المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
581. قِصَّةُ إِسْلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 5864
أخبرنا الإمام أبو الوليد حسّان بن محمد وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة وقُتيبة بن سعيد، قالا: حدثنا جَرير، عن الأعمش، عن سليمان بن مُسهِر، عن خَرَشَة بن الحُرِّ، قال: كنتُ جالسًا في حَلْقَةٍ في مسجدِ المدينة فيها شيخٌ حَسنُ الهيئةِ، وهو عبدُ الله بن سَلَام، قال: فجعل يُحدِّثُهم حديثًا حسنًا، فلما قام قال القومُ: من سرَّه أن يَنظُرَ إلى رجل من أهلِ الجنة، فليَنظُرْ إلى هذا قلتُ: والله لأَتْبعنّه فلأَعْلَمنّ مكانَ بيتِه، فتَبِعْتُه، فانطلقَ حتى كادَ أن يخرج من المدينة، ثم دخَل منزِلَه، فاستأذنتُ عليه، فأذن لي، فقال: ما حاجتُك يا ابنَ أخي؟ قلت له: سمعتُ القوم يقولون كذا وكذا، فأعجبَنَي أن أكونَ معك، قال: اللهُ أعلمُ بأهل الجنة، وسأحدِّثك مِمَّ قالوا ذلك، إني بينما أنا نائم إذ أتاني رجلٌ فقال لي: قُمْ، فأخذَ بيدِي فانطلقْتُ معه، فإذا أنا بجَوَادَّ عن شِمالي، فأخذتُ لآخُذَ فيها، فقال لي: لا تأخُذُ فيها، فإنها طريقُ أهل الشِّمال، فإذا جَوَادٌ مَنْهجٌ عن يَميني، فقال لي: خُذْ هاهنا، فإذا أنا بجَبَل، فقال لي: اصعَدْ، قال: فجعلتُ إذا أردتُ أن أصعَدَ خَرَرتُ على اسْتِي، قال: حتى فعلت ذلك مِرارًا، قال: ثم انطلَقَ حتى أتى بي عمودًا رأسه في السماء وأسفلُه في الأرض، في أعلاه حَلْقةٌ، فقال لي: اصعَدْ فوقَ هذا قال: قلتُ: كيف أصعَدُ ورأسُه في السماء؟ قال: فأخذَ بيَدِي فزَجَل بي، فإذا أنا مُتعلِّقٌ بالحَلْقةِ [قال: ثم ضَرَب العمود فخَرَّ، قال: وبقيتُ متعلِّقًا بالحَلْقة] (1) حتى أصبحتُ، فأتيت النبيَّ ﷺ فقصَصْتُها عليه، فقال:"أما الطُّرُق التي رأيتَ عن يسارِك، فهي طُرُق أهل الشِّمال، وأما الطُّرُقُ التي عن يَمينِك فهي [طُرق أهل اليَمين، وأما الجَبَل فهو مَنزلُ الشهداء، ولن تَنالَه، وأما العَمُود فهو عَمُودُ الإسلام، وأما العُرْوة، فهي] عُرْوةُ الإسلام، فلن تزالَ مُتمسِّكًا بها حتى تَموتَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5755 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5755 - على شرط البخاري ومسلم
خرشہ بن حر فرماتے ہیں: میں مسجد نبوی کے اندر ایک حلقہ درس میں موجود تھا، اس حلقہ میں ایک حسین و جمیل بزرگ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ اور لوگوں کو بہت خوبصورت انداز میں حدیث سنا رہے تھے۔ جب وہ وہاں سے اٹھ کر گئے، تو لوگ کہنے لگے: جس نے کسی جنتی شخص کو دیکھنا ہو، وہ ان کو دیکھ لے۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں ان کے پیچھے پیچھے جاؤں گا اور ان کے گھر کے بارے میں معلوم کر کے آؤں گا۔ یہ سوچ کر میں نے پیچھے چل دیا، وہ چلتے چلتے مدینے کی انتہائی آخر کی آبادی تک پہنچ گئے، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئے، ان کے اندر جانے کے بعد میں نے (ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر جانے کی) اجازت مانگی، انہوں نے مجھے اجازت دے دی، انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے میرے بھتیجے! تمہیں میرے ساتھ کیا کام ہے؟ میں نے کہا: میں نے لوگوں کو آپ کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے سنا ہے (کہ آپ جنتی ہیں)، اس وجہ سے میرے دل میں آپ سے ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا: جنتیوں کو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اور میں آپ کو اس کی وجہ بھی بتاؤں گا کہ وہ لوگ ایسی باتیں کیوں کر رہے تھے۔ (واقعہ کچھ یوں ہے کہ) ایک مرتبہ میں سو رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آ کر میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اٹھیے، پھر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہمراہ لے گیا، میں نے دیکھا کہ میری بائیں جانب ایک راستہ ہے، میں اس طرف چلنے لگا تو اس نے مجھے روک دیا اور کہا ادھر مت جائیے، کیونکہ یہ اہل شمال کا راستہ ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ میری دائیں جانب ایک راستہ ہے، اس آدمی نے مجھے کہا: آپ اس راستے پر چلیے، میں اس راستے پر چل پڑا، میں نے دیکھا کہ سامنے ایک پہاڑ ہے، اس آدمی نے مجھے کہا: اس پر چڑھ جائیے، میں نے اس پر چڑھنا چاہا تو گر گیا، میں نے کئی مرتبہ کوشش کی، لیکن ہر بار میں گر جاتا، پھر وہ آدمی گیا اور ایک ستون لے کر آیا جس کا اوپر والا سرا آسمانوں میں تھا اور نیچے والا زمین میں، اس کے اوپر والے حصے میں ایک کڑی نصب تھی، اس نے کہا: اس پر چڑھ جائیے، میں نے کہا: میں اس پر کیسے چڑھوں؟ اس کا سرا تو آسمان پر ہے۔ اس آدمی نے مجھے پکڑ کر اوپر کی جانب اچھالا، میں اس کڑی میں جا کر پھنس گیا۔ پھر میری آنکھ کھل گئی، میں صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور رات والی خواب سنائی، آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو راستہ تم نے اپنے بائیں جانب دیکھا وہ اہل شمال (یعنی دوزخیوں) کا راستہ تھا۔ اور جو راستہ تم نے اپنی دائیں جانب دیکھا وہ اہل یمن (جنتیوں) کا راستہ ہے، اور جو رسی تم نے دیکھی وہ اسلام کی رسی ہے، تم اپنے آخری وقت تک اس کو تھام کر رکھنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5864]