🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

786. ذِكْرُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6349
فحدَّثَني (1) عبد الرحمن بن عثمان بن زياد الأشجعي، عن أبيه قال: كان معقلُ بنُ سِنان الأشجعي قد صَحِبَ النبيَّ ﷺ وحمل لواءَ قومِه يوم الفتح، وكان شابًا طريًّا، وبقي بعدَ ذلك حتى بَعثَه الوليدُ بن عُتْبة بن أبي سفيان، وكان على المدينة (2) ، فاجتمع معقلُ بن سنانٍ ومسلمُ بن عُقْبة الذي يُعرَف بمُسرِفٍ، فقال معقلٌ لمسرفٍ، وقد كان آنَسَه وحادَثَه إلى أن ذَكَر معقلٌ يزيدَ بن معاوية، فقال معقل: إني خرجتُ كَرْهًا لبيعةِ هذا الرجل، وقد كان من القضاءِ والقَدَر خروجي إليه، رجلٌ يشرب الخمرَ ويزني بالحُرَم، ثم نال منه وذكر خِصالًا كانت فيه، ثم قال لمسرفٍ: أحببتُ أن أضَعَ ذلك عندك، فقال مسرفٌ: أما أن أذكُرَ ذلك لأمير المؤمنين يومي هذا، فلا والله لا أفعَلُ، ولكنْ اللهِ عليَّ عهدٌ وميثاقٌ لا تُمكِنُني يدايَ منك ولي عليك مَقدِرةٌ، إلَّا ضربتُ الذي فيه عيناك. فلما قَدِمَ مسرفٌ المدينةَ وأَوقَعَ بهم أيامَ الحَرَّةِ، وكان معقلُ بن سِنان يومئذٍ صاحبَ المهاجرين، فأُتِيَ به مسرفٌ مأسورًا، فقال له: يا معقلَ بنَ سنان، أعَطِشتَ؟ قال: نعم، أصلَحَ اللهُ الأمير، قال: خوضوا له شربةً بلَوْز، قال: فخاضُوها له، فقال: أشرِبتَ ورَوِيتَ؟ قال: نعم، قال: أمَا والله لا تَستهنِئُ بها، يا مُفرجُ (3) ، يا نوفلَ بنَ مُساحِقٍ قمْ فاضرِبْ عنقَه، فقام إليه فقتله صَبْرًا، وكانت الحرَّةُ في ذي الحِجَّة سنةَ ثلاث وستين. فقال شاعر الأنصار: ألَا تِلكُمُ الأنصارُ تَنعَى سَرَاتَها … وأشجَعُ تَنعَى معقلَ بنَ سِنانِ (1) ذكرُ الأشعث بن قيس الكِنْدي ﵁-
عبدالرحمن بن عثمان بن زیاد اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور فتح مکہ کے دن اپنی قوم کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، وہ اس وقت ایک ترو تازہ نوجوان تھے، وہ اس کے بعد طویل عرصہ حیات رہے یہاں تک کہ ولید بن عتبہ بن ابوسفیان (جو مدینہ کے گورنر تھے) نے انہیں کسی کام سے بھیجا، وہاں معقل بن سنان اور مسلم بن عقبہ (جو مسرف کے نام سے مشہور ہے) کا سامنا ہوا، معقل نے مسرف کے ساتھ گفتگو کے دوران یزید بن معاویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں اس شخص کی بیعت کے لیے ناگواری کے ساتھ نکلا تھا، اور اس کے پاس جانا محض قضائے الٰہی اور تقدیر کا فیصلہ تھا، وہ شخص شرابی ہے، حرمات کی بے حرمتی کرتا ہے، پھر انہوں نے ان کی مذمت کی اور ان کی چند بری خصلتیں بیان کیں، پھر مسرف سے کہا: میرا جی چاہا کہ یہ بات میں تمہارے پاس امانت رکھ دوں، مسرف نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج کے دن تو یہ بات امیر المومنین کو نہیں بتاؤں گا لیکن اللہ کے حضور میرا یہ عہد و میثاق ہے کہ اگر کبھی مجھے تم پر قدرت حاصل ہو گئی، تو میں تمہارا سر قلم کر دوں گا۔ پھر جب مسرف مدینہ آیا اور ایامِ حرہ میں وہاں قتل و غارت کی، تو معقل بن سنان اس وقت مہاجرین کے سالار تھے، انہیں قیدی بنا کر مسرف کے پاس لایا گیا، اس نے پوچھا: اے معقل بن سنان! کیا تمہیں پیاس لگی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ، امیر کی اصلاح فرمائے، اس نے خادموں سے کہا: ان کے لیے بادام کا شربت تیار کرو، جب انہوں نے شربت پلا دیا تو اس نے پوچھا: کیا تم نے شربت پی لیا اور سیراب ہو گئے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکو گے، اے مفر ج! اے نوفل بن مساحق! اٹھو اور اس کی گردن اڑا دو، چنانچہ اس نے اٹھ کر انہیں قید کی حالت میں قتل کر دیا، واقعہ حرہ ذوالحجہ سن 63 ہجری میں پیش آیا تھا۔ تب انصار کے ایک شاعر نے یہ اشعار کہے: خبردار! وہ انصار اپنے سرداروں کا ماتم کر رہے ہیں، اور قبیلہ اشجع معقل بن سنان کا سوگ منا رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6349]
تخریج الحدیث: «إسناده مظلم» [ترقيم الرساله 6349] [ترقيم الشركة 6279/1]

الحكم على الحديث: إسناده مظلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6350
أخبرنا الشيخ أبو بكر، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة ومحمد بن عبد الله بن نُمَير: قالا: مات أبو محمد الأشعثُ بن قيس الكِنْديُّ من بني الحارث بن معاويةَ بالكوفة والحسنُ بنُ علي بها بعد صُلْح معاويةَ إياه، فصلَّى عليه الحسنُ بن عليٍّ ﵄.
ابو محمد اشعث بن قیس کندی جن کا تعلق بنو حارث بن معاویہ سے تھا، ان کی وفات کوفہ میں ہوئی، ان کی وفات کے وقت سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کے بعد وہیں موجود تھے، چنانچہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6350]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6350] [ترقيم الشركة 6280]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6351
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمود ابن خِدَاش، حدثنا عَبيدةُ (2) بن حُمَيد، حدثني إسماعيل بن أبي خالد، عن حفص ابن جابر (3) قال: لما مات الأشعثُ بنُ قيس قال الحسنُ بن علي: إذا غسَّلتُموه فلا تَهِيجُوه حتى تأتوني به، قال: به قال فأُتِيَ به، فدعا بحَنُوطٍ فوضَّأ به يدَيهِ ووجهه ورجلَيهِ، ثم قال: أَدرِجُوا (4) . ذكرُ المِسوَر بن مَخرَمة الزُّهْري ﵁-
سیدنا حفص بن جابر بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم انہیں غسل دے لو تو انہیں (کفن پہنا کر) حرکت نہ دینا یہاں تک کہ میں آ جاؤں، راوی کہتے ہیں کہ جب وہ تشریف لائے تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس سے ان کے ہاتھوں، چہرے اور پاؤں کا وضو کرایا اور پھر فرمایا: اب انہیں کفن میں لپیٹ دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6351]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6351] [ترقيم الشركة 6281]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں