المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
841. سَبَبُ قِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ مَعَ يَزِيدَ
یزید کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتال کی وجہ
حدیث نمبر: 6473
حدثنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثني أبي، حدثنا شعيب بن أبي إسحاق السَّبيعي (4) ، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ يزيد بن معاوية كتب إلى عبد الله بن الزُّبير: إني قد بعثتُ إليك بسلسلةٍ من فضَّة، وقيدٍ من ذهب، وجامعةٍ من فضة، وحَلَفْتُ لَتأتيَنِّي في ذلك، قال: فأَلقى الكتابَ وقال: ولا أَلِينُ لغيرِ الحقِّ أَنمَلةً … حتى يَلينَ لضِرسِ الماضغِ الحَجَرُ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6337 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6337 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یزید بن معاویہ نے عبداللہ بن زبیر کو خط لکھا کہ میں نے تمہاری طرف چاندی کی ایک زنجیر اور سونے کی بیڑی بھیجی ہے اور میں نے قسم کھائی ہے کہ تم میرے پاس اسی حالت میں آؤ گے، راوی کہتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے وہ خط پھینک دیا اور (شعر پڑھا): ”میں حق کے سوا کسی اور کے لیے ایک پور (انگلی کا حصہ) کے برابر بھی نرم نہیں پڑوں گا، یہاں تک کہ پتھر چبانے والے کی داڑھ کے لیے نرم ہو جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6473]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6473] [ترقيم الشركة 6398] [ترقيم العلميه 6337]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6474
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا علي بن المبارَك الصَّنعاني [حدثنا زيد بن المبارك] (2) حدثنا عبد الملك بن عبد الرحمن الذِّمَاري، حدثنا القاسم بن مَعْن، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: لما مات معاويةُ تَثاقَلَ عبد الله بن الزُّبير عن طاعةِ يزيد بن معاوية، وأَظهَرَ شَتْمَه، فبلغ ذلك يزيد، فأقسَمَ لا يُؤتى به إلَّا مغلولًا، ولا أُرسِلُ إليه، فقيل لا بن الزُّبير: ألا نَصنعُ لك أغلالًا من فضة تَلْبَسُ عليها الثوب وتَبَرُّ قَسَمَه؟ فالصلحُ، أجملُ، فقال: لا أَبَرَّ الله قسمَه، ثم قال: ولا أَلِينُ لغير الحقِّ أَنمَلةً … حتى يَلينَ لضِرسِ الماضعِ الحَجَرُ ثم قال: والله لَضربةٌ بسيفٍ في عزٍّ، أحبُّ إليَّ من ضربةٍ بسوطٍ في ذُلّ. ثم دعا إلى نفسه وأظهَرَ الخلافَ ليزيد بن معاوية، فوجَّه إليه يزيدُ بن معاوية مسلمَ بن عُقْبة المُرِّي (3) في جيش أهل الشام، وأمَرَه بقتال أهل المدينة، فإذا فَرَغَ من ذلك سارَ إلى مكة. قال: فدخل مسلم بن عُقْبة المدينةَ، وهرب منه يومئذٍ بقايا أصحاب رسول الله ﷺ، وعَبَثَ فيها وأسرَفَ في القتل، ثم خرج منها، فلما كان في بعض الطريق إلى مكة مات، واستَخلَفَ حُصَين بن نُمير الكِنْدي وقال له: يا بَرذَعَةَ الحمارِ، احذَرْ خدائعَ قُريش، ولا تُعامِلْهم إلَّا بالنِّقَاف (1) ، ثم القِطَاف، فمضى حُصينٌ حتى وَرَدَ مكة، فقاتل بها ابنَ الزُّبير أيامًا (2) .
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یزید بن معاویہ کی اطاعت سے پہلو تہی کی اور علانیہ اس کی مذمت کی، جب یہ خبر یزید کو پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ اسے بیڑیوں میں جکڑ کر ہی (دربار میں) لایا جائے گا، ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ کیا ہم آپ کے لیے چاندی کی ایسی بیڑیاں نہ بنا دیں جنہیں آپ لباس کے نیچے پہن لیں تاکہ اس کی قسم بھی پوری ہو جائے اور صلح ہو جائے؟ تو انہوں نے کہا: ”اللہ اس کی قسم پوری نہ کرے،“ پھر وہی شعر پڑھا کہ ”میں حق کے سوا کسی کے لیے ذرہ برابر نرم نہیں پڑوں گا یہاں تک کہ پتھر دانتوں کے لیے نرم ہو جائے،“ مزید فرمایا: ”اللہ کی قسم! عزت کے ساتھ تلوار کی ضرب کھانا میرے نزدیک ذلت کے ساتھ کوڑے کھانے سے کہیں بہتر ہے،“ پھر انہوں نے اپنی خلافت کی دعوت دی اور یزید کی مخالفت کا اعلان کر دیا، چنانچہ یزید نے ان کی طرف مسلم بن عقبہ مری کو اہل شام کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا اور اسے حکم دیا کہ پہلے اہل مدینہ سے قتال کرے اور اس سے فارغ ہو کر مکہ کا رخ کرے، راوی کہتے ہیں کہ مسلم بن عقبہ مدینہ میں داخل ہوا اور اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بقیہ صحابہ وہاں سے (جان بچا کر) نکل گئے، اس نے وہاں بہت اودھم مچایا اور قتل و غارت میں حد سے گزر گیا، پھر وہاں سے نکلا تو مکہ کے راستے میں ہی مر گیا، اس نے حصین بن نمیر کندی کو اپنا جانشین بنایا اور اسے (تحقیر آمیز لہجے میں) کہا: ”اے برذعۃ الحمار! قریش کے فریب سے بچ کر رہنا اور ان کے ساتھ صرف تلوار کی کاٹ اور سختی کا معاملہ کرنا،“ چنانچہ حصین مکہ پہنچا اور وہاں کئی دن تک ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6474]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الملك بن عبد الرحمن الذماري ومن دونه من الصنعايين، لكن في بعض ألفاظه نكارة كحزِّ رأس ابن الزبير في آخره.» [ترقيم الرساله 6474] [ترقيم الشركة 6399]
الحكم على الحديث: إسناده حسن