المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
517. ذِكْرُ وَقْعَةِ الْجَمَلِ
جنگِ جمل کے واقعے کا بیان
حدیث نمبر: 5692
حدثني محمد بن مُظفَّر الحافظ - وأنا سألتُه - حدثني الحسين بن يحيى بن عياش القَطّان، حدثنا الحُسين بن بَحْر (1) البَيْرُوذي، حدثنا غالب بن حَلْبَس الكَلْبي أبو الهيثم، حدثنا جُوَيرِية بن أسماء، عن يحيى بن سعيد، حدثنا عَمِّي، قال: لما كان يومُ الجَمَل نادى عليّ في الناس: لا تَرمُوا أحدًا بسهمٍ، ولا تَطعُنوا برُمح، ولا تَضرِبوا بسيف، ولا تَطلُبوا القومَ، فإنَّ هذا مَقامٌ مَن أُفلِجَ فيه فَلَجَ (2) يومَ القيامة، قال: فتواقفنا، ثم إنَّ القومَ قالوا بأجْمعَ: يا ثاراتِ عثمانَ، قال: وابنُ الحَنفيّة أمامَنا برَتْوةٍ (3) معه اللواءُ، قال: فناداهُ عليٌّ، قال: فأقبَلَ علينا بعُرْضِ وجهِه، فقال: يا أميرَ المؤمنين، يقولون يا ثاراتِ عثمانَ، فمَدَّ عليٌّ يدَيه وقال: اللهمَّ أكِبَّ قَتَلةَ عثمانَ اليومَ لوجوههم، ثم إنَّ الزُّبيرَ قال الأَساورةٍ (4) كانوا معه: ارمُوهم برَشْقٍ، وكأنه أرادَ أن يَنْشَبَ القِتالُ، فلما نَظَرَ أصحابُه إلى الانتِشابِ لم يَنتَظِروا وحَمَلُوا فهَزَمَهم اللهُ، ورمى مَروانُ بن الحَكَم طلحةَ بن عُبيد الله بسهمٍ فشَكَّ ساقَه بجَنْب فرسِه، فقَبَضَ (1) به الفرسُ حتى لَحِقه فذَبَحَه، فالتفتَ مَروانُ إلى أبانَ بن عثمانَ وهو معه، فقال: لقد كفَيتُك أحدَ قَتَلةِ أبيك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5593 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5593 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحییٰ بن سعید اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ جب جنگِ جمل کا دن تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں منادی کرائی کہ: ”نہ کوئی تیر چلائے، نہ نیزہ مارے، نہ تلوار سے ضرب لگائے اور نہ ہی کسی کا پیچھا کرے، کیونکہ یہ ایسا مقام ہے جس میں جو غالب رہا وہ قیامت کے دن بھی کامیاب ہوگا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہو گئے، پھر ان لوگوں نے بیک زبان ہو کر پکارا: ”اے عثمان کے خون کا بدلہ لینے والو!“ انہوں نے کہا کہ ابن الحنفیہ جھنڈا لیے ہمارے سامنے تھوڑے فاصلے پر تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں پکارا تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! وہ پکار رہے ہیں کہ اے عثمان کے خون کا بدلہ لینے والو، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا دیے اور دعا کی: «اللهمَّ أكِبَّ قَتَلةَ عثمانَ اليومَ لوجوههم» ”اے اللہ! آج عثمان کے قاتلوں کو ان کے چہروں کے بل اوندھا گرا دے۔“ پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود دستوں سے کہا کہ ان پر تیروں کی بوچھاڑ کر دو، گویا وہ لڑائی شروع کرنا چاہتے تھے، جب ان کے ساتھیوں نے لڑائی شروع ہوتے دیکھی تو انہوں نے انتظار نہیں کیا اور حملہ کر دیا، پھر اللہ نے انہیں ہزیمت دے دی اور مروان بن حکم نے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو ایک تیر مارا جس نے ان کی پنڈلی کو ان کے گھوڑے کے پہلو کے ساتھ پیوست کر دیا، گھوڑا انہیں لے کر بھاگا یہاں تک کہ مروان نے انہیں جا لیا اور انہیں شہید کر دیا، پھر مروان ابان بن عثمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس کے ساتھ تھا اور کہا: ”میں نے تمہارے باپ کے قاتلوں میں سے ایک سے تمہارا بدلہ لے لیا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5692]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل إبهام عمِّ يحيى بن سعيد الأنصاري، وغالب بن حَلْبَس صدوق، وقد تُوبع.» [ترقيم الرساله 5692] [ترقيم الشركة 5639] [ترقيم العلميه 5593]
الحكم على الحديث: إسناده حسن