🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

800. ذِكْرُ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدِ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سلیمان بن صرد بن الجون خزاعی رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6384
أخبرناه بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْيِ، حدثنا أبو الأحوَص محمد بن الهيثم أخبرنا أبو هشام المخزومي، حدثنا، وُهَيب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة الأسلَمي، عن يحيى بن هند بن حارثةَ، عن أبيه هندِ بن حارثة: أنَّ النبي ﷺ بَعَثَه يومَ عاشوراءَ، قال:"مُرْ قومك فليَصُوموا هذا اليومَ"، قال: أرأيتَ يا رسول الله إن وجدتُهم قد طَعِمُوا؟ قال:"فليُتِمُّوا آخرَ يومهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ سليمان بن صُرَد بن الجَوْن الخُزاعي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6254 - صحيح
سیدنا ہند بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن انہیں یہ پیغام دے کر بھیجا کہ جا کر اپنی قوم کو کہہ دو کہ آج کا دن روزہ رکھیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان لوگوں نے کچھ کھا، پی لیا ہو تو کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کھا، پی بھی لیا ہو، تب بھی وہ دن کے آخری حصے تک روزہ رکھیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6384]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6385
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم ابن مَصقَلة، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: سليمان بن صُرَد ابن الجَوْن بن أبي الجَوْن، وهو عبد العُزَّى بن مُنقذ بن ربيعة، ويُكنَى أبا مُطرِّفٍ، أسلمَ وصحب النبيَّ ﷺ، وكان اسمه يسارًا، فلما أسلم سماه رسولُ الله ﷺ، سليمانَ، وكانت له سنٌّ عالية وشرفٌ في قومه، ونزل الكوفةَ حين نزلها المسلمون، وشَهِدَ مع أمير المؤمنين علي ﵁ صِفِّينَ، ثم إنه خرج يَطلُب دم الحسين بن علي ﵄ وتحت رايتِه أربعةُ آلاف، رجل، فقُتل سليمانُ بن صُرَدٍ في تلك الوَقْعة وحُمِل رأسُه إلى مروان بن الحَكَم، وكان سليمان يومَ قُتل ابنَ ثلاثٍ وتسعين سنة.
محمد بن عمر فرماتے ہیں کہ سلیمان بن صرد بن جون ابن ابی جون رضی اللہ عنہ ہی عبدالعزیٰ بن منقذ بن ربیعہ ہیں۔ ان کی کنیت ابومطرف تھی۔ انہوں نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت حاصل کی۔ ان کا نام یسار تھا۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام سلیمان رکھ دیا۔ آپ اپنی قوم کے بہت زیرک اور معتبر آدمی تھے۔ جب مسلمان کوفہ میں گئے تو یہ بھی وہاں گئے۔ اور امیرالمومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ صفین میں شریک ہوئے۔ پھر یہ چار ہزار افواج کا لشکر لے کر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے نکلے، اسی واقعہ میں سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے۔ ان کا سر مروان کے دربار میں بھیج دیا گیا۔ جس دن سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس دن ان کی عمر 93 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6385]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6386
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول: سمعت أبا العبّاس محمد بن إسحاق يقول: سمعت محمد بن إسماعيل البُخاريَّ يقول: قَتَل المختارُ بن أبي عُبيدٍ سليمانَ بن صُرَد هذا بعد أن قَتَل سليمانُ بنُ صُرد عُبيدَ الله ابنَ زياد.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مختار بن ابی عبید نے سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ جبکہ اس سے پہلے سیدنا سلیمان بن صرد، عبیداللہ بن زیاد کو قتل کر چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6386]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں