سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فِي اللِّعَانِ
باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ قُرْآنٌ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا"، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری، جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ (اجنبی) آدمی کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ“، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ۱؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب وہ (لعان سے) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی (ان دونوں) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2245]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”اے عاصم! بتلاؤ! اگر کوئی شخص کسی اجنبی کو اپنی بیوی کے ساتھ پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ پھر تو تم اسے بھی قتل کر دو گے یا کیا کرے؟ عاصم! میرے متعلق اس مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کرو۔“ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور اس پر عیب لگایا، حتیٰ کہ عاصم کو، جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا بہت ہی گراں گزرا۔ عاصم جب گھر لوٹا تو عویمر اس کے پاس آیا اور پوچھا: ”اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا کہا ہے؟“ عاصم نے کہا: ”تم میرے لیے کوئی خیر کا باعث نہیں بنے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہت ناپسند کیا ہے۔“ عویمر نے کہا: ”قسم اللہ کی! میں اس سے خاموش نہیں رہ سکتا۔ میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں گا۔“ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فرمائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے، تب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی قتل کر ڈالیں گے یا کیسے کرے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل فرما دیا ہے۔ پس جا اور اسے لے آ۔“ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: چنانچہ ان دونوں نے لعان کیا تو میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب ہو گا کہ میں نے) اس کی بابت جھوٹ بولا ہے (میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا ہے)۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: چنانچہ لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہو گیا (کہ لعان کے ساتھ ہی جدائی ہو جائے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 44 (423)، تفسیر سورة النور 1 (4745)، 2 (4746)، الطلاق 4 (5259)، 29 (5308)، 30 (5309)، الحدود 43 (6854)، الأحکام 18 (7166)، الاعتصام 5 (7304)، صحیح مسلم/اللعان 1(1492)، سنن النسائی/الطلاق 35 (3496)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2066)، (تحفة الأشراف: 4805)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 13(34)، مسند احمد (5/330، 334، 336، 337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لعان کا مطلب کسی عدالت میں یا کسی حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہے یا یہ بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اللہ کی اس پر لعنت ہو، اب خاوند کے جواب میں بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے اور میں جھوٹی ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے خاوند حد قذف سے بچ جائے گا اور بیوی زنا کی سزا سے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5259) صحيح مسلم (1492)
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ:" أَمْسِكِ الْمَرْأَةَ عِنْدَكَ حَتَّى تَلِدَ".
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2246]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”عورت کو اپنے ہاں روکے رکھو حتیٰ کہ بچہ جن لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4796)، وقد أخرجہ: (حم 5/335) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2247
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: حَضَرْتُ لِعَانَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ خَرَجَتْ حَامِلًا، فَكَانَ الْوَلَدُ يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ.
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کے لعان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود رہا اور میں پندرہ سال کا تھا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی لیکن اس میں اتنا اضافہ کیا کہ ”پھر وہ عورت حاملہ نکلی چنانچہ لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2247]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں ان کے لعان کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی“ اور حدیث بیان کی، اس میں ذکر کیا کہ ”پھر وہ حاملہ نکلی اور بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1492)
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي خَبَرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا"، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
لعان والی حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس (شوہر) نے سچ کہا ہے، اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے“، چنانچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2248]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ لعان کرنے والوں کے اس واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کا خیال رکھو، اگر اس نے ایسا بچہ جنا کہ آنکھیں اس کی سیاہ ہوئیں، سرین بھاری ہوئے تو میرا خیال ہے کہ اس (عویمر) نے سچ ہی کہا ہے۔ اور اگر اس نے ایسا بچہ جنا جو گورا ہوا جیسے کہ «الْوَحَرَةُ» ”وحرہ“ ہو (چھپکلی کی طرح کا ایک زہریلا کیڑا، جس کے دائیں بائیں پہلو سرخ دھاریاں ہوتی ہیں، یعنی بامنی) تو میرا خیال ہے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔“ چنانچہ بچہ پیدا ہوا تو اسی ناپسندیدہ کیفیت والا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2247)
انظر الحديث السابق (2247)
حدیث نمبر: 2249
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكَانَ يُدْعَى يَعْنِي الْوَلَدَ لِأُمِّهِ.
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2249]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے یہ خبر بیان کی تو کہا: ”پس بچے کو اپنی ماں کی طرف نسبت کر کے پکارا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4745)
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، وَغَيْرِهِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ، قَالَ سَهْلٌ: حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا.
