المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
786. ذِكْرُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6348
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: كان مَعقِل بن سِنان بن مُظهِر (3) بن عَرَكيِّ بن فتيان بن سُبَيع بن بكر بن أشجَعَ، شهد الفتح مع رسول الله.
محمد بن عمر کہتے ہیں:” سیدنا معقل بن سنان بن مظہر بن عرکی بن فتیان بن سبیع بن بکر بن اشجع رضی اللہ عنہ “ فتح مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6348]
حدیث نمبر: 6349
فحدَّثَني (1) عبد الرحمن بن عثمان بن زياد الأشجعي، عن أبيه قال: كان معقلُ بنُ سِنان الأشجعي قد صَحِبَ النبيَّ ﷺ وحمل لواءَ قومِه يوم الفتح، وكان شابًا طريًّا، وبقي بعدَ ذلك حتى بَعثَه الوليدُ بن عُتْبة بن أبي سفيان، وكان على المدينة (2) ، فاجتمع معقلُ بن سنانٍ ومسلمُ بن عُقْبة الذي يُعرَف بمُسرِفٍ، فقال معقلٌ لمسرفٍ، وقد كان آنَسَه وحادَثَه إلى أن ذَكَر معقلٌ يزيدَ بن معاوية، فقال معقل: إني خرجتُ كَرْهًا لبيعةِ هذا الرجل، وقد كان من القضاءِ والقَدَر خروجي إليه، رجلٌ يشرب الخمرَ ويزني بالحُرَم، ثم نال منه وذكر خِصالًا كانت فيه، ثم قال لمسرفٍ: أحببتُ أن أضَعَ ذلك عندك، فقال مسرفٌ: أما أن أذكُرَ ذلك لأمير المؤمنين يومي هذا، فلا والله لا أفعَلُ، ولكنْ اللهِ عليَّ عهدٌ وميثاقٌ لا تُمكِنُني يدايَ منك ولي عليك مَقدِرةٌ، إلَّا ضربتُ الذي فيه عيناك. فلما قَدِمَ مسرفٌ المدينةَ وأَوقَعَ بهم أيامَ الحَرَّةِ، وكان معقلُ بن سِنان يومئذٍ صاحبَ المهاجرين، فأُتِيَ به مسرفٌ مأسورًا، فقال له: يا معقلَ بنَ سنان، أعَطِشتَ؟ قال: نعم، أصلَحَ اللهُ الأمير، قال: خوضوا له شربةً بلَوْز، قال: فخاضُوها له، فقال: أشرِبتَ ورَوِيتَ؟ قال: نعم، قال: أمَا والله لا تَستهنِئُ بها، يا مُفرجُ (3) ، يا نوفلَ بنَ مُساحِقٍ قمْ فاضرِبْ عنقَه، فقام إليه فقتله صَبْرًا، وكانت الحرَّةُ في ذي الحِجَّة سنةَ ثلاث وستين. فقال شاعر الأنصار: ألَا تِلكُمُ الأنصارُ تَنعَى سَرَاتَها … وأشجَعُ تَنعَى معقلَ بنَ سِنانِ (1) ذكرُ الأشعث بن قيس الكِنْدي ﵁-
ابوعبدالرحمن بن عثمان بن زیاد اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے، فتح مکہ کے موقع پر اپنی قوم کے علمبردار یہی تھے۔ اور بہت چست و چوبند نوجوان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد زندہ رہے، پھر جب ولید بن عتبہ بن ابی سفیان مدینہ کے عامل تھے، ان دنوں ولید بن عتبہ نے ان کو بھیجا، معقل بن سنان رضی اللہ عنہ اور مسلم بن عقبہ المعروف ” مسرف “ کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی، ان دونوں کی آپس میں بات چیت شروع ہوئی، دوران گفتگو یزید بن معاویہ کا ذکر چل نکلا، سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو اس آدمی کی بیعت سے نفرت کرتے ہوئے بغاوت کی ہے، اور یہ قدرت کا ہی فیصلہ تھا جو میں نے اس کے خلاف بغاوت کی ہے۔ وہ شخص شرابی ہے، زانی ہے، اس کے بعد یزید کی بہت برائیاں کیں۔ پھر مسرف سے کہا: میں تمہیں سب کچھ کھول کھول کر بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ مسرف نے کہا: میں آج کی تمام باتیں امیرالمومنین کے سامنے ذکر کروں گا۔ خدا کی قسم! اللہ کے لئے میرے ذمے یہ عہد ہے کہ جب کبھی مجھے تجھ پر غلبہ حاصل ہوا، اور تم میرے قابو میں آ گئے، تو میں تمہارا سر قلم کروا دوں گا۔ جب مسرف مدینہ میں آیا اور حرہ کا واقعہ شروع ہوا، ان دنوں سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ مہاجرین کے ہمراہ تھے۔ مسرف نے ان کو گرفتار کروایا اور کہنے لگا: اے معقل بن سنان! کیا تجھے پیاس لگی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ امیر کو نیکی کی ہدایت دے۔ مسرف نے حکم دیا کہ اس کو بلور کا پانی پلایا جائے، ان کو بلور کا پانی پلایا گیا، مسرف نے پوچھا: تم نے پانی پی لیا ہے؟ اور پیٹ بھر گیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ مسرف نے کہا: خدا کی قسم، اب تجھے جو خوشی حاصل ہو گی اس کے بعد تجھے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ (پھر اس نے کہا) ان نوفل بن مساحق اٹھو اور اس کی گردن مار دو، نوفل بن مساحق نے ان کو شہید کر دیا۔ حرہ کا واقعہ ذی الحجہ سن 63 ہجری کو پیش آیا۔ اے انصاریو! تم اپنے قیدیوں کی موت کی خبریں دے رہے ہو اور قبیلہ اشجع سیدنا معقل بن سنان کی وفات کی خبر سنا رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6349]
حدیث نمبر: 6350
أخبرنا الشيخ أبو بكر، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة ومحمد بن عبد الله بن نُمَير: قالا: مات أبو محمد الأشعثُ بن قيس الكِنْديُّ من بني الحارث بن معاويةَ بالكوفة والحسنُ بنُ علي بها بعد صُلْح معاويةَ إياه، فصلَّى عليه الحسنُ بن عليٍّ ﵄.
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: ابومحمد اشعث بن قیس کندی جن کا تعلق بنی حارث سے تھا، کوفہ میں فوت ہوئے، ان دنوں سیدنا حسن بن علی کوفہ میں ہی قیام پذیر تھے اور سیدنا معاویہ کے ساتھ ان کی صلح ہو چکی تھی۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا اشعث بن قیس الکندی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6350]