المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
842. ذِكْرُ قِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ مَعَ حُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ
سیدنا حصین بن نمیر کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتال کا ذکر
حدیث نمبر: 6474
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا علي بن المبارَك الصَّنعاني [حدثنا زيد بن المبارك] (2) حدثنا عبد الملك بن عبد الرحمن الذِّمَاري، حدثنا القاسم بن مَعْن، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: لما مات معاويةُ تَثاقَلَ عبد الله بن الزُّبير عن طاعةِ يزيد بن معاوية، وأَظهَرَ شَتْمَه، فبلغ ذلك يزيد، فأقسَمَ لا يُؤتى به إلَّا مغلولًا، ولا أُرسِلُ إليه، فقيل لا بن الزُّبير: ألا نَصنعُ لك أغلالًا من فضة تَلْبَسُ عليها الثوب وتَبَرُّ قَسَمَه؟ فالصلحُ، أجملُ، فقال: لا أَبَرَّ الله قسمَه، ثم قال: ولا أَلِينُ لغير الحقِّ أَنمَلةً … حتى يَلينَ لضِرسِ الماضعِ الحَجَرُ ثم قال: والله لَضربةٌ بسيفٍ في عزٍّ، أحبُّ إليَّ من ضربةٍ بسوطٍ في ذُلّ. ثم دعا إلى نفسه وأظهَرَ الخلافَ ليزيد بن معاوية، فوجَّه إليه يزيدُ بن معاوية مسلمَ بن عُقْبة المُرِّي (3) في جيش أهل الشام، وأمَرَه بقتال أهل المدينة، فإذا فَرَغَ من ذلك سارَ إلى مكة. قال: فدخل مسلم بن عُقْبة المدينةَ، وهرب منه يومئذٍ بقايا أصحاب رسول الله ﷺ، وعَبَثَ فيها وأسرَفَ في القتل، ثم خرج منها، فلما كان في بعض الطريق إلى مكة مات، واستَخلَفَ حُصَين بن نُمير الكِنْدي وقال له: يا بَرذَعَةَ الحمارِ، احذَرْ خدائعَ قُريش، ولا تُعامِلْهم إلَّا بالنِّقَاف (1) ، ثم القِطَاف، فمضى حُصينٌ حتى وَرَدَ مكة، فقاتل بها ابنَ الزُّبير أيامًا (2) .
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا معاویہ کا وصال ہوا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت کرنے میں تاخیر کی۔ اور ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا، زید کو اس بات کی اطلاع پہنچ گئی، یزید نے اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کو گرفتار کر کے ان کے پاس لے آئیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: تمہارے لئے سونے کی بیڑیاں بنائی جائیں گیں، وہ پہنا کر اوپر سے کپڑا ڈال دیا جائے گا (تاکہ لوگوں کو پتا نہ چلے کہ تمہیں گرفتار کر لیا گیا ہے) اس طرح یزید کی قسم پوری کی جائے گی، اور صلح کرنا تو بہت اچھی بات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو کبھی پورا نہ کرے۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ بالا شعر پڑھا (جس کا ترجمہ درج ذیل ہے)۔ * میں ناحق پر اپنا پنجہ نرم نہیں کرتا ہوں۔ جب تک کہ پتھر چبانے والے کی داڑھوں کے لئے پتھر نرم نہیں ہوتا۔ پھر فرمایا: اللہ پاک کی قسم! عزت کے ساتھ تلوار اٹھا کر لڑنا میری نگاہ میں ذلالت کے ساتھ کوڑے کھانے سے بہتر ہے۔ پھر انہوں نے خود اپنے لئے دعا کی اور یزید بن معاویہ کی بیعت کا اعلانیہ انکار کر دیا۔ یزید بن معاویہ نے مسلم بن عقبہ مزنی کو شام کے ایک لشکر کے ہمراہ ان کی جانب بھیجا اور اہل مدینہ کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ مدینہ کی لڑائی سے فارغ ہوا تو مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا، پھر مسلم بن عقبہ مدینہ میں داخل ہوا۔ جو صحابہ کرام بچے ہوئے تھے وہ اس دن وہاں سے بھاگ گئے۔ مسلم بن عقبہ نے مدینہ میں بہت فساد برپا کیا اور قتل و خون ریزی کی افسوسناک داستان رقم کی۔ پھر وہ مکہ سے چلا گیا۔ ابھی وہ مکہ کے ایک راستہ میں تھا کہ مر گیا۔ اس نے مرتے ہوئے حصین بن نمیر الکندی کو اپنا جانشین بنایا، اور اس کو کہا: اے برذعۃ الحمار! (گدھے کی پیٹھ پر ڈالنے والا کپڑا، یہ الفاظ گالی کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں) قریش کے دھوکوں سے بچ کر رہنا، ان کے ساتھ منافقت کا برتاؤ کرنا، پھر ان سے لڑائی کرنا۔ حصین وہاں سے روانہ ہوا اور مکہ میں پہنچا، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کئی دن تک مقابلہ کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6474]
حدیث نمبر: 6474M
رَجَعْنا إلى باقي الحديث (4) : وضَرَبَ ابنُ الزُّبير فسطاطًا في المسجد، فكان فيه نساءٌ يَسقِينَ الجرحى ويُداوينَهم ويُطعِمنَ الجائع، ويَكمُنُ إليهنَّ المجروحُ، فقال حُصَين: ما يزالُ يخرج علينا من ذلك الفُسطاطِ أسدٌ كأنما يخرج من عَرينِه، فمن يَكِفنيهِ؟ فقال رجل من أهل الشام: أنا، فلما جَنَّ عليه الليلُ وَضَعَ شمعةً في طرف رمحه ثم ضرب فرسَه، ثم طَعَنَ الفسطاطَ فالتهَبَ نارًا، والكعبةُ يومئذٍ مُؤَزَّرة في الطَّنافس، وعلى أعلاها الحِبَرَةُ، فطارت الريحُ باللَّهَب على الكعبة حتى احترقت، واحترق فيها يومئذٍ قَرْنا الكبش الذي فُدِيَ به إسحاق. قال: فبلَغَ حُصينَ بن نُمير موتُ يزيد بن معاوية، فهرب حصينُ بنُ نُمير، فلما مات يزيدُ بن معاوية دعا مروانُ بن الحَكَم إلى نفسه، فأجابه أهلُ حِمْص وأهلُ الأردنِّ وفلسطينَ، فوَجَّه إليه ابنُ الزُّبير الضحاكَ بنَ قيس الفِهْريَّ في مئة ألف، فالتقَوْا بمَرْجِ راهطٍ، ومروانُ يومئذٍ في خمسة آلاف من بني أُميَّة ومَواليهِم وأتباعهم من أهل الشام، فقال مروانُ لمولًى له [يقال له] (1) : كره: احمِلْ على أيِّ الطَّرفين شئتَ، فقال: كيف نَحملُ على هؤلاء؟! لكَثرتِهم، فقال: هم بين مُكرهٍ ومُستأجَر، احمِلْ عليهم لا أمَّ لك، فيكفيك الطِّعانُ الناجعُ الجيِّد، وهم يَكفُونك بأنفسهم، إنما هؤلاء عَبيدُ الدينار والدِّرهم، فحَمَلَ عليهم فهَزَمَهم، وقُتِل الضحاكُ بن قيس وانصَدَعَ الجيشُ، ففي ذلك يقول زُفَرُ بنُ الحارث: لَعَمْري لقد أبقَتْ وَقِيعةُ راهطٍ … لمروانَ صَرْعى واقعاتٍ وسابَيَا أَمضي سلاحي لا أبالكِ إنني … لدى الحربِ لا يزداد إلَّا تمادِيَا فقد يَنبُت المَرْعى على دِمَنِ الثَّرى … وتبقى حُزازاتُ النفوسِ كما وفيه يقول أيضًا: أفي الحقِّ أمَّا بَحدلٌ وابنُ بَحدلٍ … فيَحْيا وأمَّا ابنُ الزُّبير فيُقتَلُ كَذَبتم وبيتِ الله لا تَقتلونَهُ … ولمَّا يَكُنْ يومٌ أَغَرُّ مُحجَّلُ ولمَّا يكنْ للمَشْرَفِيَّةِ فيكمُ … شُعاعٌ كنُورِ الشمسِ حين تَرجَّلُ قال: ثم مات مروانُ، فدعا عبدُ الملك إلى نفسه وقام، فأجابه أهلُ الشام، فخَطَبَ على المنبر وقال: مَن لابن الزُّبير؟ فقال الحجَّاج: أنا يا أميرَ المؤمنين، فأسكَتَه، ثم عاد فأسكَتَه، ثم عاد فقال: أنا له يا أميرَ المؤمنين، فإني رأيتُ في المنام كأني انتزعتُ جُبَّتَه فلَبِستُها. فعَقَدَ له ووَجَّهه في الجيش إلى مكة - حَرسها الله تعالى- حتى وَرَدَها على ابن الزُّبير فقاتله بها، فقال ابنُ الزبير لأهل مكة: احفَظُوا هذين الجبلين، فإنكم لن تَزالوا بخير أعزَّةً ما لم يَظهَروا عليهما، قال: فلم يَلبَثُوا أَن ظَهَرَ الحَجَّاجُ ومَن معه على أبي قُبيس، ونَصَبَ عليه المَنجَنيقَ، فكان يرمي به ابنَ الزبير ومن معه في المسجد، فلما كان الغَدَاةُ التي قُتِلَ فيها ابنُ الزُّبير، دَخَلَ ابنُ الزُّبير على أمِّه أسماءَ بنت أبي بكر، وهي يومئذٍ بنتُ مئة سنةٍ لم يَسقُطْ لها سنٌّ، ولم يَفسُدْ لها بصرٌ ولا سمعٌ، فقالت لابنها: يا عبد الله، ما فعلتَ في حربِك؟ قال: بَلَغُوا مكانَ كذا وكذا، قال: وضَحِكَ ابنُ الزبير وقال: إنَّ في الموت لراحةً، فقالت: يا بنيَّ، لعلَّك تتمنَّاه لي؟! ما أُحِبُّ أن أموتَ حتى آتيَ على أحدِ طَرَفَيك، إمَّا أن تَملِكَ (1) فتَقَرَّ بذلك عيني، وإمَّا أن تُقتَل فأَحتسِبَك، قال: ثم ودَّعها، فقالت له: يا بنيَّ، إياك أن تُعطِيَ خَصْلةً من دِينِك مخافةَ القتل. وخَرَج عنها فدَخَل المسجد، وقد جعل مِصراعَينِ على الحجر الأسود يتَّقي أن يصيبَه المَنجنيقُ. وأتى ابن الزُّبير آتٍ وهو جالسٌ عند زمزمَ فقال له: ألا نفتحُ لك الكعبةَ فتصعدَ فيها، فنظر إليه عبدُ الله ثم قال له: من كل شيءٍ تَحفَظُ أخاك إِلَّا من نفسه. يعني من أجَلِه- وهل للكعبة حُرْمةٌ ليست لهذا المكان؟! والله لو وَجَدُوكم مُعلَّقِين بأستار الكعبةِ لقَتَلوُكم، فقيل له: ألا تكلِّمُهم في الصُّلح؟ فقال: أوَحِينُ صُلحٍ هذا؟! والله لو وَجَدُوكم في جوفها لذَبَحُوكم جميعًا، ثم أنشأَ يقول: ولستُ بمبتاعِ الحياةِ لسُبَّةٍ … ولا مُرتَقٍ من خَشْية الموتِ سُلَّما أُنافسُ [سَهمًا] إِنَّه غيرُ نازحٍ … مُلَاقِي المَنَايَا أَيَّ صَرْفٍ تَيمَّما ثم أقبل على آل الزبير يَعِظُهم: ليَكُنَّ أحدكم سيفه كما يَكُنُّ وجهَه، لا يُنكِّسْ سيفَه فيدفعَ عن نفسه بيده كأنه امرأةٌ، والله ما لَقِيتُ زَحْفًا قطُّ إلَّا في الرَّعيل الأول، ولا أَلمِتُ جُرحًا قطُّ إلَّا أن آلَمَ الدواء. قال: فبينما هم كذلك إذ دخل عليهم نفرٌ من [باب] بني جُمَحَ فيهم أسوَدُ، فقال: مَن هؤلاءِ؟ قيل: أهلُ حِمص، فحَمَل عليهم ومعه سبعون، فأولُ من لقيَه الأسودُ، فضربه بسيفه حتى أطَنَّ رِجلَه، فقال له الأسود: آهٍ يا ابنَ الزانية، فقال له ابنُ الزُّبير: اخسأْ يا ابن حامٍ، لَأسماءُ زانيةٌ؟! ثم أخرَجَهم من المسجد، فانصرف، فإذا بقومٍ قد دَخَلوا من باب بني سَهْم، فقال: من هؤلاء؟ فقيل: أهلُ الأُردنِّ، فحَمَلَ عليهم وهو يقول: لا عهدَ لي بغَارةٍ مثلِ السَّيلْ … لا يَنجِلي غُبارُها حتَّى اللَّيلْ قال: فأخرجهم من المسجد، ثم رجع، فإذا بقوم قد دَخَلوا من باب بني مخزوم، فحَمَل عليهم وهو يقول: لو كان قِرْني واحدًا لكَفَيتُهُ قال: وعلى ظَهْر المسجد من أعوانِه مَن يرمي عدوَّه بالآجُرِّ وغيره، فحَمَلَ عليهم، فأصابته آجُرَّةٌ في مَفرِقِه حتى فَلَقَت رأسَه، فوقف قائمًا وهو يقول: ولسنا على الأعقابِ تَدْمي كُلُومُنا … ولكِنْ على أقدامِنا تَقطُرُ الدِّمَا قال: ثم وقع فأكَبَّ عليه مَولَيانِ له وهما يقولان: العبدُ يَحْمي ربَّهُ ويَحتمي قال: ثم سِيرَ إليه فحُزَّ رأسُه، ﵁.
