🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

683. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَبِي عَمْرٍو الْجُهَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا عقبہ بن عامر ابو عمرو جہنی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان — اور خلافت کے بارے میں امیر معاویہ اور ابن عباس کے درمیان گفتگو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6081
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا معاذ بن نَجْدة القُرَشي، حَدَّثَنَا حمّاد بن يحيى، حَدَّثَنَا عبد الله بن المؤمَّل، عن عطاء، عن ابن عبّاس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ استَعمَلَ أبا موسى على سَرِيَّةِ البحر، فبينا هي تجري بهم في الليل، إذ ناداهم منادٍ من فوقهم: ألا أُخبِرُكم بقضاءٍ قضاه الله على نفسه، إِنَّه مَن يَعطَشْ لله في يومٍ صائفٍ، فإنَّ حقًّا على الله أن يَسْقيه يومَ العَطَش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عُقْبة بن عامر الجُهَني ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5968 - ابن المؤمل ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کی جہادی مہم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا، یہ لوگ کشتی میں تھے اور کشتی سمندر میں سفر کر رہی تھی کہ رات کے وقت کسی نے ندا دی خبردار! کیا میں تمہیں اس فیـصلے کی خبر نہ دوں جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بارے میں کر رکھا ہے، خبردار! وہ فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص گرمی کے ایام میں ایک دن اللہ کی رضا کے لئے پیاس برداشت کرے گا (یعنی روزہ رکھے گا)، اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اس کو سب سے زیادہ پیاس والے دن پانی پلائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6081]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6082
أخبرني محمد بن أحمد بن تَمِيم الحَنظلي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن العبّاس الكابُلِي (2) ، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثني زيد بن الحُبَاب، عن عبد الله ابن لَهِيعة قال: حدثني أبو الأسْوَد، عن عُرْوة: أنَّ معاوية استَعمل على مصر بعد وفاة أخيه عَنبَسة بن أبي سفيان عُقبةَ بنَ عامرٍ الجُهَني، وذلك سنة أربع وأربعين، فأقام الحجَّ فيها معاويةُ. قال أبو بكر (1) : فحدَّثني أبو بكر بنُ عيّاش، حَدَّثَنَا معروف بن يزيد (2) المكي، قال: بَيْنا عبدُ الله بن عبّاس جالسٌ في المسجد الحرام ونحن بين يديه، إذ أقبل معاويةُ فجلس إليه، فأعرَضَ عنه ابن عبّاس، فقال له معاوية: ما لي أراك مُعرِضًا؟ ألستَ تعلمُ أنِّي أحقُّ بهذا الأمر من ابن عمِّك؟ قال: لِمَ؟ قال: لأنَّهُ كان مسلمًا، وكنتَ كافرًا؟ قال: لا، ولكنِّي ابن عمِّ عثمان، قال: فابنُ عمِّه خيرٌ من ابن عمِّك، قال: إنَّ عثمان قُتِل مظلومًا، قال: وعندهما ابن عمر، فقال ابن عَبَّاس: فإنَّ هذا واللهِ أحقُّ بالأمر منك، فقال معاوية: إنَّ عمر قَتَله كافرٌ وعثمانَ قَتَلَه مسلمٌ، فقال ابن عَبَّاس: ذاك واللهِ أَدْحَضُ لحُجَّتِك (3) .
سیدنا عروہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عتبہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر بنایا تھا۔ یہ بات 44 ہجری کی ہے۔ اسی سال سیدنا معاویہ نے حج قائم فرمایا۔ معروف بن خربوذ مکی فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ اس کے اردگرد موجود تھے، سیدنا معاویہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے منہ پھیر لیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منہ پھیرنے کی وجہ پوچھتے ہوئے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے چچا زاد بھائی سے زیادہ اس منصب کا میں مستحق ہوں؟ سیدنا عبداللہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ سیدنا معاویہ نے کہا: اس لئے نہیں کہ وہ مسلمان تھے اور میں کافر تھا۔ بلکہ اس لئے کہ میں سیدنا عثمان کے چچا کا بیٹا ہوں۔ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: پھر بھی میرا چچا تمہارے چچا کے بیٹے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ظلماً شہید کیا گیا حالانکہ اس وقت ان کے پاس سیدنا عمر کے دو بیٹے موجود تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خدا کی قسم! وہ تم سے زیادہ اس منصب کا حقدار ہے۔ سیدنا معاویہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک کافر نے شہید کیا جبکہ سیدنا عثمان کو مسلمان نے شہید کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خدا کی قسم! یہی بات تو تمہاری دلیل کو باطل کر دیتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6082]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں