المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
268. فَضْلُ التَّحْمِيدِ عِنْدَ الْعَطْسَةِ
چھینک آنے پر الحمد للہ کہنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 5097
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، أخبرنا عبد العزيز بن عِمران، حدثني رِفاعة بن يحيى، عن مُعاذ بن رفاعة بن رافع، عن رفاعة بن رافع بن مالك (2) ، قال: لما كان يومُ بدرٍ تجمّع الناسُ على أُميّة بن خَلَف، فأقبلتُ إليه فنظرتُ إلى قِطعةٍ من دِرْعه قد انقطَعتْ من تحت إبْطِه، قال: فأَطعُنُه بالسيف فيها طَعنةً فقطعتُه، ورُمِيتُ بسهمٍ يوم بدرٍ، فَفُقِئَت عيني، فبَصَقَ فيها رسولُ الله ﷺ ودعا لي، فما آذاني منها شيءٌ (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5024 - عبد العزيز بن عمران ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5024 - عبد العزيز بن عمران ضعفوه
سیدنا رفاعہ بن رافع اپنے والد سیدنا رفاعہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن کافی سارے لوگوں نے امیہ بن خلف کا گھیراؤ کیا ہوا تھا، میں اس کی طرف متوجہ ہوا، میں نے اس کی زرہ کو دیکھ لیا کہ اس کی بغل کے نیچے سے ایک جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے، چنانچہ میں نے تلوار کا وہیں پر وار کیا اور اس کو قتل کر ڈالا، جنگ بدر میں میری آنکھ میں ایک تیر آ کر لگا جس کی وجہ سے میری وہ آنکھ ضائع ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آنکھ میں اپنا لعاب دہن لگایا، اور دعا فرمائی، (اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ) مجھے کسی قسم کا کوئی درد وغیرہ محسوس نہیں ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5097]