6474 - راوی کہتے ہیں: ہم بقیہ حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیں؛ ابن زبیر (رضی اللہ عنہ) نے مسجد میں ایک خیمہ لگا رکھا تھا جس میں عورتیں زخمیوں کو پانی پلاتیں، ان کی دوا دارو کرتیں اور بھوکوں کو کھانا کھلاتی تھیں، اور زخمی وہیں پناہ لیتے۔ حصین (بن نمیر) نے کہا: اس خیمے سے ہمارے مقابلے کے لیے مسلسل ایک ایسا شیر نکل رہا ہے جو گویا اپنی کچھار سے نکلتا ہو، اس کے مقابلے کے لیے کون ہے؟ اہل شام میں سے ایک شخص نے کہا: 'میں'۔ جب رات کی تاریکی چھائی تو اس نے اپنے نیزے کی نوک پر ایک شمع رکھی، اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور خیمے پر نیزہ مارا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ کعبہ ان دنوں قالینوں (غلافوں) سے ڈھکا ہوا تھا اور اس کے بالائی حصے پر یمنی چادریں تھیں۔ ہوا آگ کے شعلوں کو کعبہ کی طرف اڑا لے گئی یہاں تک کہ وہ بھی جل گیا، اور اس دن کعبہ میں (حضرت) اسحاق (علیہ السلام) کے فدیے والے مینڈھے کے وہ سینگ بھی جل گئے (جو وہاں محفوظ تھے)۔ پھر جب حصین بن نمیر کو یزید بن معاویہ کی موت کی خبر پہنچی تو وہ بھاگ نکلا۔ یزید کی وفات کے بعد مروان بن حکم نے اپنے لیے (خلافت کی) دعوت دی تو اہل حمص، اردن اور فلسطین نے اسے قبول کر لیا۔ ابن زبیر (رضی اللہ عنہ) نے ان کے مقابلے کے لیے ضحاک بن قیس فہری کو ایک لاکھ کا لشکر دے کر بھیجا۔ ان کا مقابلہ 'مرج راہط' کے مقام پر ہوا، مروان اس وقت بنو امیہ، اپنے آزاد کردہ غلاموں اور اہل شام کے پانچ ہزار پیروکاروں کے ساتھ تھا۔ مروان نے اپنے ایک غلام 'کرہ' سے کہا: 'جس طرف سے چاہو حملہ کر دو'۔ اس نے کہا: 'ان کی کثرت کے باوجود ہم ان پر کیسے حملہ کریں؟' مروان نے کہا: 'یہ لوگ یا تو مجبور ہیں یا کرائے کے سپاہی، ان پر حملہ کرو (تمہاری ماں نہ رہے)، تمہیں بس ایک بھرپور اور کاری ضرب لگانی ہے، وہ خود ہی تمہارے لیے کافی ہو جائیں گے، یہ تو بس دینار و درہم کے بندے ہیں'۔ چنانچہ اس نے حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی، ضحاک بن قیس قتل ہوئے اور لشکر تتر بتر ہو گیا۔ پھر جب مروان کا انتقال ہوا تو عبدالملک نے اپنے لیے بیعت لی اور کھڑا ہوا، اہل شام نے اسے قبول کیا۔ اس نے منبر پر خطبہ دیا اور پوچھا: 'ابن زبیر کے لیے کون (تیار) ہے؟' حجاج نے کہا: 'میں، اے امیر المومنین!' عبدالملک نے اسے خاموش کرا دیا، پھر دوبارہ پوچھا تو حجاج نے پھر وہی کہا، تیسری بار حجاج نے کہا: 'میں ان کے لیے تیار ہوں، کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں نے ان کا جبہ اتار کر خود پہن لیا ہے'۔ چنانچہ عبدالملک نے اس کے لیے جھنڈا تیار کیا اور لشکر دے کر مکہ روانہ کیا، یہاں تک کہ اس نے مکہ پہنچ کر ابن زبیر سے قتال کیا۔ ابن زبیر نے اہل مکہ سے کہا: 'ان دو پہاڑوں کی حفاظت کرو، جب تک دشمن ان پر غالب نہیں آئے گا تم خیر اور عزت کے ساتھ رہو گے'۔ لیکن زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ حجاج اور اس کے ساتھی جبل ابو قبیس پر غالب آ گئے اور اس پر منجنیق نصب کر دی، جس سے وہ ابن زبیر اور ان کے ساتھیوں پر مسجد (حرام) میں پتھراؤ کرنے لگا۔ جس صبح ابن زبیر شہید ہوئے، وہ اپنی والدہ اسماء بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہما) کے پاس گئے، جن کی عمر اس وقت سو برس تھی مگر ان کا نہ کوئی دانت گرا تھا اور نہ بینائی یا سماعت میں کوئی فرق آیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا: 'اے عبداللہ! تمہاری جنگ کا کیا ہوا؟' انہوں نے کہا: 'دشمن فلاں فلاں جگہ تک پہنچ گیا ہے'۔ پھر ابن زبیر ہنسے اور کہا: 'موت میں راحت ہے'۔ اسماء نے فرمایا: 'بیٹا! شاید تم میرے لیے موت کی تمنا کر رہے ہو؟ میں تو اس وقت تک مرنا نہیں چاہتی جب تک تمہارا انجام سامنے نہ آ جائے؛ یا تو تم حکمران بن جاؤ جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں، یا تم شہید کر دیے جاؤ تو میں تم پر صبر و احتساب کروں'۔ پھر انہوں نے رخصت کیا تو فرمایا: 'بیٹا! خبردار قتل کے ڈر سے اپنے دین کا کوئی حصہ سودے بازی میں نہ دے دینا'۔ وہ وہاں سے نکل کر مسجد میں داخل ہوئے، انہوں نے حجرِ اسود پر دو کواڑ رکھ دیے تھے تاکہ منجنیق کے پتھروں سے اسے بچا سکیں۔ جب وہ زمزم کے پاس بیٹھے تھے تو ایک شخص آیا اور کہا: 'کیا ہم آپ کے لیے کعبہ کا دروازہ نہ کھول دیں تاکہ آپ اس میں چڑھ جائیں؟' عبداللہ نے اسے دیکھا اور کہا: 'تم اپنے بھائی کو ہر چیز سے بچا سکتے ہو سوائے اس کی موت کے۔ کیا کعبہ کی حرمت اس جگہ (مسجد) سے زیادہ ہے؟ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ تمہیں کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا بھی پائیں گے تو قتل کر دیں گے'۔ ان سے کہا گیا: 'کیا آپ ان سے صلح کی بات نہیں کرتے؟' انہوں نے کہا: 'کیا یہ صلح کا وقت ہے؟ اللہ کی قسم! اگر یہ تمہیں کعبہ کے پیٹ (اندر) میں بھی پائیں گے تو سب کو ذبح کر دیں گے'۔ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے: 'میں گالی اور بدنامی کے بدلے زندگی خریدنے والا نہیں ہوں، اور نہ ہی موت کے ڈر سے سیڑھی لگا کر اوپر چڑھنے والا ہوں۔ میں تو اس تیر کا مقابلہ کر رہا ہوں جو ہٹتا نہیں، اور موت سے ملنے والا ہوں چاہے وہ جس رخ سے بھی آئے'۔ پھر انہوں نے آلِ زبیر کو نصیحت کی: 'تم میں سے ہر شخص اپنی تلوار کی ویسے ہی حفاظت کرے جیسے اپنے چہرے کی کرتا ہے، اپنی تلوار نیچی نہ کرے کہ کسی عورت کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنا دفاع کرنے لگے؛ اللہ کی قسم! میں نے جب بھی کسی لشکر کا سامنا کیا تو پہلی صف میں ہو کر کیا، اور مجھے کبھی کسی زخم کی تکلیف نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ اس پر لگائی جانے والی دوا کی تکلیف ہوئی'۔ راوی کہتے ہیں: وہ اسی حال میں تھے کہ بنو جمح کے دروازے سے کچھ لوگ داخل ہوئے جن میں ایک حبشی (سیاہ فام) بھی تھا۔ ابن زبیر نے پوچھا: 'یہ کون ہیں؟' بتایا گیا: 'اہلِ حمص'۔ انہوں نے اپنے ستر ساتھیوں کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا۔ سب سے پہلے ان کا سامنا اسی حبشی سے ہوا، انہوں نے اپنی تلوار سے اس کی ٹانگ اڑا دی۔ حبشی چلایا: 'ہائے ابن زانیہ!' ابن زبیر نے کہا: 'دور ہو اے حام کی اولاد! کیا اسماء زانیہ ہے؟' پھر انہیں مسجد سے باہر نکال دیا اور واپس پلٹے۔ اتنے میں بنو سہم کے دروازے سے کچھ لوگ آ گئے، پوچھا: 'یہ کون ہیں؟' کہا گیا: 'اہلِ اردن'۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے حملہ کیا: 'مجھے سیلاب جیسی غارت گری سے واسطہ نہیں پڑا جس کا غبار رات تک نہ چھٹے'۔ انہیں بھی مسجد سے نکال کر واپس آئے تو بنو مخزوم کے دروازے سے کچھ لوگ آ گئے۔ ان پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا: 'اگر میرا مدِ مقابل ایک ہوتا تو میں اس کے لیے کافی تھا'۔ اس دوران مسجد کی چھت پر موجود دشمن کے کارندے اینٹیں وغیرہ برسا رہے تھے، ابن زبیر نے ان پر حملہ کیا تو ایک اینٹ ان کے سر کے درمیان لگی جس سے سر پھٹ گیا۔ وہ یہ کہتے ہوئے ڈٹے رہے: 'ہمارے زخم ایڑیوں پر نہیں لگتے کہ ہم پیٹھ پھیر کر بھاگیں، بلکہ خون تو ہمارے قدموں پر ٹپکتا ہے'۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ گر پڑے تو ان کے دو غلاموں نے ان پر گر کر انہیں ڈھانپ لیا اور کہہ رہے تھے: 'غلام اپنے آقا کی حفاظت کرتا ہے اور اسے بچاتا ہے'۔ پھر دشمن ان تک پہنچ گیا اور ان کا سر مبارک کاٹ دیا گیا، رضی اللہ عنہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6474M]
حدیث نمبر: 6475
فحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني مَسلَمةُ بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبير قال: سمعتُ أَبي يقول: أَرسلَ ابنُ الزُّبير إلى الحُصَين بن نُمير يدعوه إلى البراز، فقال الحُصين: لا يَمنعُني من لقائك جُبْنٌ، ولستُ أدري لمن يكون الظَّفَرُ، فإن كان لك كنتُ قد ضيَّعتَ مَن ورائي، وإن كان لي كنتُ قد أخطأتُ التدبير، وإن ظَفِرتُ (3) .
مسلمہ بن عبداللہ بن عروہ بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حصین بن نمیر کو پیغام بھیجا اور مبارز طلبی فرمائی (یعنی جنگ میں مقابلے کے لئے بلایا) حصین بن نمیر نے کہا: تمہارے مقابلے میں آنے سے نہ تو میں بزدلی کی وجہ سے رکا ہوا ہوں، اور نہ ہی مجھے یہ پتا ہے کہ کامیابی کس کے حصے میں آئے گی، اگر تم کامیاب رہے تو میں نے اپنے پیچھے والوں کو ضائع کر دیا اور اگر میں کامیاب ہوا تو اس میں آپ کے فیصلے کی غلطی ہو گی۔ اور اگر میں طواف کر لوں تو واپس چلا جاؤں گا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی شریف میں خیمے لگا دیئے، اس میں عورتیں تھیں، جو کہ زخمیوں کو پانی پلاتیں، اور ان کو پٹی وغیرہ کرتیں اور کھانا کھلاتی تھیں۔ اور زخمیوں کو مرہم لگاتی تھیں۔ حصین بن نمیر نے کہا: ان خیموں سے ہماری طرف ایک بہادر آدمی نکل کر آتا جیسے کوئی شیر اپنی کچھار سے نکل کر آتا ہو، کون شخص اس کا مقابلہ کرے گا؟ شام کے باشندوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں ہوں۔ جب رات ہوئی تو اس نے اپنے نیزے کے کنارے پر موم لگائی، پھر اپنا گھوڑا دوڑایا اور وہ نیزہ پھینک دیا، اس سے آگ نکلنے لگی، ان دنوں کعبہ معظمہ کے فرش پر چٹائیاں بچھائی ہوتی تھیں اور چھت گھاس پھوس کی ہوتی تھی۔ ہوا کے ساتھ اس آگ کا شعلہ کعبہ معظمہ کی چھت پر آ گرا، جس کی وجہ سے کعبہ کی چھت جل گئی، اس دن کعبے کے اندر رکھے ہوئے مینڈھے کے وہ سینگ بھی جل گئے جو سیدنا اسحاق علیہ السلام کے فدیے میں ذبح کیا گیا تھا۔ محمد بن عمر فرماتے ہیں: جب یزید بن معاویہ مر گیا تو حصین بن نمیر وہاں سے بھاگ گیا۔ یزید بن معاویہ کے مرنے کے بعد مروان بن حکم نے لوگوں سے اپنی بیعت لینا شروع کی۔ حمص، اردن اور فلسطین کے لوگوں نے اس کی بیعت کر لی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن قیس فہری کو ایک لاکھ کی فوج دے کر اس کی جانب روانہ کیا، مرج راہط کے مقام پر مروان کے لشکر کے ساتھ مڈبھیڑ ہو گئی، اس موقع پر مروان بنو امیہ کے پانچ ہزار افراد میں تھا، ان میں ان کے موالی اور نوکر چاکر بھی تھے۔ مروان نے اپنے آزاد کردہ غلام ” کرہ “ سے کہا: دونوں طرفوں میں سے کسی ایک طرف سے ان پر حملہ کر دے، اس نے کہا: یہ لوگ اتنے زیادہ ہیں، اتنے بڑے لشکر جرار کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کہا: ان میں سے کچھ لوگ مجبور ہیں اور کچھ مالدار ہیں۔ تو ان پر حملہ کر دے تیری ماں نہ رہے۔ نیزہ باز، چراگاہ کے متلاشی اور عمدہ لوگ تجھے کفایت کریں گے اور وہ لوگ اپنے آپ کا بچاؤ کریں گے۔ کیونکہ وہ لوگ سب کے سب دولت کے پجاری ہیں۔ اس نے حملہ کر دیا اور ان کو شکست دے دی، ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ نے مزید پیش قدمی کی۔ اور سامنے والا لشکر بکھر گیا۔ اسی موقع پر زفر بن حارث نے مذکورہ اشعار کہے تھے۔ * میری عمر کی قسم! مرج راہط کے واقعہ سے مروان کے لئے پھٹن اور قید کے واقعات کی مرگی باقی بچی ہے۔ * مجھے میرے ہتھیار دو، تیرا باپ نہ رہے، میں جنگ کے وقت جنگ کی انتہاء کو پہنچتا ہوں۔ * گوبر والی تر زمین پر کھیتی اگتی ہے اور لوگوں کی پیٹھ کا درد اس طرح باقی رہتا ہے۔ حق کے مقاملے میں بحدل، یا اس کا بیٹا زندہ رہے گا یا ابن زبیر کو قتل کر دیا جائے گا۔ تم نے جھوٹ بولا ہے، بیت اللہ شریف کی قسم ہے روشن اور واضح دن میں وہ لوگ اس کو قتل نہیں کریں گے۔ پھر مروان مر گیا تو عبدالملک بن مروان نے اپنے لئے لوگوں سے بیعت لی، اہل شام نے اس کی بیعت کر لی، عبدالملک نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: عبداللہ بن زبیر کا کام کون تمام کرے گا؟ حجاج نے کہا: اے امیرالمومنین! میں۔ عبدالملک نے اس کو چپ کروا دیا، اس نے اپنی بات پھر دہرائی، عبدالملک نے اس کو پھر خاموش کرا دیا۔ اس نے پھر دہرائی، عبدالملک نے پھر چپ کرا دیا، اس نے پھر کہا: اے امیرالمومنین! میں نے رات خواب میں دیکھا ہے گویا کہ میں نے ڈھال اتاری ہے اور پھر اس کو پہن لیا ہے، عبدالملک نے یہ ذمہ داری حجاج کو دے دی، اور اس کو ایک لشکر جرار دے کر مکہ مکرمہ (اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی حفاظت فرمائے) کی طرف روانہ کر دیا۔ حجاج نے لشکر کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کر دی، عبداللہ بن زبیر کے ساتھ بہت سخت جنگ ہوئی، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ سے کہا: ان دونوں پہاڑوں کی حفاظت کرو، کیونکہ جب تک وہ لوگ ان دونوں پہاڑوں کو فتح نہیں کر لیں گے، اس وقت تک یہ مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ حجاج اور اس کے ساتھی مسجد الحرام میں داخل ہو گئے، اگلے دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو وہاں شہید کر دیا گیا، اس دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی والدہ محترمہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اس وقت ان کی عمر 100 سال ہو چکی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی سماعت اور بصارت بالکل قائم تھی، اور نہ ہی ان کا کوئی دانت ٹوٹا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے جنگ کی صورت حال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حجاج کی فوجیں فلاں فلاں مقام تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن زبیر ہنس پڑے، اور کہا: بے شک موت میں راحت ہے۔ ان کی والدہ نے کہا: اے بیٹے میں نے یہ آرزو کی ہے کہ اس وقت تک مجھے موت نہ آئے جب تک دو کاموں میں سے ایک نہ دیکھ لوں۔ یا تو تم فتح یاب ہو جاؤ اور میری آنکھیں تمہاری فتح دیکھ کر ٹھنڈی ہو جائیں۔ یا تم قتل کر دیئے جاؤ، اور مجھے شہید کی ماں ہونے کا ثواب ملے۔ اس کے بعد ان کی والدہ نے ان کو الوداع کر دیا۔ اور رخصت کرتے ہوئے وصیت فرمائی کہ بیٹا! قتل کے خوف کی وجہ سے تمہاری کوئی بھی دینی خصلت میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے مل کر وہاں سے نکلے اور مسجد میں آ گئے، حجر اسود کے قریب دو قتل گاہیں بنائی گئی تھیں۔ صرف منجنیق نصب کرنے کی جگہ باقی بچی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ زمزم شریف کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر کہا: اگر آپ کہیں تو ہم کعبہ کا دروازہ تمہارے لئے کھول دیتے ہیں اور تم اس کے اوپر چڑھ جاؤ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: تم اپنے بھائی کو ہر چیز سے بچا سکتے ہو، لیکن موت سے نہیں بچا سکتے، کیا کعبہ شریف کی کوئی خاص حرمت ہے جو اس (زمزم) کے مقام میں نہیں ہے؟ (جب میں یہاں بیٹھا ہوا محفوظ نہیں ہوں تو یہ لوگ کعبہ کا کتنا لحاظ کریں گے؟) خدا کی قسم! اگر یہ لوگ تمہیں کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا پائیں گے تو تمہیں قتل کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ ان سے کسی نے کہا: آپ صلح کیوں نہیں کر لیتے؟ انہوں نے کہا: یہ صلح کا موقع ہی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اگر یہ لوگ تمہیں کعبہ کے اندر پائیں تب بھی تم سب کو ذبح کر دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ درج ذیل ہے) * میں عار کے بدلے زندگی خریدنے والا نہیں ہوں، اور نہ میں موت کے خوف سے سیڑھی پر چڑھوں گا۔ پھر آپ آل زبیر کی جانب متوجہ ہوئے اور ان کو سمجھانے لگے کہ ہر شخص کی تلوار اس کے سر کی طرح بلند رہنی چاہیے، ایسے نہ ہو کہ تمہاری تلواریں جھکا دی جائیں اور تم عورتوں کی طرح ہاتھوں کے ساتھ اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہو جاؤ، خدا کی قسم! میں نے جب بھی کسی جنگ میں شرکت کی ہے، ہمیشہ ہر اول دستے میں رہا ہوں۔ اور میں نے زخم بھی سہے ہیں اور زخموں کی دوا بھی کی ہے۔ راوی کہتے ہیں: ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک کمانڈر وہاں آ گیا اور اس کے ساتھ ستر آدمی مزید بھی تھے، ان میں سب سے آگے ایک حبشی تھا، وہ سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر سے لڑا، آپ نے تلوار کا وار کیا اور اس کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں۔ اس نے بدتمیزی سے سیدنا عبداللہ بن زبیر کو ” اے زانیہ کی اولاد “ کہہ کر گالی دی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر نے کہا: او سانڈھ کے بچے! سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو گالی مت دے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سب کو مسجد سے نکال دیا، اور خود دوبارہ مسجد میں آ گئے اور آپ نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو باب بنی سہم سے داخل ہو رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اردن کے لوگ ہیں۔ سیدنا عبداللہ نے مذکورہ بالا اشعار پڑھتے ہوئے ان پر بھی حملہ کر دیا اور ان کو مسجد سے نکال دیا۔ * میرے لیے کسی قسم کا کوئی عہد نہیں ہے، میں تو سیل رواں کی طرح ہوں اور یہ غبار رات سے پہلے چھٹنے کا نہیں ہے۔ ان کو بھی مسجد سے نکال دیا، پھر واپس آئے تو کچھ لوگ باب بنی مخزوم سے داخل ہو رہے تھے آپ نے ان پر بھی حملہ کیا، حملہ کرتے ہوئے آپ یہ اشعار پڑھ رہے تھے * اگر میرا مدمقابل ایک ایک کر کے آئے تو میں اس کو کافی ہوں اس کو موت کے گھاٹ اتار دوں اور اس کا صفایا کر دوں۔ راوی کہتے ہیں: مسجد کی چھت پر دشمن کی فوج کے وہ لوگ براجمان تھے جو اینٹوں اور پتھروں کے ساتھ حملہ کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ نے ان پر بھی حملہ کر دیا، انہوں نے سنگ باری شروع کر دی، ان میں سے ایک اینٹ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سر پر لگی جس کی وجہ سے آپ کا سر پھٹ گیا، آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہو کر یہ اشعار کہے * ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ ہماری ایڑھیوں پر ہمارا خون گرے، بلکہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا خون ان کے قدموں پر گرتا ہے۔ پھر آپ زمین پر گر گئے، آپ کے دو غلام آپ پر آ کر جھک گئے اور وہ کہہ رہے تھے ” غلام اپنے آقا کی حفاظت کرتا ہے اور محفوظ ہوتا ہے، پھر لشکر نے آپ پر چڑھائی کر دی گئی اور آپ کا سر قلم کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6475]
حدیث نمبر: 6476
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا زيادٌ الجَصَّاص، عن علي بن زيد، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عمر: انظُرْ إلى المكان الذي به ابنُ الزُّبير، فلا تمرَّ بي عليه، قال: فسَهَا الغلامُ، قال: فإذا ابنُ عمر يَنظُر إلى ابن الزُّبير مصلوبًا، فقال: يغفرُ الله لك ثلاثًا، أَمَا والله ما عَلِمتُك إلَّا كنتَ صوَّامًا قوَّامًا، وَصُولًا للرَّحِم، أما والله إني لَأرجو مع مَساوئ ما أصبتَ ألَّا يُعذِّبَك اللهُ بعدها أبدًا، ثم الْتَفتَ إليَّ فقال: سمعت أبا بكر الصِّدّيق يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ به في الدنيا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6340 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6340 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مجاہد کہتے ہیں: مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ جگہ دیکھنا جہاں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی دی گئی ہے۔ وہ وہاں گئے، انہوں نے کہا: لڑکا بھول گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی دے دی گئی تھی، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کو دیکھ رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی جانب دیکھ کر تین مرتبہ ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ اور کہا: اللہ کی قسم! تم روزہ دار، شب زندہ دار تھے، صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ خدا کی قسم! میں امید نہیں کرتا ہوں کہ جو تکلیف تم نے اس دنیا میں برداشت کر لی ہے، اس کے بعد اب آخرت میں تمہیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو برا عمل کرے اس کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6476]