اس سند سے بھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں (عاصم بن عدی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہو گیا کہ انہیں جدا کر دیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2250]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ میں بیان کیا کہ ”اس (عویمر رضی اللہ عنہ) نے عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نافذ کر دیا اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کیا گیا سنت بن گیا۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا۔ چنانچہ بعد میں لعان کرنے والوں کے مابین یہی طریقہ جاری رہا کہ ان میں علیحدگی کرا دی جاتی تھی اور وہ پھر کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ونُقل عن الساجي ما ملخصه :’’ روي ابن وھب عن عياض بن عبد اللّٰه الفهري أحاديث فيھا نظر ‘‘ انظر تهذيب التهذيب (201/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
إسناده ضعيف
ونُقل عن الساجي ما ملخصه :’’ روي ابن وھب عن عياض بن عبد اللّٰه الفهري أحاديث فيھا نظر ‘‘ انظر تهذيب التهذيب (201/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ:" شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَلَاعَنَا"، وَتَمَّ حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ: عَلَيْهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يُتَابِعْ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، اور میں پندرہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کے بعد جدائی کرا دی، یہاں مسدد کی روایت پوری ہو گئی، دیگر لوگوں کی روایت میں ہے کہ: ”وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی تو مرد کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر بہتان لگایا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سفیان ابن عیینہ کی کسی نے اس بات پر متابعت نہیں کی کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2251]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس وقت حاضر تھا جب دونوں میاں بیوی نے لعان کیا تھا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی۔“ جب انہوں نے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تفریق کرا دی۔ یہاں تک مسدد کی روایت مکمل ہو گئی۔ مگر دوسروں (وہب بن بیان، احمد بن عمرو بن سرح اور عمرو بن عثمان) نے کہا کہ ”وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دی تو شوہر نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”کچھ راویوں نے «عَلَيْهَا» ”اس پر“ کا لفظ ذکر نہیں کیا (صرف «كَذَبْتُ» ”میں نے جھوٹ بولا“ کہا)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ””لعان کرنے والوں میں تفریق“ کے بیان میں سفیان بن عیینہ کا کوئی متابع (مؤید) نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح خ بلفظ الآخرين
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6854)
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَانَتْ حَامِلًا، فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ، أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا.
اس سند سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ: ”وہ عورت حاملہ تھی اور اس نے اس کے حمل کا انکار کیا، چنانچہ اس عورت کا بیٹا اسی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہی طریقہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ میں ماں لڑکے کی وارث ہوتی اور لڑکا ماں کا وارث ہوتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2252]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ”وہ عورت حاملہ تھی تو شوہر نے اس کے حمل کا انکار کیا۔ چنانچہ لڑکے کو ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا۔ اور پھر وراثت میں بھی یہی طریقہ چل پڑا کہ بچہ اپنی ماں کا وارث بنتا اور ماں اپنے بچے کی وارث بنتی جتنا کہ اللہ عزوجل نے اس کا حصہ مقرر کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6746)
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّا لَلَيْلَةُ جُمْعَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ بِهِ، جَلَدْتُمُوهُ؟ أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ؟ فَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ بِهِ، جَلَدْتُمُوهُ؟ أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ؟ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ؟ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ افْتَحْ"، وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6 هَذِهِ الْآيَةَ، فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، قَالَ: فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ"، فَأَبَتْ، فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَا، قَالَ:" لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا"، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ اچانک انصار کا ایک شخص مسجد میں آیا، اور کہنے لگا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پا لے اور (حقیقت حال) بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے لگاؤ گے، یا وہ قتل کر دے تو اس کے بدلے میں تم لوگ اسے قتل کر دو گے، اور اگر وہ چپ رہے تو اندر ہی اندر غصہ میں جلے بھنے، اللہ کی قسم، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پا لے اور حقیقت حال بیان کرے تو (تہمت کی حد کے طور پر) آپ اسے کوڑے لگائیں گے، یا وہ قتل کر دے تو اسے قتل کر دیں گے، یا وہ خاموشی اختیار کر کے اندر ہی غصہ سے جلے بھنے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے: ”اے اللہ! معاملے کی وضاحت فرما دے“، چنانچہ لعان کی آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ”اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں“ (سورۃ النور: ۶) آخر تک نازل ہوئی تو لوگوں میں یہی شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوا چنانچہ وہ دونوں میاں بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں نے لعان کیا، اس آدمی نے چار بار اللہ کا نام لے کر اپنے سچے ہونے کی گواہی دی، اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر عورت لعان کرنے چلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو“، لیکن وہ نہیں مانی اور لعان کر ہی لیا، تو جب وہ دونوں جانے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید یہ عورت کالا گھنگرالے بالوں والا بچہ جنم دے“ چنانچہ اس نے وہ کالا اور گھنگرالے بالوں والا بچہ ہی جنم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2253]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک جمعے کی رات ہم مسجد میں تھے کہ ایک انصاری شخص مسجد میں داخل ہوا اور کہنے لگا: ”اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے اور اس کا اظہار کرے اور بولے تو تم لوگ (تہمت کی وجہ سے) اس کو کوڑے مارو گے یا اگر قتل کر دے تو تم اس کو بھی قتل کر ڈالو گے، (قصاص میں) اور اگر وہ خاموش رہے تو انتہائی غیظ و غضب کی بات پر خاموش رہتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا۔