🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

774. فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ
انصار کے ہر دور میں خیر موجود ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6318
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي ذِئْب، وأنس بن عِيَاض، عن جعفر ابن محمد، عن أبيه: أنَّ أبا أُسَيد الأنصاريَّ قَدِمَ بسَبْي من البحرَين، فصُفُوا، فقام رسول الله ﷺ فَنَظَر إليهم، فإذا امرأةٌ تبكي، فقال:"ما يُبكيك؟" فقالت: بِيعَ ابني في بني عَبْس، فقال رسول الله ﷺ لأبي أُسَيد:"لتَركَبَنَّ فَلَتجِيئنَّ به"، فرَكِبَ أبو أُسيد فجاءَ به (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6193 - مرسل
جعفر بن محمد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ بحرین کے قیدیوں کے ہمراہ آئے تھے، ان کو ایک قطار میں کھڑا کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا معائنہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: میرے بیٹے کو بنی عبس میں بیچ دیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید سے فرمایا: تم جاؤ اور اس کے بیٹے کو لے کر آؤ، سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ گئے اور اس عورت کے بیٹے کو لے کر آئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6318]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں