سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب فِي الْوَسْوَسَةِ بِالطَّلاَقِ
باب: دل میں طلاق کے خیال آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ، وَبِمَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کر دیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2209]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے میری امت سے وہ امور معاف فرما دیے ہیں جن کے متعلق انہوں نے گفتگو نہ کی ہو یا عمل نہ کیا ہو، اور وہ جس کے متعلق محض دل میں خیال آیا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 6 (2528)، والطلاق 11 (5269)، والأیمان والنذور 15 (6664)، صحیح مسلم/الإیمان 58 (127)، سنن الترمذی/الطلاق 8 (1183)، سنن النسائی/الطلاق 22 (3464، 3465)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 14 (2040)، (تحفة الأشراف: 12896)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/393، 398، 425، 474، 481، 491) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دل میں طلاق کا صرف خیال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2528) صحيح مسلم (127)