🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

518. انْصِرَافُ طَلْحَةَ عَنْ مَعْرَكَةِ الْجَمَلِ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے الگ ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5693
أخبرني أبو الوليد وأبو بكر بن قُرَيش، حدثنا الحسن بن سُفيان، حدثنا أحمد (3) بن عَبْدة، حدثنا الحُسين بن الحَسن (4) ، حدثنا رِفاعة بن إياس الضَّبِّي، عن أبيه، عن جده، قال: كنّا مع عليٍّ يومَ الجَمَل، فبعث إلى طلحةَ بن عُبيد الله: أنِ الْقَني، فأتاهُ طلحةُ، فقال: نَشَدتُك الله هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن كنتُ مولاهُ فعَليٌّ مَولاهُ، اللهمَّ والِ من والاهُ وعادِ مَن عاداهُ"؟ قال: نعم، قال: فلم تُقاتِلُني؟ قال: لم أذكُرْ، قال: فانصَرفَ طلحةُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5594 - الحسن هو العرني ليس بثقة
رفاعہ بن ایاس ضبی اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جنگِ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ مجھ سے ملاقات کریں، جب طلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے، اے اللہ! تو اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر تم مجھ سے کیوں لڑتے ہو؟ انہوں نے کہا: مجھے (یہ بات) یاد نہیں رہی تھی، چنانچہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس لوٹ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5693]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف الحُسين بن الحَسن: وهو الأشقر الفَزاري.» [ترقيم الرساله 5693] [ترقيم الشركة 5640] [ترقيم العلميه 5594]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5694
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسِي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، عن عبد الله بن مصعب، أخبرني موسى بن عُقبة، قال: سمعتُ علقمة بن وَقّاص قال: لما خرج طلحةُ والزبيرُ وعائشةُ لِطَلب دمِ عُثمان، عَرَضُوا مَن معهم بذاتِ عِرْق، فاستَصْغَروا عُرُوةَ بن الزُّبَير وأبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فردُّوهُما. قال: ورأيتُه (2) وأحبُّ المجالس إليه أخْلاها، وهو ضاربٌ بلِحيتِه على زَوْرِه، فقلت له: يا أبا مُحمّد، إني أراكَ وأحبُّ المجالسِ إليك أخلاها، وأنتَ ضارِبٌ بلِحيتِك على زَوْرِك، إن كنت تَكرهُ هذا اليومَ فدَعْه، فليس يُكرِهُك عليه أحدٌ؟ قال: يا علقمةَ بنَ وقّاص، لا تَلُمْني، كنا يدًا واحدةً على مَن سِوانا، فأصبَحُوا اليومَ جَبَلين يَزحَفُ أحدُنا إلى صاحبِه، ولكنه كان مِنّي في أمرٍ عُثمانَ ما لا أَرى كَفَّارتَه إلَّا أن يُسفَكَ دمي في طلبِ دمِه، قلت: فمحمدُ بن طلحة لِمَ تُخرِجُه ولك ولدٌ صِغارٌ؟! دَعْهُ، فإن كان أمرًا خَلَفَك في تَرِكَتِك، قال: هو أعلمُ، أكرَهُ أن أَرَى أحدًا له في هذا الأمر نيّةٌ فأَرُدَّه، فكلّمتُ محمدَ بنَ طلحة في التّخلُّف، فقال: أكرَهُ أن أسألَ الرِّجال عن أَبي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5595 - سنده جيد
علقمہ بن وقاص روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے نکلے، تو انہوں نے ذات عرق کے مقام پر اپنے لشکر کا معائنہ کیا، وہاں انہوں نے عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو کم عمر پا کر واپس بھیج دیا۔ علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ تنہائی کو سب سے زیادہ پسند کر رہے تھے اور اپنی داڑھی کو اپنے سینے پر رکھے (فکر مند) بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کی: اے ابو محمد! میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کو تنہائی سب سے زیادہ محبوب لگ رہی ہے اور آپ اپنی داڑھی سینے پر رکھے ہوئے ہیں، اگر آپ کو آج کا یہ دن ناپسند ہے تو اسے چھوڑ دیں، آپ کو اس پر کوئی مجبور نہیں کر رہا۔ انہوں نے فرمایا: اے علقمہ بن وقاص! مجھے ملامت نہ کرو، ہم دوسروں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے لیکن آج ہم دو پہاڑوں کی مانند ہو گئے ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی پر حملہ آور ہے، لیکن عثمان (رضی اللہ عنہ) کے معاملے میں مجھ سے جو کوتاہی ہوئی اس کا کفارہ مجھے سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ ان کے خون کے قصاص کی طلب میں میرا اپنا خون بہا دیا جائے۔ میں نے عرض کی: پھر آپ اپنے صاحبزادے محمد بن طلحہ کو اپنے ساتھ کیوں لے جا رہے ہیں جبکہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں؟ انہیں چھوڑ دیں تاکہ وہ آپ کے پیچھے آپ کے ترکے کی دیکھ بھال کریں، انہوں نے جواب دیا: وہ خود بہتر جانتے ہیں، میں اسے پسند نہیں کرتا کہ جس کی اس معاملے میں (جہاد کی) نیت ہو اسے روک دوں۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن طلحہ سے پیچھے رہ جانے کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں لوگوں سے اپنے والد کے بارے میں پوچھتا پھروں (یعنی میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5694]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وجوَّده الذهبي في "تلخيصه"، وقد سلف برقم (4657).» [ترقيم الرساله 5694] [ترقيم الشركة 5641] [ترقيم العلميه 5595]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں