🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

268. فَضْلُ التَّحْمِيدِ عِنْدَ الْعَطْسَةِ
چھینک آنے پر الحمد للہ کہنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5097
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، أخبرنا عبد العزيز بن عِمران، حدثني رِفاعة بن يحيى، عن مُعاذ بن رفاعة بن رافع، عن رفاعة بن رافع بن مالك (2) ، قال: لما كان يومُ بدرٍ تجمّع الناسُ على أُميّة بن خَلَف، فأقبلتُ إليه فنظرتُ إلى قِطعةٍ من دِرْعه قد انقطَعتْ من تحت إبْطِه، قال: فأَطعُنُه بالسيف فيها طَعنةً فقطعتُه، ورُمِيتُ بسهمٍ يوم بدرٍ، فَفُقِئَت عيني، فبَصَقَ فيها رسولُ الله ﷺ ودعا لي، فما آذاني منها شيءٌ (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5024 - عبد العزيز بن عمران ضعفوه
سیدنا رفاعہ بن رافع بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو لوگ امیہ بن خلف کے گرد اکٹھے ہو گئے (تاکہ اسے قتل کریں)، میں بھی اس کی طرف بڑھا تو میں نے دیکھا کہ اس کی زرہ کا ایک حصہ اس کی بغل کے نیچے سے کٹا ہوا تھا، چنانچہ میں نے اس جگہ تلوار سے ایسا وار کیا جس نے اسے کاٹ کر رکھ دیا، اسی طرح بدر کے دن مجھے ایک تیر لگا جس سے میری آنکھ ضائع ہو گئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور میرے لیے دعا فرمائی، تو اس کے بعد مجھے اس میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5097]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل عبد العزيز بن عمران» [ترقيم الرساله 5097] [ترقيم الشركة 5057] [ترقيم العلميه 5024]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں