🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

480. وفاة المقداد بن عمرو
سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5571
فحدثنا بصِحّة ذلك أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو الزِّنْباع رَوْح بن الفَرَج المصري، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير [حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، عن ابن شُمَاسَة، عن سفيان بن صُهْبانة المَهْرِيّ] (3) قال: كنت صاحبًا للمقداد بن الأسود في الجاهلية، فأصابَ فيهم دمًا، فهَرَب إلى كِنْدةَ فحالَفَهم، ثم أصابَ فيهم دمًا، فهَرَب إلى مكة، فحالَفَ الأسودَ بن عبدِ يَغُوثَ، فلذلك نُسِب إليه (4) .
سعید بن عفیر فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں، میں مقداد بن اسود کا دوست ہوتا تھا، ان سے ایک قتل ہو گیا تھا اس لئے یہ مقام کندہ کی جانب بھاگ گئے اور ان لوگوں کے حلیف بن گئے، پھر وہاں بھی ان سے قتل ہو گیا تو یہ مکہ کی جانب بھاگ گئے اور یہاں اسود بن عبد یغوث کے حلیف بنے، اسی وجہ سے ان کو اسود کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5571]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5572
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: المِقدادُ بن الأسود، ويُكنى أبا مَعْبَد، مات سنة ثلاثين، بلغ نحوًا من سبعين سنةً، وكان يُصفِّر لِحْيتَه، مات بالجُرْفِ، فحُمِل على رِقاب الرِّجال، وصلَّى عليه عثمانُ بن عفّان ﵁، ودُفِن بالبقيع (1) .
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومعبد تھی، ان کا انتقال ستر سال کی عمر میں سن تیس ہجری کو ہوا۔ آپ داڑھی پر زرد خضاب لگایا کرتے تھے۔ ان کا انتقال مقام جرف (جو کہ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے) پر ہوا، لوگ ان کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ شریف لائے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5572]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5573
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهَاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، قال: المِقداد بن عَمرو بن ثَعْلبة بن مالك بن رَبيعة، وذَكَر إلى قُضَاعةَ، كان يُكنى أبا مَعْبَد، وكان حالَفَ الأسودَ بن عبد يَغُوث الزُّهْرِيّ في الجاهلية، فتبنّاه، وكان يقال له: المِقداد بن الأسوَد، فلما نزل القرآن ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [الأحزاب: 5] قيل له: المِقداد بن عَمرو. وهاجَرَ المِقدادُ إلى أرض الحبشة الهجرةَ الثانيةَ في رواية ابن إسحاق، وشهد المقداد بدرًا وأحدًا والخَندق والمَشاهِدَ كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، وكان من الرُّمَاة المذكُورين من أصحابِ رسول الله ﷺ (1) .
محمد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ تھے، اور ان کا نسب قضاعہ تک بیان کیا گیا ہے۔ ان کی کنیت ابو معبد تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں انہوں نے اسود بن عبد یغوث زہری سے حلف (معاہدۂ موالات) کیا تھا، اسود نے انہیں اپنا متبنّٰی بنا لیا تھا، اسی وجہ سے انہیں مقداد بن اسود کہا جاتا تھا۔ پھر جب قرآن نازل ہوا:انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو(سورۂ احزاب: 5)، تو انہیں مقداد بن عمرو کہا جانے لگا۔ مقداد نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی، جیسا کہ ابن اسحاق کی روایت میں ہے۔ انہوں نے بدر، احد، خندق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام معرکوں میں شرکت کی، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور تیرانداز صحابہ میں سے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5573]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5574
قال ابن عُمر: حَدَّثَنَا موسى بن يعقوب، عن عَمَّتِه [عن أمّها] (2) كريمةَ بنت المِقداد: أنها وَصَفَتْ أباها لهم، فقالت: كان رجُلًا طوالًا، آدمَ، أَبْطَنَ، كثيرَ شَعر الرأسِ، يُصفِّرُ لِحْيتَه، وهي حَسَنةٌ ليست بالعَظيمةِ ولا بالخَفِيفَةِ، أَعْيَنَ مَقْرُونَ الحاجِبَين، أَقْنَى. قالت: ومات المقدادُ بالجُرْف على ثلاثة أميالٍ من المدينة، فحُمل على رِقاب الرجال، ودُفن بالمدينة، وصلَّى عليه عثمانُ بن عفّان، وذلك سنة ثلاثٍ وثلاثين، وكان يومَ ماتَ ابنَ سبعين سنةً أو نحوَها (3) .
ابن عمر کہتے ہیں: ہم سے موسیٰ بن یعقوب نے اپنی پھوپھی کریمہ بنت مقداد سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد کی صفت بیان کی۔ انہوں نے کہا: وہ لمبے قد کے آدمی تھے، گندمی رنگ کے، پیٹ نکلے ہوئے، سر کے بال گھنے تھے، داڑھی میں زردی کیا کرتے تھے۔ ان کی داڑھی نہ بہت بڑی تھی نہ بہت ہلکی بلکہ درمیانی اور خوب صورت تھی۔ آنکھیں بڑی تھیں، بھنویں آپس میں ملی ہوئی تھیں، اور ناک اونچی تھی۔ انہوں نے کہا: مقداد کی وفات جُرُف میں ہوئی، جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے، پھر انہیں لوگوں کے کندھوں پر اٹھا کر مدینہ لایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ عثمان بن عفان نے پڑھائی، یہ واقعہ سنہ تینتیس ہجری کا ہے۔ جس دن ان کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر ستر برس یا اس کے قریب تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5574]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں