سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب قِلَّةِ الْمَهْرِ
باب: مہر کم رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ:" مَا أَصْدَقْتَهَا؟" قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ". قال أَبُو دَاوُدَ: النَّوَاةُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَالنَّشُّ عِشْرُونَ، والأوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: ”اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ۱؎) کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2109]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زعفران کے نشانات دیکھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”مہر کتنا دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک «نَوَاةٌ» (گٹھلی) پانچ درہم کے برابر ہوتی ہے اور «نَشٌّ» بیس درہم کا اور «أُوقِيَّةٌ» چالیس درہم کا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 339)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، مناقب الأنصار 3 (3781)، 50 (3937)، النکاح 7 (5072)، 49 (5138)، 54 (5153)، 56 (5155)، 68 (5167)، الأدب 67 (6082)، الدعوات 53 (6383)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1472)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094) البر والصلة 22 (1933)، سنن النسائی/النکاح 75 (3375)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1907)، موطا امام مالک/النکاح 21(47)، مسند احمد (3/165، 190، 205)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2108)، النکاح 22 (2250) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نواۃ پانچ سو درہم کو کہتے ہیں، یعنی پانچ درہم (لگ بھگ پندرہ گرام) کے برابر سونا مہر مقرر کیا اور بعضوں نے کہا ہے کہ نواۃ سے کھجور کی گٹھلی مراد ہے۔
۲؎: یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
۲؎: یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (3375 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (3375 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرَائِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا. وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے (اس عورت کو اپنے لیے) حلال کر لیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2110]
موسیٰ بن مسلم بن رومان، ابوالزبیر سے، وہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی عورت کو مہر میں دو ہاتھ بھر کر ستو دے دیے یا کھجور، اس نے اس کو حلال کر لیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس روایت کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے، انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کیا ہے۔“ اور ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم ایک مٹھی طعام پر متعہ کر لیا کرتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کو ابن جریج نے بواسطہ ابوالزبیر، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ابوعاصم کی طرح بیان کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/355) (ضعیف)» (ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن رومان مجہول ہیں، نیز حدیث کے موقوف و مرفوع ہونے میں اضطراب ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ بات متعہ کی حرمت سے پہلے کی ہے،جیسا کہ مؤلف کے ذکر کردہ کلام سے ظاہر ہو رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن رومان مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال : ابن حجر في التقريب :’’ضعيف ‘‘ (7011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
إسناده ضعيف
ابن رومان مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال : ابن حجر في التقريب :’’ضعيف ‘‘ (7011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80