“ چنانچہ اگلا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور کہنے لگا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے اور پھر بولے تو آپ اسے کوڑے ماریں گے (تہمت کی وجہ سے) یا اگر قتل کر دے تو آپ اسے قتل کر دیں گے (قصاص میں) اور اگر خاموش رہے تو انتہائی غیظ و غضب کی بات پر خاموش رہتا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملہ واضح فرما دے۔“ فرمایا اور دعا کرنے لگے حتیٰ کہ لعان کی آیت ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”اور جو لوگ اپنی بیویوں کو الزام لگائیں اور ان کے پاس اپنے سوا اور کوئی گواہ نہ ہوں۔“ نازل ہوئی، چنانچہ یہی آدمی اس آفت میں مبتلا کر دیا گیا، پھر وہ اور اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں نے لعان کیا۔ مرد نے چار شہادتیں دیں کہ ”اللہ کی قسم! میں سچا ہوں۔“ اور پانچویں بار کہا: ”اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔“ پھر جب وہ عورت بھی اسی طرح لعنت کے لیے تیار ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”رک جاؤ (خیال کرو)۔“ مگر اس نے انکار کر دیا اور لعنت کی بد دعا کر دی۔ جب وہ دونوں چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید یہ بچہ جنے گی جو کالے رنگ اور گھنگریالے بالوں والا ہو گا۔“ چنانچہ وہ پیدا ہوا تو کالے رنگ اور گھنگریالے بالوں والا ہی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 10 (1495)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2068)، (تحفة الأشراف: 9425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/421، 448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1495)
حدیث نمبر: 2254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّنَةُ، أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلًا عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْبَيِّنَةُ، وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ"، فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، إِنِّي لَصَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبْرِئُ بِهِ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَجَاءَا، فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ؟" ثُمَّ قَامَتْ، فَشَهِدَتْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، وَقَالُوا لَهَا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ، فَقَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ"، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، حَدِيثُ ابْنِ بَشَّارٍ، حَدِيثُ هِلَالٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے“، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: ”گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے“، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی آیت نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ پڑھتے پڑھتے «من الصادقين» ۱؎ تک پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور آپ نے ان دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، پہلے ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہی دینے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟“ پھر عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دینے لگی، پانچویں بار میں جب ان الفاظ کے کہنے کی باری آئی کہ ”اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو“ تو لوگ اس سے کہنے لگے: یہ عذاب کو واجب کر دینے والا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: تو وہ ہچکچائی اور ہٹ گئی اور ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ باز آ جائے گی، لیکن پھر کہنے لگی: ہمیشہ کے لیے میں اپنی قوم پر رسوائی کا داغ نہ لگاؤں گی (یہ کہہ کر) اس نے آخری جملہ کو بھی ادا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اس کا ہونے والا بچہ اگر سرمگیں آنکھوں، بڑی سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“، چنانچہ انہیں صفات کا بچہ پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ نہ آ گیا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا“، یعنی میں اس پر حد جاری کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2254]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری کمر پر حد ہے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی کو اپنی بیوی پر دیکھے تو بھلا وہ گواہ ڈھونڈنے جائے گا؟“ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے: ”گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری کمر پر حد ہے۔“ تو ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”قسم اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ نبی مبعوث فرمایا ہے! میں یقیناً سچا ہوں اور اللہ عزوجل بالضرور میرے بارے میں کچھ نازل فرمائے گا جو میری کمر کو حد سے بری کر دے گا۔“ چنانچہ یہ آیات نازل ہوئیں ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ﴾ [سورة النور: 6] حتیٰ کہ «مِنَ الصَّادِقِينَ» ”سچے لوگوں میں سے ہے“ تک پہنچے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے اور ان دونوں کو بلا بھیجا اور وہ دونوں آ گئے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہی دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟“ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دی اور جب پانچویں بار کہنے لگی: ”مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ سچا ہے۔“ تو لوگوں نے اس سے کہا: ”یہ قسم (اللہ کی لعنت اور غضب کو) واجب اور لازم کر دینے والی ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عورت قدرے ٹھٹکی (بولنے میں جھجکی) اور پیچھے ہٹی، ہم سمجھے کہ شاید رجوع کر لے گی مگر اس نے کہا: ”میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے رسوا نہیں کر سکتی۔“ اور پانچویں قسم کے الفاظ کہہ ڈالے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھنا، اگر اس نے بچہ جنا سرمگین آنکھوں والا، بھری بھری سرینوں اور موٹی موٹی پنڈلیوں والا، تو یہ شریک بن سحماء کا ہو گا (جس کے ساتھ اس کو متہم کیا گیا ہے)“ چنانچہ اس نے اسی طرح کا بچہ جنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا تو میں اسے نشان عبرت بنا ڈالتا (اس پر حد جاری کرتا)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن بشار کی یہ روایت یعنی حدیثِ ہلال بیان کرنے میں اہل مدینہ متفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة النور (3179)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2067)، مسند احمد (1/273)، (تحفة الأشراف: 6225)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور 2 (4746)، الطلاق 29 (5308) (صحیح)»
وضاحت: وضاحت ۱؎: سورة النور: (۹-۶)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2671)