المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
552. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابو عَمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5794
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو جعفر محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عَبَادة بن زياد الأسَدي، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن عُبيد الله العَرْزَمي، حدثنا جعفر بن محمد، عن أبيه، عن محمد بن طلْحة بن يزيد بن رُكانة، عن محمد ابن الحنفيّة، قال: رأيتُ أبا عَمْرة الأنصاريَّ يوم صِفِّين - وكان بدريًّا عَقَبيًّا أُحُديًّا - وهو صائم يَلْتَوي من العَطَش، وهو يقول لغلامٍ له: وَيحَكَ تَرِّسْني، فيُترِّسُه الغلامُ، ثم رَمَى بسهمٍ، فنَزَعَ نَزْعًا ضعيفًا، حتى رَمَى بثلاثة أسهم، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن رَمى بسهمٍ في سبيل الله، فبلَغَ أو قَصَّر، كان ذلك السهمُ له نورًا يوم القيامة"، فقُتل قبل غُروب الشمس (2) . ذكرُ مناقب هاشم بن عُتبة بن أبي وَقّاص ﵁ - وهو أخو سَعْد، من المُبارِزينَ من شَبَاب أصحابِ رسول الله ﷺ.
محمد بن حنفیہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ صفین کے دن ابوعمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا - وہ بدری، عقبی اور احدی صحابی تھے - وہ روزے سے تھے اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر تڑپ رہے تھے، وہ اپنے غلام سے کہہ رہے تھے: تیرا بھلا ہو، مجھے (ڈھال سے) چھپاؤ، چنانچہ غلام انہیں چھپاتا رہا، پھر انہوں نے ایک تیر چلایا جو (کمزوری کی وجہ سے) تھوڑی دور گرا، یہاں تک کہ انہوں نے تین تیر چلائے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کی راہ میں کوئی تیر چلایا، وہ (نشانے پر) پہنچ جائے یا اس سے پہلے گر جائے، وہ تیر اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا“، پھر وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی شہید ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5794]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن محمد بن عُبيد الله العَرْزمي.» [ترقيم الرساله 5794] [ترقيم الشركة 5739]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف