🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

550. الْجَنَّةُ تَحْتَ الْأَبَارِقَةِ
جنت آب کشوں (پانی پلانے والوں) کے نیچے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5792
حدثني أبو عبد الله محمد بن العبّاس بن محمد بن عُصْم (2) بن بلال الضَّبِّي الشهيد، حدثنا أحمد بن محمد بن علي بن رَزِين، حدثنا علي بن خَشْرمٍ، حدثنا أبو مَخلَد عطاء بن مسلم، حدثنا الأعمش، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، قال: شَهِدْنا صِفِّينَ مع عليٍّ، وقد وكَّلْنا [بفرسِه] (3) رجلَين، فإذا كان من القوم غَفْلةٌ حَمَل عليهم، فلا يَرجِعُ حتى يَخضِبَ سيفَه دمًا، فقال: اعذِرُوني، فواللهِ ما رجعتُ حتى نَبَا (4) علَيَّ سيفي. قال: ورأيتُ عمارًا وهاشم بن عُتبة وهو يَسعَى بين الصَّفَّين، فقال عمار: يا هاشم، هذا واللهِ ليُخلَفَنَّ أمرُه وليُخذَلنَّ جُندُه، ثم قال: يا هاشم الجنةُ تحت الأبارقةِ، قد تزيَّنَ الحُورُ (1) [اليومَ ألْقى الأحِبّهْ] (2) محمدًا (3) وحِزبَهْ، يا هاشمُ، أعورُ ولا خيرَ في أعورَ لا يَغْشى البأسَ، قال: فهزَّ هاشمٌ الرايةَ، وقال: أعورُ يَبْغِي أهلَهُ مَحَلّا … قد عالَجَ الحياةَ حتّى مَلّا لا بُدَّ أن يَغُلَّ أو يُفَلّا قال: ثم أَخَذ في وادٍ من أودية صِفِّين. قال: أبو عبد الرحمن: ورأيتُ أصحابَ محمدٍ ﷺ يَتبعُون عمارًا كأنّه لهم عَلَمٌ (4) (5) . ذكرُ مناقب عبدِ الله بن بُدَيل بن وَرْقاءَ ﵄
ابوعبدالرحمن سلمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صفین میں حاضر تھے، اور ہم نے ان کے گھوڑے کی حفاظت پر دو آدمی مقرر کر رکھے تھے، جب بھی دشمن کی طرف سے غفلت ہوتی تو آپ رضی اللہ عنہ ان پر حملہ کر دیتے اور اس وقت تک واپس نہ لوٹتے جب تک آپ کی تلوار خون سے رنگین نہ ہو جاتی، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: تم مجھے معذور سمجھو، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک واپس نہیں آیا جب تک میری تلوار نے میرا ساتھ دینے سے انکار نہ کر دیا (یعنی کند ہو گئی)۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار اور ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ دونوں صفوں کے درمیان دوڑ رہے تھے، عمار نے کہا: اے ہاشم! اللہ کی قسم اس (دشمن) کے معاملے کو ضرور بدل دیا جائے گا اور اس کے لشکر کو ضرور رسوا کیا جائے گا، پھر فرمایا: اے ہاشم! جنت ڈھالوں کے سائے تلے ہے، حوریں آج سنور چکی ہیں، آج ہم اپنے محبوبوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جماعت سے ملیں گے، پھر فرمایا: اے ہاشم! تم ایک آنکھ والے ہو اور اس یک چشم شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو لڑائی کی شدت میں نہ گھسے، راوی کہتے ہیں: تو ہاشم نے اپنا جھنڈا لہرایا اور یہ اشعار کہے: یہ یک چشم شخص اپنے گھر والوں کے لیے (جنت کا) مقام تلاش کر رہا ہے، وہ زندگی کی تلخیوں کو جھیلتے ہوئے اکتا چکا ہے، اب اسے یا تو مالِ غنیمت سمیٹنا ہے یا پھر شہید ہونا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ صفین کی وادیوں میں سے ایک وادی کی طرف نکل گئے، ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ عمار کے پیچھے اس طرح چل رہے تھے گویا وہ ان کے لیے ایک جھنڈا اور نشانِ راہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5792]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو مخلد عطاء بن مسلم ليس بالقوي مضطرب الحديث، ثم إنَّ الأعمش - وهو سليمان بن مهران - لم يدرك أبا عبد الرحمن السُّلمَي - وهو عبد الله بن حبيب بن ربيعة - فهو منقطع.» [ترقيم الرساله 5792]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں