المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
684. ثَلَاثٌ لَا بُدَّ مِنْهَا لِلْإِيمَانِ
ایمان کے لیے تین چیزیں لازمی ہیں
حدیث نمبر: 6084
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يزيد بن عبد الصَّمد الدَّمشقي، حَدَّثَنَا أبو النَّضر إسحاق بن إبراهيم بن يزيد القُرَشي، حَدَّثَنَا خالد بن يزيد، حدثني هشام بن الغازِ (1) ، حدثني عُبادة بن نُسَي - وكان عاملًا لعبد الملك بن مروان على الأردنْ - قال: مررتُ بناسٍ قد اجتمعوا على شيخٍ وهو يُحدِّث، ففَرَجوا عني، فإذا شيخ يحدِّث يقول: أيها الناس، إنَّ ثلاثًا عندكم أمانةٌ، من حافَظَ عليهنَّ فهو مؤمن، ومن لم يحافظ عليهنَّ فليس بمؤمن: إن قال: صلَّيتُ ولم يُصَلِّ، وصُمتُ ولم يَصُم، وأغتَسِلُ من الجَنَابة ولم يَعْتَسِل، قال: فقال مَن يَلِيني: مَن هذا؟ قال: عقبةُ بنُ عامر الجُهَني صاحبُ رسول الله ﷺ (2) . ذكرُ مناقب حُجْر بن عَدِيٍّ ﵁ وهو راهب أصحاب محمد ﷺ، وذكرُ مَقتلِه
عبادہ بن نسی سے روایت ہے کہ میرا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو ایک بزرگ کے گرد جمع تھے اور وہ حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے میرے لیے راستہ بنایا تو دیکھا کہ وہ بزرگ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! تین چیزیں تمہارے پاس امانت ہیں، جس نے ان کی حفاظت کی وہ مومن ہے اور جس نے ان کی حفاظت نہ کی وہ مومن نہیں ہے: (وہ یہ کہ) اگر وہ کہے کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے حالانکہ نہ پڑھی ہو، یا کہے کہ میں نے روزہ رکھا ہے حالانکہ نہ رکھا ہو، یا یہ کہ میں نے جنابت کا غسل کر لیا ہے حالانکہ نہ کیا ہو۔“ عبادہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے شخص سے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ اس نے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6084]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،خالد بن يزيد: هو ابن صالح بن صبيح المري.» [ترقيم الرساله 6084] [ترقيم الشركة 6026]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح