سعد في "الطبقات الكبرى" 2/ 51 - 52، وخليفة بن خياط في "تاريخه" ص 74 - 75، والطبري في "تاريخه" 2/ 538 - 539، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" بإثر الحديث (616)، والطبراني في "الكبير" 20/ (775)، وأبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (4230)، والبيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 328 وابن الأثير في "أسد الغابة" 2/ 135 من طُرق عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ہشام (2/169)، ابن سعد (2/51-52)، خلیفہ بن خیاط (ص 74-75)، طبری (2/538-539)، بغوی (616 کے بعد)، طبرانی (20/775)، ابو نعیم (4230)، بیہقی (3/328) اور ابن الاثیر نے "اسد الغابہ" (2/135) میں مختلف طرق سے محمد بن اسحاق عن عاصم بن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