المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
439. ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عباس بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5483
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن إسحاق بن راشد، عن عمرو بن وابصةَ الأسدي، عن أبيه قال: إني بالكوفة في داري، إذ سمعتُ على باب الدار: السلام عليكم، أَلِجُ؟ فقلت: وعليك السلام، فلِج، فلما دخل فإذا هو عبدُ الله ابن مسعود، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، أيةُ ساعة زيارةٍ هذه، وذلك في نَحْر الظَّهِيرة، قال: طالَ عليَّ النهارُ، فتذكرتُ من أتحدَّثُ إليه، قال: فجعل يُحدِّثني عن رسول الله ﷺ وأحدِّثُه، ثم أنشأ يحدِّثني فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"تكونُ فتنةٌ، النائمُ فيها خيرٌ من المُضطَجِع، والمُضطَجِعُ فيها خيرٌ من القاعد، والقاعِدَ فيها خيرٌ من القائم، والقائمُ فيها خيرٌ من الماشي، والماشي خيرٌ من الراكب، والراكبُ خيرٌ من المُجْرِي، قَتلاها كلُّها في النار" قلتُ: يا رسول الله، ومتى ذلك؟ قال:"ذلك أيامَ الهَرْج" قلت: ومتى أيامُ الهَرْج؟ قال:"حين لا يَأْمَنُ الرجلُ جَلِيسَه" قلت فيمَ تأمُرُني إن أدركتُ ذلك الزمان؟ قال:"اكفُفْ نفْسَك ويدَك، وادخُلْ دارَك" قلت: يا رسول الله، أرأيت إن دُخِلَ عليَّ داري؟ قال:"فادخُل بيتك" قلت: أرأيتَ إِن دُخِلَ عليَّ بيتي؟ قال:"فادخُل مسجدَك، فاصنع هكذا وقبض بيمينه على الكُوع - وقل: ربي الله، حتى تموتَ على ذلك" (1) ذكرُ مناقب العباس بن عبد المطلب بن هاشم عمِّ رسول الله ﷺ وعلى آله أجمعين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5397 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5397 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمرو بن وابصہ اسدی کے والد فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا، دروازے پر کسی نے سلام کہہ کر اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے سلام کا جواب دیا اور اندر آنے کی اجازت دے دی۔ جب وہ آدمی اندر داخل ہوا تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! انتہائی سخت دوپہر میں ملاقات کا یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو دن بہت لمبا محسوس ہو رہا تھا میں نے سوچا کہ کسی آدمی کے پاس جا کر احادیث کا تکرار ہی کر لیا جائے۔ چنانچہ ہم ایک دوسرے کو احادیث بیان کرنے لگے، انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایک وقت میں فتنے عام ہوں گے، اس وقت سوئے ہوئے شخص کا فتنہ لیٹے ہوئے شخص سے کم ہو گا۔ اور لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، اور بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا۔ اور کھڑا ہوا پیدل چلنے والے سے بہتر ہو گا اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہو گا۔ پھر فرمایا: سب کے سب لوگ دوزخی ہوں گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وقت کب آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ہرج کے دنوں میں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج کے دن کون سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے دوست سے محفوظ نہیں ہو گا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو اس وقت کے لئے آپ مجھے کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سانس اور ہاتھ کو روک کر گھر میں بیٹھ جانا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی شخص گھر میں مجھ پر حملہ آور ہو جائے تو میں کیا کروں؟ فرمایا: تو تم اپنی حویلی کے کسی کمرے میں گھس جانا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ (دہشت گرد) میرے کمرے میں گھس آئے تو میں کیا کروں؟ فرمایا: یوں کر کے (یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ الٹے ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر) بیٹھ جانا اور ربی اللہ ربی اللہ پکارتے رہنا حتی کہ تمہاری موت واقع ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5483]
حدیث نمبر: 5484
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يوسف بن عَدِيّ، حدثنا جَرِير، عن مُغيرة، عن أبي رَزِينٍ، قال: قيل للعباس بن عبد المُطلب: أيُّما أكبرُ، أنتَ أم النبيُّ ﷺ؟ فقال: هو أكبرُ مني، وأنا وُلِدتُ قبله (1) .
مغیرہ بن ابی رزین کہتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: تم بڑے ہو یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: عمر میری زیادہ ہے لیکن مجھ سے بڑے وہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5484]