🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

844. شَرَابُ ابْنِ الزُّبَيْرِ دَمَ النَّبِيِّ بَعْدَ احْتِجَامِهِ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے احتجام کے بعد خون پینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6480
أخبرني إبراهيم بن عِصْمَة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا الهُنَيد بن القاسم بن عبد الرحمن بن ماعِزٍ قال: سمعتُ عامرَ بنَ عبد الله بن الزُّبير يحدِّث، أنَّ أباه حدَّثه: أنه أَتى النبيَّ ﷺ وهو يَحتجِمُ، فلما فَرَغَ من حَجامتِه (2) قال:"يا عبدَ الله، اذهَبْ بهذا الدم فأَهرِقْه حيثُ لا يراكَ أحدٌ"، فلما بَرَرْتُ عن رسولَ الله ﷺ عَمَدت إلى الدم فحَسَوتُه، فلما رجعتُ إلى النبي ﷺ قال:"ما صنعتَ يا عبد الله؟" قال: جعلتُه في مكانٍ ظَنَنتُ أنه خافٍ على الناس، قال:"فلعلَّك شَرِبتَه؟" قلت: نعم، قال:"ومَن أمَرَك أن تشربَ الدمَ؟ وَيلٌ لك من الناس، ووَيلٌ للناسِ منك" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھنے لگوا (حجامہ کروا) رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے عبداللہ! اس خون کو لے جاؤ اور اسے ایسی جگہ بہا دو جہاں تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے،“ پس جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا تو میں نے اس خون کا قصد کیا اور اسے پی لیا، جب میں واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے عبداللہ! تم نے کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اسے ایسی جگہ چھپا دیا ہے جہاں میرا خیال ہے کہ وہ لوگوں سے پوشیدہ رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم نے اسے پی لیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تمہیں خون پینے کا کس نے حکم دیا تھا؟ تمہاری وجہ سے لوگوں کے لیے ہلاکت (آزمائش) ہے اور لوگوں کی وجہ سے تمہارے لیے ہلاکت ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6480]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة هنيد بن القاسم، فإنه لا يعرف روى عنه غير موسى بن إسماعيل التبوذكي، وذكره ابن حبان في "ثقاته" على عادته في ذكر المجهولين في هذا الكتاب واضطرب الهيثمي فيه فقال في موضع من "مجمع الزوائد" 1/ 28: مجهول، وفي موضع آخر 8/ 270: ثقة، وتساهل ابن حجر ...» [ترقيم الرساله 6480] [ترقيم الشركة 6404] [ترقيم العلميه 6343]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة هنيد بن القاسم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6481
حدثنا الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا محمد بن بحر الهُجَيمي، حدثنا سعيد بن سالم القَدَّاح، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبد الله بن الزُّبير قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"من قرأَ القرآنَ ظاهرًا أو نَظَرًا، أعطي شجرةً في الجنة لو أنَّ غُرابًا فرَّخَ تحت ورقةٍ منها، ثم طار ذلك الفرخُ، أدركه الهَرَمُ قبل أن يَقطَعَ تلك الورقة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6344 - محمد بن بحر الهجيمي منكر الحديث
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے قرآن کی تلاوت کی، خواہ وہ زبانی ہو یا دیکھ کر، اسے جنت میں ایک ایسا درخت عطا کیا جائے گا کہ اگر کوئی کوا اس کے ایک پتے کے نیچے بچہ نکالے، پھر وہ بچہ اڑنا شروع کرے تو اس پتے کی مسافت ختم کرنے سے پہلے وہ بچہ بوڑھا ہو جائے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6481]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة من أجل محمد بن بحر الهجيمي، فقد قال العقيلي في "الضعفاء": منكر الحديث كثير الوهم، وقال ابن حبان في "المجروحين": سقط الاحتجاج به، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": منكر الحديث.» [ترقيم الرساله 6481] [ترقيم الشركة 6405] [ترقيم العلميه 6344]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بمرّة من أجل محمد بن بحر الهجيمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں