🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب قلة المهر
باب: مہر کم رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرَائِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا. وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے (اس عورت کو اپنے لیے) حلال کر لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2110]
موسیٰ بن مسلم بن رومان، ابوالزبیر سے، وہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی عورت کو مہر میں دو ہاتھ بھر کر ستو دے دیے یا کھجور، اس نے اس کو حلال کر لیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے، انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کیا ہے۔ اور ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، انہوں نے ابوالزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم ایک مٹھی طعام پر متعہ کر لیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کو ابن جریج نے بواسطہ ابوالزبیر، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ابوعاصم کی طرح بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/355) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن رومان مجہول ہیں، نیز حدیث کے موقوف و مرفوع ہونے میں اضطراب ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ بات متعہ کی حرمت سے پہلے کی ہے،جیسا کہ مؤلف کے ذکر کردہ کلام سے ظاہر ہو رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن رومان مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال : ابن حجر في التقريب :’’ضعيف ‘‘ (7011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥صالح بن رومان المكي
Newصالح بن رومان المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← صالح بن رومان المكي
ثقة ثبت
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← الضحاك بن مخلد النبيل
صحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة متقن
👤←👥إسحاق بن أبي عيسى البغدادي
Newإسحاق بن أبي عيسى البغدادي ← يزيد بن هارون الواسطي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2110
من أعطى في صداق امرأة ملء كفيه سويقا أو تمرا فقد استحل
بلوغ المرام
886
من أعطى في صداق امرأة سويقا أو تمرا فقد استحل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2110 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2110
فوائد ومسائل:
نکاح متعہ خیبر سے پہلے حلال تھا، بعد میں بھی کچھ اوقات میں حلال رہا۔
مگر فتح مکہ کے موقع پر کلیتا حرام کر دیا گیا۔
یہ قصہ نزول حرمت سے پہلے کا ہو سکتا ہے اور اس میں اصل بات کم سے کم مہرکا ذکر ہے جو کہ شرعی حلال نکاح لازمی جزو ہے۔
متعہ کے باقی امور منسوخ کرکے حرام قراد دیے جا چکے ہیں۔
(مزید دیکھے. فوائد حدیث نمبر2073)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2110]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 886
حق مہر کا بیان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے مہر میں عورت کو ستو یا کھجوریں دے دیں اس نے حلال کر لیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ترجیح بھی اسی کو دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 886»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب قلة المهر، حديث:2110.* ابن رومان مستور وثقه ابن حبان وحده وفيه علة أخري.»
تشریح:
یہ حدیث دلیل ہے کہ جب نکاح کرنے والے مرد و عورت کسی مقدار مہر پر راضی ہو جائیں ‘ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر‘ جبکہ اس کی قیمت ہو تو یہ جائز ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 886]

Sunan Abi Dawud Hadith 2110 in Urdu