🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

796. ذِكْرُ إِفْتَاءِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے فتاویٰ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6377
أخبرنا عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن عُمَارة، عن الأخنس بن خَليفة الضَّبّي قال: رأى كعبُ الأحبارِ عبدَ الله بن عمرو يُفتي الناسَ، فقال: من هذا؟ قالوا: هذا عبدُ الله بن عمرو بن العاص، فأرسَلَ إليه رجلًا من أصحابه، قال: قل له: يا عبدَ الله بنَ عمرو، لا تَفْترِ على الله كذِبًا فيُسحِتك بعذابٍ، وقد خابَ من افتَرى، قال: فأتاه الرجلُ فقال له ذلك، قال ابنُ عَمرو: صَدَقَ كعبٌ، قد خاب من افتّرى، ولم يَعْضَبْ، قال: فأعادَ عليه كعبٌ الرجلَ فقال: سَلْهُ عن الحَشْر ما هو؟ وعن أرواح المسلمينَ أين تجتمعُ؟ وأرواحِ أهل الشِّرك أين تجتمعُ؟ فأتاه فسأله، فقال: أما أرواح المسلمين فتجتمعُ بأَرِيحا، وأما أرواحُ أهل الشِّرك فتجتمعُ بصَنعاءَ، وأمّا أولُ الحَشْر فإنها نارٌ تَسُوق الناسَ يرونها ليلًا، ولا يَرَونها نهارًا، فرجع رسولُ كعبٍ إليه فأخبره بالذي قالَ، فقال: صَدَقَ، هذا عالمٌ فَسَلُوه (1) . ذكرُ أسماء بن حارثة الأنصاري ﵁ -
اخنس بن خلیفہ ضبی بیان کرتے ہیں کہ کعب احبار نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو لوگوں کو فتاویٰ دیتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ہیں، تو کعب نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو ان کی طرف بھیجا اور کہا کہ ان سے جا کر کہو: اے عبداللہ بن عمرو! اللہ پر جھوٹ مت باندھو ورنہ وہ تمہیں عذاب کے ذریعے ہلاک کر دے گا، کیونکہ ﴿وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى﴾ [سورة طه: 61] ”وہ شخص نامراد رہا جس نے بہتان باندھا“، وہ شخص ان کے پاس آیا اور یہی بات کہی تو ابن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کعب نے سچ کہا ہے، وہ شخص واقعی نامراد رہا جس نے بہتان باندھا، اور وہ (یہ سن کر) ذرا بھی ناراض نہ ہوئے، پھر کعب نے دوبارہ اسی شخص کو ان کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے پوچھو کہ حشر کیا ہے؟ اور مسلمانوں کی روحیں کہاں جمع ہوتی ہیں؟ اور مشرکین کی روحیں کہاں جمع ہوتی ہیں؟ وہ شخص آیا اور سوال کیا تو ابن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاں تک مسلمانوں کی روحوں کا تعلق ہے تو وہ اریحا میں جمع ہوتی ہیں، اور مشرکین کی روحیں صنعاء میں جمع ہوتی ہیں، اور رہا حشر کا آغاز تو وہ ایک ایسی آگ ہے جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، وہ آگ انہیں رات کو نظر آئے گی اور دن کو دکھائی نہیں دے گی، کعب کا قاصد واپس گیا اور انہیں خبر دی تو کعب نے کہا: انہوں نے سچ کہا، یہ بہت بڑے عالم ہیں، پس تم ان سے سوال کیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6377]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة الأخنس بن خليفة الضبي، فإنه لا يُعرَف. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وجرير: هو ابن عبد الحميد الضبّي، وعمارة: هو ابن القعقاع بن شُبرمة الضبي.» [ترقيم الرساله 6377] [ترقيم الشركة 6306]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الأخنس بن خليفة الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں